Friday, September 16, 2016

QURAN KE ILAWA WAHI




آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی باتیں بتاتے ہوئے بارہا ایسی وحی کا ذکر فرمایا ہے جو ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتی، اس قسم کی روایات اس کثرت سے ملتی ہیں کہ ان کی قدر مشترک تواتر کے درجے میں ہے اور قطعیت کا فائدہ بخشتی ہے اوریہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلب اطہر پر وہ وحی بھی اتارتے تھے،جو باقاعدہ تلاوت کا درجہ نہ پاتی تھی اوراس کے باوجود وہ وحی خداوندی ہی سمجھی جاتی تھی وہ الفاظ میں ہمارے سامنے نہیں آئی، اس وحی کو وحی غیر متلو Unwarded revelation کہتے ہیں قرونِ ثلثہ جن کے خیر ہونے کی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، ان میں کسی ممتاز علمی شخصیت نے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و شریعت کے طورپر بات کہی اوراس میں وحی والہام Divine ispiration کا دخل نہ تھا،بلکہ ہر ایک کا عقیدہ یہی رہا کہ اس میں وحی کا عنصر ضرور شامل ہے،قرآنی وحی وحی متلو ہے اور حدیث نبوی وحی غیر متلو اورہر دو کا مصدر ومنبع اللہ رب العزت کی ذات ہی ہے۔
حدیث کی تقریبا ًہر کتاب میں اس پر واضح شہادتیں موجود ہیں، یہ روایات اور شہادات اتنے مختلف ابواب اورمختلف وقائع کے ذیل میں ملتی ہیں کہ انہیں کسی سازش یا کسی وضع انسانی کا نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ چند انسانوں نے کسی اسکیم کے تحت حدیث کے بارے میں یہ تصور پیدا کردیا ہو، ہر طبقہ فکر اور ہر فقہی مسلک کا اس پر متفق ہونا اور پھر ذخیرہ ٔحدیث میں اس پر لاتعداد شواہد ملنا اس اصولی نظریئے کی قطعیت کا پتہ دیتا ہے اورتو اور شیعہ محدثین جو جمہور اہل اسلام سے بالکل ہی علیحدہ راہ پر چلے ان کے ہاں بھی بے شمار روایات اس قسم کی ملتی ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتاری اور وہ وحی غیر متلورہی اوراب اسے وحی حدیث کہتے ہیں۔ باوجود اتنے اصولی اختلافات کے اس ایک نقطہ پر ایک رائے ہونا اس موضوع کی اصولی اور قطعی حیثیت کا پتہ دیتا ہے۔ 
اس وقت اس قسم کی روایات کے استقصاء کی تو گنجائش نہیں؛ البتہ چند نظائر یہاں پیش کی جاتی ہیں، ان میں وہ احادیث بھی ہوں گی جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہی احادیث کے لیے وحی وانباء کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان میں بعض میں جبرئیل امین کے آنے کی بھی تصریح ہے، بعض میں ان کے لیے امر الہٰی اور امر ربی جیسی تعبیرات ہیں اور کہیں کہیں ان کا براہ راست اللہ رب العزت کے نام سے مذکور ہونا اس وحی خدا وندی کا پتہ دے رہا ہے، اسے ہم وحی غیر متلو کہتے ہیں جس کی تلاوت الفاظ کی پابندی سے امت میں جاری نہ ہوئی، اس بات کے ثبوت میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی غیر متلