Friday, October 14, 2016

SAHIH SANAD KEE BAWAJUD HADEES PER AMAL NAHI




صحتِ سند کے باوجود حدیث کے ناقابل عمل ہونے کی صورتیں:

صحتِ سند کے باوجود حدیثیں بسااوقات ناقابل عمل ہوتی ہیں، یعنی اصول روایت کی روشنی میں تووہ حدیث راوی کے عادل اور صادق ہونے اور جمیع شروطِ صحت کوجامع ہونے کی وجہ سے بالکل صحیح ہوتی ہیں؛ لیکن اصولِ درایت کی روشنی میں وہ حدیث بچند وجوہ درست نہیں ہوتی۔
جب کوئی ثقہ اور مامون شخص متصل سند سے کوئی حدیث روایت کرے تودرجِ ذیل صورتوں میں ناقابل قبول شمارکی جائے گی:
1۔حدیث کا خلافِ عقل ہونا:
پہلی صورت یہ ہے کہ حدیث موجباتِ عقلیہ یعنی عقلِ سلیم جس بات کوضروری قرار دے رہی ہو یہ حدیث اس کے خلاف ہوتورد کردی جائے گی؛ چونکہ شریعت ممکناتِ عقلیہ کوبیان کرتی ہے محالات کونہیں، مثلاً حدیث:
یعنی زنا سے پیدا ہونے والی اولاد زانی، مزنیہ اور ولد تینوں میں بدترین ہے۔ (مستدرک، كتاب العتق،حدیث نمبر:۲۸۵۳، شاملہ، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت)
اِس حدیث کوحاکم نیساپوری نے مستدرک:۳۱/۱۱۲، میں روایت کرکے اس کوصحیح کہا ہے اور حافظ ذھبی رحمہ اللہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت کی ہے؛ مگرحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس حدیث کوعقل کی کسوٹی پرپرکھتے ہوئے رد فرمارہے ہیں، فرماتے ہیں:ترجمہ:اگریہ تینوں میں بدترین ہوتا تواس کی ماں کورجم کیئے جانے میں اتنی مہلت نہ دی جاتی کہ وہ اسے جن لے۔ (سیراعلام النبلاء:۴/۳۰۰، شاملہ،موقع یعسوب)

2۔ قرآن کے خلاف ہونا
دوسری صورت یہ کہ وہ حدیث قرآن کریم کی کسی آیت سے معارض ہوتو سمجھا جائے گا کہ اس حدیث کی یاتوکوئی بنیادہی نہیں ہے یاپھروہ منسوخ ہے یامؤوّل ہے، مثلاً حدیث:ترجمہ:کہ زنا کی اولاد سات نسل تک جنت میں نہیں جائیگی۔ (اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:۲/۱۶۴،شاملہ، المؤلف:جلال الدين السیوطی،الناشر:دارالكتب العليمة)
یہ حدیث قرآنِ کریم کی آیت:ترجمہ:اورکوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی اور کابوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ (الانعام:۱۶۴) کے صریح معارض ہے؟ اس لیے علماءِ امت نے اس کوموضوع قرار دیا ہے۔

3۔سنتِ مشہورہ کے خلاف ہونا
تیسری صورت یہ ہے کہ وہ حدیث کسی سنتِ مشہورہ سے معارض ہورہی ہوتویہ سمجھا جائے گا کہ وہ حدیث یاتومنسوخ ہے یامؤول ہے یاغیرثابت ہے،مثلاً:ترجمہ:اگرجنابت کی حالت میں کسی کی صبح ہوجائے تواس دن وہ شخص روزہ نہ رکھے، اِس کا روزہ نہیں ہوگا۔(مسنداحمدبن حنبل،مسند أبي هريرة رضي الله عنه،حدیث نمبر:۸۱۳۰، صفحہ نمبر:۲/۳۱۴، شاملہ، الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت منقول ہے علامہ بوصیریؒ نے الزوائد میں اس کی سند کوصحیح اور رجال کوثقہ کہا ہے؛ لیکن جمہور نے اس حدیث کوسنتِ مشہورہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے ترک کردیا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اورام المؤمنین ام سلمہؓ سے کثیر طرق سے اس مضمون کی حدیثیں مروی ہیں کہ خود رسول اللہﷺ کی اس حال میں صبح ہوتی تھی اور آپﷺ غسل فرماکر نمازِ فجرپڑھانے کے لیے برآمد ہوتے تھے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے تھے۔(شرح معانی الآثار للامام الطحاوی، باب الرجل یصبح فی یوم من شھر رمضان جنبا ھل یصوم أم لا؟، شاملہ، موقع الإسلام)

4۔ اجماع کے خلاف ہونا

چوتھی صورت یہ ہے کہ وہ حدیث اجماع کے خلاف ہو جس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ یاتومنسوخ ہے یااس کی کوئی بنیاد نہیں ہے یااس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں؛ بلکہ اس میں ایک قسم کی تاویل ہے؛ چونکہ اگروہ حدیث واقعتاً ثابت ہو اور منسوخ یامؤول بھی نہ ہوتوممکن ہی نہیں کہ امت اس کے خلاف پرمتفق ہوجائے مثلاً حدیث:ترجمہ:کہ شراب پینے والے کوکوڑے لگاؤ؛ اگرپھربھی باز نہ آئے توچوتھی مرتبہ میں اسے قتل کردو۔ (ترمذی، کتاب الحدود عن رسول اللہﷺ ، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوہ ومن عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ، حدیث نمبر:۱۳۶۴، شاملہ، موقع الإسلام)
امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کونقل کرنے کے بعد فرمایا، شروع میں حکم ایسے ہی تھا؛ پھربعد میں منسوخ ہوگیا، محمدبن اسحاق نے محمدبن منکدر کے واسطہ سے حضرت جابر کی حدیث نقل کی ہے، فرماتے ہیں، حضوراکرمؐ نے فرمایا تھا کہ جوشخص شراب پئے اسے کوڑے لگاؤ؛ اگرچوتھی بار پی لے تواسے قتل کردو؛ پھراس کے بعد ایک شخص آپ کے پاس لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی توآپ نے پٹائی کرکے اُسے چھوڑدیا، قتل نہیں فرمایا، حضرت قبیصہ بن ذویب سے بھی یہی مضمون منقول ہے، اس کے بعد امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَانَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ (ترجمہ:چوتھی مرتبہ شراب پینے والے کوقتل نہ کرے) پرتمام اہلِ علم کا عمل ہے اس سلسلہ میں متقدمین ومتأخرین میں سے کسی کااختلاف ہمارے علم میں نہیں ہے۔
5۔ حدیث کا شاذہونا
پانچویں صورت یہ ہے کہ کوئی ایک شخص کسی ایسی بات کے روایت کرنے میں منفرد ہو جس کا علم تمام یااکثرلوگوں کوہونا چاہیے تھا؛ پھربھی ایک ہی شخص کا روایت کرنا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ اس کی سرے سے کوئی اصل نہیں ہے؛ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی کوئی اصل ہواور بے شمار لوگوں میں سے صرف اسی کومعلوم ہو، فقہائےکرام اس طرح کی احادیث کوشاذ سے تعبیر کرتے ہیں، حدیث قلتین، جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ ہیں کہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا: ترجمہ:پانی جب دوقلہ (دومٹکوں کے بقدر) ہوجائے تواس میں ناپاکی سرایت نہیں کرتی یعنی وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ (ترمذی، كِتَاب الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مِنْهُ آخَرُ،حدیث نمبر:۶۲،شاملہ، موقع الإسلام)
یہ حدیث گرچہ متعدد سندوں سے مروی ہے؛ لیکن تمام کامرجع دوسندیں ہیں، ایک سند ولید بن کثیر، عن محمد بن جعفر بن الزبیر عن عبداللہ بن عبداللہ عن ابن عمر اور دوسری سند الولید بن کثیر عن محمد بن عباد بن جعفر عن عبیداللہ بن عبداللہ عن ابن عمر ہے اور اس میں روایت کا اختلاف ہے؛ اسی وجہ سے بعض ناقدین نے اسپراضطراب کا حکم لگایا ہے، حافظ ابنِ قیمؒ نے تہذیب سنن ابی داؤد، صفحہ نمبر:۱/۶۲ پرکئی نقد کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے، جہاں تک شذود کا تعلق ہے تویہ حدیث حلال وحرام اور طاہروناپاک کے درمیان ایک ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے، پانی کی طہارت ونجاست کے تعلق سے اسکا وہی مقام ہے جوزکوٰۃ میں مالوں کے نصاب اور وسق وغیرہ کی ہے؛ پھرکیوں یہ حدیث صحابہؓ کے درمیان معروف نہیں ہوئی کیوں امت کواس حدیث کوجاننے کی زکوٰۃ کے نصاب کوجاننے سے زیادہ ضرورت تھی؛ چونکہ پاکی وناپاکی سے یہ امیروغریب کوواسطہ پڑتا ہے، اس کے مقابل زکوٰۃ کے نصاب وغیرہ کی جانکاری صاحب نصاب کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
صرف اُس روایت کو حضرت ابن عمرؓ سے ان کے صاحبزادے عبداللہ اس روایت کونقل کرتے ہیں، ان کے دیگر تلامذہ نافع، سالم، ایوب اور سعید بن جبیر وغیرہ کہاں گئےاتنی اہمیت کی حامل حدیث جوپاکی وناپاکی کے درمیان ایک ضابطہ اور رابطہ کی حیثیت رکھتی ہے اس کو اہلِ مدینہ کے درمیان خوب چرچا ہونا چاہیے تھا، اس سے پتہ چلا کہ حضرت عمرؓ کے پاس کوئی ایسی سنت سرے سے تھی ہی نہیں۔

6۔ حدیث کا کسی ایسے مسئلہ سے متعلق ہونا جوتواتر کا متقاضی ہو

چھٹی صورت یہ ہے کہ کوئی ایک شخص کسی ایسی بات کے نقل کرنے میں منفرد ہو جس کوبطریق تواتر منقول ہونا چاہیے تھا اور اس جیسی بات عادتا تواتر کے ساتھ ہی منقول ہوا کرتی ہے؛ چنانچہ اس منفرد شخص کی یہ حدیث قبول نہیں کی جائیگی؛ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس جیسے قضیہ میں صرف یہی شخص روایت کرے، مثلاً: وہ حدیث عقائد کے باب سے تعلق رکھتی ہو، یاکسی کلام کوقرآن کی آیت بتلاتی ہو جس کا آیت ہونا تواتر سے منقول نہ ہو؛ چنانچہ قرأت شاذہ کوقرآن کا درجہ نہیں دیا جاسکتا؛ خواہ ان کی روایت صحیح اور متصل سند ہی کیوں نہ ہو۔

حدیث کی تقویت میں اصولِ درایت کا اثر

مذکورہ بالا امور سے حدیث کا ناقابل عمل یامرجوح ہونا معلوم ہوتا ہے، جب کہ کچھ قرائن اور دلائل ایسے بھی ہوتے ہیں جواصولِ درایت کی روشنی میں غیرمقبول حدیث کومقبول اور قابل عمل بنادیتے ہیں؛ چنانچہ خطیب بغدادی اپنی کتاب الکفایہ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ:پہلی قسم جس سے حدیث کی صحت کا علم ہوتا ہے، اس کی جانکاری کی راہ ہے اگروہ روایت متواتر نہ ہو کہ جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے کہ وہ روایت مقتضائے عقل کے مطابق ہو، کبھی اس کی صحت یوں معلوم ہوتی ہے کہ وہ خبرنص قرآنی یاسنت مشہورہ کے مطابق ہو یاامت نے اس روایت کودرست گردانا ہو اور اس پرعمل درآمد کیا جاتا رہا ہو۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ،باب الكلام في الاخبار وتقسيمها:۱/۱۷،شاملہ،الناشر: المكتبة العلمية،المدينة المنورة)

مطلب یہ ہے کہ گرچہ حدیث اخبارِ آحاد سے تعلق رکھتی ہولیکن اس کے ساتھ وہ مقتضائے عقل کے مطابق ہو یانص قرآنی کے موافق ہو، یاسنتِ متواترہ کے موافق ہو، یاامت کا اس کے مطابق اجماع ہو، یاعمومی طور پراس حدیث کولوگوں نے قبولیت کے ہاتھوں لیا ہو اور اس کے تقاضے پر عمل کیا ہو یہ تمام قرائن اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ گرچہ اصولِ روایت کے مطابق اس میں کچھ خلل اورکمزوری کیوں نہ ہو۔

مجموعی گفتگو سے پتہ چلا کہ علمائے امت نے جس طرح اصولِ روایت کواپناکر حدیث کے سلسلہ اسناد کے احوال کومعلوم کیا ہے اسی طرح اصولِ درایت پر، پرکھ کراسکے متن کے قابل عمل یاناقابل عمل ہونے کا پتہ بھی چلایا ہے۔

جاری ہے
 فوزیہ جوگن نواز 

Asma' al-Rijal ( biographical evaluation )





یہ علم راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہے، اس کے ذریعہ ائمہ حدیث نے مراتب روات اور احادیث کی قوت وضعف کا پتہ لگایاہے۔

نقدِ اسناد کے مراحل

نقدِ اسناد کے لیے باحث کوپانچ مراحل سے گزرناپڑے گا:

١. نقدِ اسناد کے لیے جوبات سب سے پہلے پیشِ نظر رکھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ رجال اسناد کی تعیین وتشخیص کرلی جائے؛ کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے ایک ہی طبقے کے راویوں کے نام، کنیت اور ان کی نسبت کبھی ایک ہوتی ہے، جس کی بناء پران کے درمیان امتیاز کرنا دشوار ہوجاتا ہے، اس کے لیے کتبِ رجال کی مدد لی جائے گی؛ پھراس راوی کے شیخ یاشاگرد وغیرہ کے احوال کے ذریعہ اس راوی کی تشخیص کی جائے گی، اس کے بعدیہ معلوم ہوکہ یہ کتب ستہ کا راوی یاضعیف راوی یااس کا تعلق کسی خاص شہر سے یاخاص طبقہ سے تومتعلقہ فنون کی کتاب سے؛ ورنہ عام کتب رجال کے ذریعہ جوحروف معجم پرترتیب دی گئی ہیں راوی کی تشخیص وتعیین کی جائے گی۔

٢. دوسرے رجالِ اسناد کی عدالت اور ضبط کی تحقیق کا مرحلہ ہے؛ چونکہ کسی بھی حدیث کے اصطلاحی اعتبار سے صحیح ہونے کے لیے اس میں پانچ شرطوں کا متحقق ہونا ضروری ہوتا ہے:(۱)راوی کا عادل ہونا (۲)راوی کا ضابط یعنی حدیث کو محفوظ رکھنے والا ہونا (۳)اسی طرح راوی اور اس کے شیخ اور راوی اُس کے شاگرد کے درمیان سند کا متصل ہونا (۴)حدیث کا شذوذ سے محفوظ ہونا (۵)حدیث کا کسی باطنی علت سے محفوظ ہونا۔

راوی کے عادل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ راوی مسلمان، عاقل، بالغ ہو، فسق اور انسانی شرافت کے خلاف امور اور بدعات سے اجتناب وپرہیز کرتا ہو۔
ضابط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کوجیسے سنی تھی بغیر کسی کمی زیادتی کے ویسے ادا کرے؛ خواہ سینے میں محفوظ کرے یاسفینے (نوشتہ) میں، جس راوی میں یہ دونوں اوصاف جس کمال درجہ کے ہوں گے وہ اسی قدر ثقہ درجہ کا حامل ہوگا۔راوی کے اوصاف پر ایک نہایت جامع اور وجیز (وجیز کہتے ہیں جلدی سے سمجھ میں آنے والےمختصر کلام کو) بحث پیش ہے۔

"
راوی کے وہ تمام اوصاف جوبلحاظ روایت اس کی قبولیت کا معیار بن سکتے ہیں دواصولی صفات کی طرف راجع ہوتے ہیں، عدالت اور ضبط؛ اگرروایت کے راوی عادل ہوں جن میں عدالت کا فقدان یانقصان نہ ہو اور ادھر وہ ضابط ہوں جن میں حفظ وضبط اور تیقظ وبیداری کانقصان وفقدان نہ ہو اور قلت عدالت وضبط سے جوکمزوریاں راوی کولاحق ہوتی ہیں ان سے راوی پاک ہوں اور ساتھ ہی سندمسلسل اور متصل ہو تووہ روایت صحیح لذاتہ کہلائے گی، جواوصاف راوی کے لحاظ سے روایت کااعلی مرتبہ ہے؛ کیونکہ اس میں عدالت وضبط مکمل طریق پر موجود ہے، جوراویوں کوثقہ اور معتبر ثابت کرتا ہے؛ اس لیے اس دائرہ میں حدیث کی یہ قسم بنیادی اور اساسی کہلائے گی، اس کے بعدجوقسم بھی پیدا ہوگی وہ ان اوصاف کی کمی بیشی اور نقصان یافقدان سے پیدا ہوگی، اس لیے وہ اسی خبر کی فرع کہلائے گی، مثلاً اگرراوی ساقط العدالت ہوتو اس نقصانِ عدالت یافقدانِ عدالت سے پانچ اُصولی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں؛ جنھیں مطاعن حدیث کہا جاتا ہے:
(
۱)کذب (۲)تہمت کذب (۳)فسق (۴)جہالت (۵)بدعت: یعنی راوی کاذب ہویاکذب کی تہمت لیئے ہوئے ہو یافاسق ہو یاجاہل ونادان ہو یابدعتی ہو توکہا جائے گا کہ وہ عادل نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں؛ اسی طرح اگرراوی ضابط نہ ہوتو اس نقصان حفظ یافقدانِ حافظہ سے بھی پانچ ہی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں 

جوروایت کوبے اعتبار بنادیتی ہیں:

(
۱)فرطِ غفلت (۲)کثرتِ غلط (۳)مخالفتِ ثقات (۴)وہم (۵)سوء حفظ: یعنی راوی غفلت شعار اورلااُبالی ہو، جس میں تیقظ اور احتیاط اور بیدار مغزی نہ ہو یاکثیرالاغلاط ہو یاثقہ لوگوں سے الگ نئی اور مخالف بات کہتا ہو یاوہمی ہو اسے خود ہی اپنی روایت میں شبہ پڑجاتا ہو یاحافظہ خراب ہو، بات بھول جاتا ہو توکہا جائے گا کہ یہ راوی ضبط وحفظ میں مضبوط نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کچھ اعتبار نہیں؛ لیکن اس نقصانِ عدالت وضبط یاان دس مطاعن کے درجات ومراتب ہیں؛ اگران صفاتِ عدل وضبط میں کوئی معمولی سی کمی ہو؛ مگرروایت کے اور طریقوں اور سندوں کی کثرت سے ان کی کمزوریوں کی تلافی ہوجائے تواس حدیث کوصحیح لغیرہ کہیں گے؛ اگریہ تلافی اور جبر نقصان نہ ہو اور وہ معمولی کمزوریاں بدستور قائم رہ جائیں توحدیث حسن لذاتہ کہلائے گی؛ اگراس حالت میں بھی کثرتِ طرق سے تلافیٔ نقصان ہوجائے توحدیث حسن لغیرہ کہلائے گی اور اسی نسبت سے اُن کے اعتبار اور حجیت کا درجہ قائم ہوگا؛ پس اوصاف رواۃ کے لحاظ سے حدیث کی چار اساسی قسمیں نکل آئیں:
(١.)صحیح لذاتہ (۲)صحیح لغیرہ (۳)حسن لذاتہ (۴)حسن لغیرہ اور ان میں بھی بنیادی قسم صرف صحیح لذاتہ ہے جواپنے دائرہ میں سب سے اُونچی قسم ہے"۔
(فضل الباری، مولانا شبیراحمدعثمانیؒ:۱/۹۸۔ مقدمہ ، از مولانا قاری محمدطیب صاحبؒ)

٣. تیسرے مرحلہ میں ہمیں یہ تحقیق کرنا ہوگا کہ راوی کا اس کے شیخ سے سماع ثابت ہے یانہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سند کے اتصال کا پتہ چل سکے، حدثنا، اخبرنا اور سمعت وغیرہ کے صیغے صراحتہ سماع پر دلالت کرتے ہیں، اس سے سند کے اتصال کا ثبوت ہوجائے گا، عَنْ وغیرہ سے روایت کرنے کی صورت میں اگرراوی معتمد ہے توکوئی بات نہیں؛ ورنہ کتبِ رجال کی مراجعت سے راوی اور شیخ کے درمیان سماع وعدمِ سماع کا ثبوت ہوجائے گا۔

٤. اس کے بعد چوتھا مرحلہ حدیث پرحکم لگانے کا ہے کہ راوی کی عدالت وضبط اور سند کے اتصال وغیرہ کی جانچ کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ روایت صحیح درجہ کی ہے یاحسن کی یایہ حدیث ضعیف یاموضوع وغیرہ ہے،؟

حدیث پر احکام کے نفاد کا طریقہ:

اس کے لیے حافظ ابنِ حجرؒ نے تقریب التہذیب میں جوروات کی درجہ بندی کی ہے، ثقہ وضعیف ہونے کے اعتبار سے درجات قائم کیے ہیں، اِن الفاظِ جرح وتعدیل کوپیشِ نظر رکھ کرحدیث پراحکام کے نافذ کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے اور کتب ستہ اور ان جیسی کتابوں کے روات کی درجہ بندی کی گئی ہے وہ درج ذیل ہے:
۱۔پہلےدرجہ کو حافظ نے صحابہ کرامؓ کے لیے مختص کیا ہے کہ ان کی تحقیق یاتفتیش کی کوئی ضرورت نہیں یہ بالکل اس سے ماوراء ہیں۔

۲۔دوسرادرجہ ان لوگوں کے لیے مختص کیا ہے جوعلماء جرح وتعدیل اور ائمہ نقد کی حیثیت رکھتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ أوثق الناس، ثقۃ ثقۃ ثقۃ متقن جیسے مبالغہ کے صیغے یاتاکیدی تعبیر استعمال کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کی حدیث نمبر ایک کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۳۔تیسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جن کوثقہ کہنے پردوسرے لوگ یعنی ائمہ جرح وتعدیل متفق ہوں؛ چنانچہ ان لوگوں کوحافظ صاحبؒ ثقۃ، متقن، حجۃ، حافظ، ثبت وغیرہ بغیرتکرار کے صیغوں کا استعمال کرتے ہیں؛ انھیں لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں، جن کے صحابی ہونے میں اختلاف ہوا ہے۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبردو کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۴۔چوتھا مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے ثقہ کہنے پردوسرے درجہ کے ائمہ جرح وتعدیل تقریباً متفق ہوتے ہیں، کسی ایک دو نے اختلاف کیا ہوا ہوتا ہے، اس اختلاف کے پیشِ نظر حافظ صاحب انھیں کچھ ہلکی تعبیر سے موسوم کرتے ہیں صدوق، لاباس بہ، لیس بہ بأس۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر تین کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۵۔پانچواں درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل نے اختلاف کیا ہوا ہے، بعض توثیق اور بعض تضعیف کرتے ہیں، تضعیف کی بھی کوئی بنیاد ہوتی ہے، ایسے لوگوں کوحافظ صاحب صدوق یھم، صدوق یخطئی، صدوق لہ أوھام، صدوق یخطیٔ کثیراً جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر ایک کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۶۔چھٹا مرتبہ ان رجال کے لیے ہے جوقلیل الحدیث ہوتے ہیں (یعنی ان کی احادیث ایک سے دس کے درمیان ہوتی ہے) اور ان پرکوئی ایسی جرح بھی نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے ان کی احادیث چھوڑی جائیں؛ اگرایسے لوگوں کوکوئی متابعت مل جاتی ہے توان کوحافظ صاحب مقبول اور جن کی متابعت نہیں کی گئی ہوتی ہے ان کو لین الحدیث کہتے ہیں۔ اس مرتبہ میں دوشقیں ہیں مقبول اور لین الحدیث مقبول کی حدیث نمبردوکی حسن لذاتہ ہوتی ہے اورلین الحدیث کی نمبر تین کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۷ ۔ساتواں مرتبہ ان لوگوں کے لیے جن سے روایت کرنے والے ایک سے زائد ہوتے ہیں؛ مگران کی توثیق کسی نے نہیں کی ہوتی، ایسے لوگوں کو حافظ صاحب مستور، مجھول الحال، لایعرف حالہ سے تعبیر کرتے ہیں، اس مرتبہ میں حافظ صاحب نے عموماً ان لوگوں کوشامل کیا ہے جن کوامام بخاریؒ نے اپنی تاریخ اور ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہوتا ہے اور وہ تابعین سے نیچے کے طبقے کے ہوتے ہیں، یااُن کے تعلق ابن ابی حاتم، ابن مدینی اورابن القطان نے مجہول کہا ہوتا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ مجہول العین اور مجہول الحال دونوں پر مجہول کا اطلاق کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی احادیث کے بارے میں توقف کیا جائے؛ تاآنکہ ان کا حل واضح ہوجائے؛ بایں طور کہ اس کا کوئی متابع یاشاہد مل جائے؛ لہٰذا یہ حدیث حسن لغیرہ کی نمبر ایک شمار ہوگی۔

۸۔اٹھواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق کسی امام معتبر کی توثیق نہیں ہوئی ہے؛ بلکہ ائمہ جرح وتعدیل کی جانب اس کے ضعیف ہونے کا اطلاق موجود ہوتا ہے، یہ تضعیف مبہم ہی کیوں نہ ہو؛ اُن کوحافظضعیف، لیس بالقوی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کی حدیث ضعیف کہلاتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے اس وقت یہ نمبردو کی حسن لغیرہ ہوگی۔

۹۔نواں درجہ ان رجال کا ہے جن سے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہوتا ہے اوران کی کسی نے توثیق نہیں کی ہوتی ہے، دراصل یہ لوگ اصحابِ حدیث ہوتے ہی نہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث بھی ضعیف ہوتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے؛ مگریہ نمبرتین کی حسن لغیرہ ہوتی ہے

۱۰۔یہ درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل نے سخت جرحیں کی ہوئی ہیں؛ یہاں تک کہ ان کے حدیث کے لکھنے یاان سے روایت کرنے سے بھی منع کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو حافظ متروک کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث ضعیف جدا (بہت ضعیف) کہلاتی ہے۔
۱۱۔گیارہواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جوکذب کے ساتھ متہم ہوتے ہیں، یعنی حدیثِ رسول میں توان کا کذب ثابت نہیں ہوتا؛ البتہ عام بول چال میں وہ دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ متھم بالکذب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث متروک کہی جاتی ہے۔

۱۲۔یہ ان بدبختوں کا درجہ ہے جوحدیثِ رسولﷺ میں جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں؛ چنانچہ حافظ ان کووضاع یا کذاب کہتے ہیں۔ ان کی روایات موضوعات واباطیل کہلاتی ہیں؛ اگرایسا شخص توبہ بھی کرے توتوبہ کےبعد بھی اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی۔

حافظ ابنِ حجرؒ کی مذکورہ بالا ترتیب کوپیشِ نظر رکھ کر اسی کے مطابق حکم لگایا جاسکتا ہے، مثلاً اگرسند کے تمام روات دوسرے، یاتیسرے، یاچوتھے مرتبہ سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ صحیح اس کی سند صحیح ہے اور اگرسند میں کوئی راوی پانچویں یاچھٹے مرتبہ کا ہے توآپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ حسن اس کی سند حسن ہےاور اگرسند میں کوئی راوی ساتویں یاآٹھویں مرتبہ کا ہے تو آپ کہیں گے اسنادہ ضعیف اس کی سند ضعیف ہے؛ اگر سند میں کوئی راوی دسویں مرتبہ کا ہے توآپ کہیں گے اسنادہ ضعیف جداً اس کی سند بہت ضعیف ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی گیارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ متروک اس کی سند متروک ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی بارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ موضوع۔

اس سے پتہ چلا کہ نتیجہ ہمیشہ کمزور کے تابع ہوتا ہے؛ پھراگر پانچویں اور چھٹے مرتبہ والے راویوں کوان ہی جیسا یااُن سے اچھے روات کی متابعت مل جائے توان پربھی صحیح کا حکم لگایا جائے گا، یہ صحیح لغیرہ ہوگی؛ اگرساتویں آٹھویں اور نویں مرتبہ والوں کومتابعت مل جائے تواُن کی سند ضعیف سے اٹھکر حسن لغیرہ کوپہونچ جائے گی؛ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے اسنادہ حسن۔

دسویں سے لےکر بارہویں مرتبہ تک کے لوگوں کوتعدد طرق سے کوئی فائدہ نہیں پہونچتا، ان کی سند میں کوئی قوت نہیں ہوتی؛ اگر راوی کےذکرتقریب التہذیب میں (جو کہ کتب ستہ اور اس کے بعض ملحقات کے راویوں کی درجہ بندی پرمشتمل ہے ) نہ ہوتو پھرکتبِ رجال سے اس راوی کے احوال کونکال کروہ راوی حافظ کےقائم کردہ مراتب میں سے جس مرتبہ سے میل کھاتا ہواس کے مطابق اس راوی کے حدیث کا درجہ متعین کیا جائے گا۔

 ٥. پانچواں مرحلہ حدیث کا شذوذ اور علت سے محفوظ ہونے کا ہے۔شدوذ کہتے ہیں کہ کوئی ثقہ راوی اپنی روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ یااپنے جیسے یااپنے سے فروتر متعدد ثقات کی حدیث کی مخالفت کرے اور علت سے مراد یہ ہے کہ سند کے بظاہر صحیح ہونے کے باوجود اس میں باطنی طور سے کوئی ایسی علت ہو جوحدیث کوناقابل قبول بناتی ہو، یہ علت کبھی سند میں ہوتی ہے اور کبھی متن میں اور کبھی دونوں میں، شذوذبھی درحقیقت علت ہی کی ایک صورت ہے، علت کی شناخت ہونے کے بعد اس کی مختلف صورتیں ملتی ہیں، جن کوالگ الگ نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے، مثلاً شاذ، منکر، مرسل خفی، مزید فی متصل الاسانید، مقلوب، مصحف، مدرج، مضطرب وغیرہ اور کچھ ایسی صورتیں بنتی ہیں جن کوکوئی نام نہیں دیاجاسکتا، علماءِ علل کا ضمیر اس کے معلول ہونے کی گواہی دیتا ہے؛ مگروہ اس کی نوعیت بیان نہیں کرسکتے، علت کی شناخت دشوار گزار کام ہوتا ہے علمِ علل کا موضوع ثقہ محدثین کی روایات ہوتی ہیں، ثقہ کی حدیث عموماً صحیح ہوتی ہے، اس میں وہم کا پکڑنا ماہرینِ علل کا ہی کام ہوسکتا ہے، ہرکس وناکس کے بس کی یہ چیز نہیں، بس احادیث کی علت وغیرہ کوجاننے کے لیے ان کتابوں سے رجوع کیا جائے گا جنہیں اس فن کے ماہر علماء نے لکھا ہے، اس طرح کی احادیث کا سب سے بڑا مجموعہ امام دارِقطنی (۳۸۵ھ) کی کتاب العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویۃ ہے اس کی ترتیب مسانید صحابہ پر ہے۔

اس کے علاوہ اس فن کی اہم ترین کتاب ابن ابی حاتم کی علل الحدیث ہے جس میں فقہی ترتیب پراحادیث کوجمع کیا گیا ہے، اس میں ابن ابی حاتم نے اپنے والد ابوحاتم رازی اور ماموں ابوزرعہ راوی سے پوچھ کراحادیث کی علتوں کوجمع کیا ہے۔تیسری بہت اہم کتاب امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر ہے جس کوقاضی ابوطالب نے جامع ترمذی کے ابواب پرمرتب کردیا ہے، اس میں امام ترمذی خود بھی علتیں بیان کرتے ہیں اور عموماً امام بخاریؒ اور امام دارمی کے حوالہ سے علتیں بیان کرتے ہیں؛ اس کے علاوہ امام احمد کی کتاب العلل امام بخاری کیالتاریخ الکبیر ابوبکر بزار کی المسند المعلل اور طبرانی کی المعجم الأوسط وغیرہ کی بھی مراجعت کرلینی چاہئے، اس بارے میں نصب الرایہ للزیلعی اور التلخیص الحبیر لابن حجر وغیرہ کوبھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

یہ مختصرقواعدِ حدیث ہروقت ذہن میں رہنے چاہئیں، انسانی بساط اور عام بشری سوچ کے تحت جواحتیاطی تدابیر ہوسکتی تھیں وہ محدثین کرام نے طے کیں اور یہ اصول بھی تقریباً استقرائی ہیں جوائمہ فن نے قواعدِ شریعت کی روشنی میں طے کیئے ہیں، ان میں کئی پہلو اختلافی بھی ہیں، جن میں ائمہ کی رائے مختلف رہی ہے؛ لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تنقید کے بنیادی اصولوں میں سب ائمہ فن متفق رہے ہیں؛ بلکہ بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے تحقیق روایات اور تنقیح اسناد میں دنیا کو ایک نئے علم سے آشنا کیا اور وہ اصول بتائے جن کی روشنی میں پچھلے پہلووں کی باتوں کے جائز طور پر وارث ہوسکیں اور اُن کی صحت پر پوری طرح سے اعتماد کیا جاسکے۔


Monday, September 26, 2016

AITRAZ : OONTNI KE PESHAB AUR DOODH MILA KAR PINEWALI HADEES



اونٹنی کا پیشاب اور دودھ ملا کر پینے والی حدیث پر ملحدین کی چولیں اور حقیقت؟؟؟



__---__----___---__----__----__----___----__---___----__---_--

میرے نزدیک استاد کی تعریف یہی ہے کہ جس نے مجھے دین کی ایک بات بھی سکھا دی، وہ میری نگاہ میں میرا استاد ہی ہے۔
مذکورہ حدیث جو آیندہ سطروں میں بیان کی جائے گی، یہ معترضین اسلام کا ایک آزمودہ ہتھیار ہے، جس سے وہ مجھ جیسے سبھی کم علم مسلمانوں کو ایک ہی جست میں دفاعی لائن پہ دھکیل دیتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ ہماری ان تحاریر تک نارسائی ہے، جو اس حوالے اساتذہ کرام نے پچھلے کئی سو سال میں کئی سو بار لکھیں۔ لیکن جن لوگوں تک پہنچیں، انہوں نے اسے عام کرنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔
خیر۔ ہمیشہ کی طرح اساتذہ کی تحاریر سے اقتباسات اکھٹے کرنے کا آغاز میں اصل حدیث پیش کرکے کرنا چاہوں گی۔ ملاحظہ ہو:

عن أنس أن ناساًاجتووا فی المدینۃ فأمرھم النبی أن یلحقوا براعیہ ۔یعنی الابلفیشربومن ألبانھا وأبوالھا فلحقوا براعیہ فشربوامن ألبانھا وأبوالھاحتٰی صلحت أبدانھم (صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بأبوال الإ بل رقم الحدیث 5686)

ترجمہ:
قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مدینے کی آب وہواموافق نہ آنے پر وہ لوگ بیمار ہوگئے (ان کو استسقاء یعنی پیٹ میں یا پھیپھڑوں میں پانی بھرنے والی بیماری ہوگئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملاکر پینے کی دوا تجویز فرمائی ۔یہاں تک کہ اسے پی کروہ لوگ تندرست ہوگئے۔

جب بھی یہ حدیث کسی مسلمان کے سامنے کسی ایسے فورم پر پیش کی جاتی ہے، جو بنا ہی اسلام پر تنقید کرنے کے لیے ہے، تو اس کے ساتھ بہت سے تضحیک آمیز الفاظ بھی جزو لازم کی طرح ضرور ہوتے ہیں۔ نتیجتاً بہت سے ناواقف مسلمان پہلے تو اسے حدیث ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ اور جب بخاری شریف سے ہی یہ حدیث نکال کر پیش کردی جاتی ہے تو اکثر بہن بھائی حدیث کی سب سے مستند کتاب سے ہی بدظن ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے، عشق مصطفی ﷺ تقاضا بھی یہی کرتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی ذات بابرکات و کمالات میں کوئی عیب تصور بھی نہ کیا جائے، تسلیم کرنا تو بڑی دور کی بات ہے۔

لیکن کیا یہ واقعی کوئی عیب ہے؟ اس حدیث پاک میں واقعی کوئی برائی موجود بھی ہے یا کسی نے کمال مکاری سے اسے پیش ہی کچھ اس طرح کیا ہے کہ ہم حضور علیہ السلام کی ذات سے ان الفاظ کا مترادف بھی نہ جوڑ پائیں؟ تو اس سوال کا جواب ہے، بالکل، صرف اس حدیث ہی کو نہیں، تمام نصوص شریعہ کو معترضین اسلام اپنے من گھڑت، بے سر و پا قیاسات کے ساتھ ملاکر پیش کرتے ہیں، تبھی ان کا چولہا جلتا اور کام چلتا ہے، ورنہ اسی حدیث پر چند سطروں بعد آپ کو اتنا غرور اور معترضین کو وہ سبکی ہونے والی ہے کہ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔

سب سے پہلی بات اس ضمن میں یاد رکھنے کی یہ ہے کہ یہ حکم تب بھی علاج کی غرض سے تھا۔ اور اس کا اطلاق اب بھی صرف اور صرف علاج ہی کی غرض سے ممکن ہے۔ اسی تناظر اب آیئے یہ دیکھتے ہیں کہ جدید میڈیکل سائنس اس معاملے میں کہیں اسلام سے پیچھے تو نہیں رہ گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں ہوگیا کہ اسلام نے لوگوں کو علاج کے لیے اونٹنی کا پیشاب پلا دیا اور سائنس اب تک گرائپ واٹر سے ہی سب امراض کا علاج فرما رہی ہو؟ یقیناً ملحدوں کو یہ جان کر بہت خوشی ہوگی کہ آج ایک مسلم خاتون اس حوالے سے سائنس کے آگے، بلکہ بہت آگے ہونے کا ناصرف اقرار کرنے چلی ہے، بلکہ ثبوت بھی خود پیش کر رہی ہے۔ ملاحظہ ہوں جدید انگریزی طریقہ علاج کی ان ادویات میں سے چند کا تعارف جو پیشاب سے حاصل کی جاتی ہیں۔

1. Premarin.
یہ دوائی مادہ ہارمون estrogen کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ Pfizer مشہور کمپنی اس کی ڈسٹریبیوٹر ہے اور یہ گولیوں، انجکشن اور کریم کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔
یہ عورتوں میں menopausal syndrome کی موجودگی میں دی جاتی ہے۔ عورتوں میں ماہواری کے ختم ہونے کے بعد ہونے والی تبدیلیوں جیسے بلڈ پریشر، ہڈیوں کا بھر بھرا پن وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ جان کر آپ کو بہت لذت اور پاکیزگی محسوس ہوگی کہ اس دوائی کو حاملہ گھوڑی کے پیشاب سے حاصل کیا جاتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس کا حصول ان عورتوں کا پیشاب لینا ہوتا تھا جن کی ماہواری رک گئ تھی کیونکہ ایسی عورتوں کے پیشاب میں estrogen کافی مقداد میں پایا جاتا ہے۔
2. Menotropin.
اس دوائی کا بھی اصل ماخذ ان عورتوں کا پیشاب ہے جن کی ماہواری رکی ہوئی ہو۔
یہ دوائی ان بے اولاد جوڑوں کو دی جاتی ہے جن میں خاص کر Follicle Stimulating Hormone کی کمی ہو یا اس عورت کو جس کا ovum اس کی ovary سے جدا نہ ہوتا ہے جسے ovulation کہتے ہیں۔ اس دوائی کے استعمال سے دیکھا گیا ہے کہ ان عورتوں میں حمل ٹھہر جانے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔ 

سن کر لذت تو آرہی ہوگی ملحدین کو؟

3. Urine derived iPluripotent Stem Cells. iPSC.

دل کے پٹھے کمزور ہونا جسے cardiomyopathy کہا جاتا ہے، معاشرے کی ایک بہت عام بیماری ہے اور اس کا واحد علاج دل کا ٹرنسپلانٹ کروانا ہے۔
اب ایسے مریضوں کے پیشاب کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس میں ایسے خاص cells موجود ہیں جو pluripotent ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یعنی ان cells کو استعمال کر کے دل کے کمزور پٹھوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ Mack DLکی یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور مستقبل میں ممکن ہے کہ پیشاب کو بطور دل کے خلیہ جات حاصل کرنے کا ایک ماخذ جانا جاۓ۔

4. Pergonal .

یہ دوائی بھی انسانی پیشاب سے حاصل کی جاتی ہے اور اس کا بھی وہی استعمال ہے جو Menatropin کا ہے۔

5.Amphetamine .

یہ دوائی نفسیاتی مریضوں یعنی ملحدوں کو، جنہیں narcolpsy یا جہاں neural disorders ہوں، اس وقت تجویز کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کو بعض کیمیکل ری ایکشنز کے ذریعے لیبارٹری میں تیار کیا جاتا ہے، مگر جب اس کے سائڈ ایفیکٹس زیادہ ہونے لگے تو 70 کی دہائی میں اس کی ترسیل اور بنانے پر کڑی پابندیاں لگنا شروع ہو گئیں۔
آج کل اس کی زیادہ سے زیادہ پروڈکشن کو ممکن بنانے کے لیے بعض یورپی ممالک اسے پیشاب سے extract کرنے کے تجربات کر رہے ہیں اور HPLC کا استعمال اس معاملے میں کافی مفید ثابت ہوا ہے۔

6. Penicillin.

پینسلین سے کون واقف نہیں۔ فلیمنگ کو اس نے دنیا کا سب سے بڑا مسیحا بنا دیا اور antibiotics کی دنیا میں اس نے ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اس دوائی کی تیاری میں moulds یعنی پھپھوندی کا استعمال کرنا عام بات ہے جس کی وجہ سے اس کی پروڈکشن کم ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر کرسٹین نے محسوس کیا جو مریض پینسلین استعمال کرتے ہیں ان کے پیشاب میں اس کے مواد کافی پاۓ جاتے ہیں اور اگر اس پیشاب کو ریسائکل کیا جاۓ تو پینسلین کا حصول قدرے آسان ہو جاۓ گا۔

7. Urine as purified water.

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ اس پر ناسا اپنا ایک پورا بجٹ پانی کی ترسیل پر لگا دیتا ہے۔ اس کا ایک آسان حل یہ نکالا گیا ہے کہ خلابازوں کے پیشاب کو ہی ریسائکل کرنے کے بعد اسے بطور پانی استعمال کیا جاۓ۔

اب تو منہ میں پانی آرہا ہے نا ملحدو؟

8. Tumor therapy.
Waltor H.
آسٹریا کے مشہور فارماسسٹ ہیں اور انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ صبح کے وقت کیے جانے والے پیشاب میں ایسے مواد شامل ہیں جو کہ کینسر کے خلیوں کے خلاف مدافعت رکھتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اگر پیشاب کو اچھی طریقے سے بلنڈ کرنے کے بعد اس کے مواد کو استعمال کیا جاۓ تو وہ کینسر جیسے موذی مرض پر قابو پا سکتے ہیں۔ فی الحال یہ بات ابھی تحقیقی مراحل میں ہے جس کے نتائج آنا باقی ہیں۔

نتیجہ؟؟؟ گھوڑی اور انسان کا پیشاب ہمممم ہمممم، اونٹنی کا پیشاب تھو تھو؟؟؟ واہ رے ملحد تیری ریا کاریاں، مکاریاں تے عیاریاں۔

اور بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مرض استسقاء، جس کا علاج میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کا پیشاب اور دودھ تجویز فرمایا، وہ ہے کتنی بڑی بلا اور جدید میڈیکل سائنس اس کا کتنا تکلیف دہ علاج تجویز کرتی ہے، ذرا یہ تحقیق بھی ملاحظہ ہو:

اگر آپ کو واقعی کیمسٹری کے اصول یاد ہیں تو آپ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ دو مختلف کیمیکلزکے ملنے سے ایکشن اور ری ایکشن ہوتا ہے۔ یاد دہانی کے لئے میں کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں۔

پانی کے لئے H2O ہائیڈروجن کے دو مالیکیول اور اکسیجن کا ایک مالیکیول مل کر پانی بنتا ہے۔

نیلا تھوتھا زہر ہے اور آپ کو پتہ ہو گا کہ اگر نیلا تھوتھا کی قلمیں بنا لی جائیں تو پھر نیلا تھوتھا سے زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور اسے پھرکچھ بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
سوڈیم” اسے اگر کھولیں تو ہوا سے آکسیجن ملتے ہی اسے آگ لگ جاتی ہے ، اور ” سوڈیم کلورائیڈ” جو ہم روزانہ کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔ انسان کو کچھ نہیں ہوتا۔

اونٹنی کے دودھ میں “ پوٹاشیم ” بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروٹین، آئرن، فیٹ، پانی، فاسفورس ، کیلشیم، اور وٹامن سی، کیکٹوس/قدرتی مٹھاس اور ڈیوریٹک/پیشاب آور، ہوتے ہیں۔

اب دودھ کے اندر پائی جانے والے ان کیمیکلز کو سامنے رکھیں تو پیشاب میں پائے جانے والے ٹاکسس کے اثر کو ختم کرنے کے لیئے یہی کافی ہیں۔ کیمسٹری فارمولہ کے مطابق اونٹنی کا پیشاب اس وقت تک پیشاب رہے گا جب تک وہ دوسرے اجسام کے ساتھ نہیں ملا، جونہی اونٹنی کا پیشاب اونٹنی کے دودھ میں شامل ہوا تو پھر دونوں اجسام میں پائے جانے والے کیمیکلز سے جو ری ایکشن ہو گا اس سے پیشاب نام اور مقام کھو بیٹھے گا۔ اور ایک الگ مکسچر بنے گا۔
یہاں ایک اور بات واضح کرتی چلوں کہ پانی کے ایک گلاس کو میٹھا کرنے کے لئے چینی کی کچھ مقدار/ ایک چمچ ڈالی جاتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ پانی کے ایک گلاس میں چینی کا ایک گلاس ڈالا جائے۔ اسی طرح دودھ میں پیشاب ملا کر پینے کا مطلب یہ نہیں کہ دودھ کا ایک گلاس اور پیشاب کا ایک گلاس، بلکہ دودھ کے ایک گلاس میں پیشاب کی کچھ مقدار جو کہ ڈراپس بھی ہو سکتے ہیں اور چمچ بھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ہائیڈروجن کے دو مالیکول اور آکسیجن کا ایک مالیکیول ان کو اکٹھا کریں تو دونوں اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں اور اس سے جو تیسری چیز بنتی ہے جسے ہم پانی کہتے ہیں۔

عکل اور عرینہ کے لوگوں میں جو بیماری تھی اسے موجودہ طبی سائنس میں پلیورل ایفیوزن (Pleural Effusion) اور ایسائٹیز (Ascites) کہا جاتا ہے۔ یہ انتہائی موذی مرض ہے۔پلیورل ایفیوزن کے مریض کو بے حس کر کے پسلیوں کے درمیان آپریشن کر کے سوراخ کیا جاتا ہے۔ اس سوراخ سے پھیپھڑوں میں چیسٹ ٹیوب (Chest Tube) داخل کی جاتا ہے اور اس ٹیوب کے ذریعہ سے مریض کے پھیپھڑوں کا پانی آہستہ آہستہ خارج ہوتا ہے۔ اس عمل کا دورانیہ 6 سے 8ہفتہ ہے۔ اس مکمل عرصے میں مریض ناقابل برداشت درد کی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے ۔ اور بعض اوقات تو وہ موت کی دعائیں مانگ رہا ہوتا ہے۔ (بہت سوں نے خود اسپتالوں میں ان مریضوں کی یہ حالت شاید دیکھی بھی ہو)۔ایسائٹیز کے مریض کے پیٹ میں موٹی سرنج داخل کر کے پیٹ کا پانی نکالا جاتا ہے۔ یہ عمل باربار دہرایا جاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں میں مریض کو مکمل یا جزوی طور پر بے حس کیا جاتا ہے۔ (Short Practice of Surgery page 698-703 & 948-950)
اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیں خیرالقرون میں اس بیماری کا کتنا آسان سا علاج، یعنی اونٹنی کا دودھ اور پیشاب تجویز فرمایا تھا، جو آج بھی کار آمد ہے۔ ثبوت ملاحظہ ہوں:

ڈاکٹر خالد غزنوی اپنی کتاب علاج نبوی اور جدید سائنس میں تحریر فرماتے ہیں:

ہمارے پاس اسی طرح کے مریض لائے گئے عموماً۔4 سال سے کم عمر کے بچے اس کا شکار تھے۔ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر عمل کیا اونٹنی کا دودھ اور پیشاب منگوایا اور دونوں کو ملاکر ان بچوں کا پلادیاکچھ ہی عرصے بعدان کے پھیپھڑوں اور پیٹ کا سارا پانی پیشاب کے ذریعے باہر آگیا اور بچے صحت یاب ہوگئے۔وللہ الحمد،اور آج وہ جوان ہیں‘‘۔ (علاج نبوی اور جدید سائنس جلد 3بابAscites  

محترمہ ڈاکٹر فاتن عبدالرحمٰن خورشیدکا سعودی عرب کی قابل سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر ہونے کے علاوہ کنگ فہد سنٹر میں طبی تحقیق کے لیے قائم کردہ Tissues Culture Unit کی صدر ہیں۔ وہ میڈیکل ڈاکٹر تو نہیں ہیں تاہم اسی حدیث سے متاثر ہو کر انہوں نے اس پر تحقیقی کام کیا اور اونٹنی کے دودھ اور پیشاب کو ملا کر کینسر سے متاثرہ افراد کو پلایا ۔ انہوں نے لیب کے اندر اپنے ان تجربات اور ریسرچ کوسات سال تک جاری رکھا اور معلوم کیا کہ کہ اونٹ کے پیشاب میں موجود نانو ذرات کامیابی کے ساتھ کینسر کے خلیات پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اس دوا کا معیار انٹرنیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کی شرائط کو پورا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو کیپسول اور سیرپ کی شکل میں مریضوں کو استعمال کروایا ہے اور اس کا کوئی نقصان دہ سائیڈ ایکفیکٹ بھی نہیں ہے۔
محترمہ ڈاکٹر خورشید صاحبہ کا کہنا ہے کہ وہ اونٹنی کے دودہ اور پیشاب کو مخصوص مقدارون میں ملا کر مزید تجربات کے ذریعے اپنی دوا کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور اپنی توجہ اس جانب مرکوز کئے ہوئے ہیں کہ اسی دوا سے کینسر کی بعض مخصوص اقسام جیسے پھیپھڑوں کے کینسر، خون کے کینسر، بڑی آنت کے کینسر، دماغ کے ٹیومر اور چھاتی کے کینسر کا علاج تسلی بخش طریقے سے کیا جاسکے۔

اور اگر اتنے فوائد اور وضاحتیں پڑھنے کے بعد بھی کسی کو تسلی نہ ہوئی ہو تو پیش خدمت ہے یوریا، یعنی کھاد کی تیاری کا عرف عام میں نسخہ۔
پورے شہر کی گندگی، جس میں انسانی فضلات بھی شامل ہوتے ہیں، کو ڈیفرٹیلائز کرنے کے بعد، اس میں سبزیوں کےمصنوعی بیج شامل کرکے، جو انتہائی بدبودار مکسچر ہمیں حاصل ہوتا ہے اسے یوریا کہتے ہیں۔ اسی سے پیدا ہونے والی سبزیاں اکثر ملحدین کی مرغوب غذا ہیں۔ (ہن آرام اے ملحدو؟)
آخر میں قرآن مجید کی ایک آیت مسلمان بہن بھائیوں کے لیے۔

فَمَنِ اضْطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلٓا إِثْمَ عَلَیہِ

یعنی:

جو شخص مجبور (بھوک کی شدت سے موت کا خوف) ہوجائے تو اس پر (حرام چیز کے کھانے میں) کوئی گناہ نہیں بس وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو 
سورۃ البقرۃ ۔آیت 173

لہذا جان بچانے کے لیے اونٹنی کا پیشاب پینے میں نصوص ہرگز مانع نہیں، بلکہ جیسا عرض کیا گیا کہ دودھ سے ملنے کے بعد وہ پیشاب رہتا بھی نہیں۔
اس تحریر کے لیے سارا مواد و رہنمائی فرمانے کے لیے طلحہ بھائی آپ کا بے حد شکریہ۔ اللہ پاک آپ کی محنت قبول فرمائے۔
و آخر دعونا ان الحمد اللہ رب العالمین

 :REFERENCES
https://en.wikipedia.org/wiki/Gonadotropin_preparations

Gonadotropin preparations are drugs that mimic the physiological effects of gonadotropins, used therapeutically mainly as fertility medication for ovarian hyperstimulation and reversal of anovulation. For example, the so-called menotropins consist of LH and FSH extracted from 
.human urine from menopausal women1There are also recombinant variants.

FSH and LH preparations

hMG (human Menopausal Gonadotrophins), FSH and LH prepared from human urine collected from postmenopausal women. First extracted in 1953. Injected intra-muscularily (IM) or subcutaneously (SC).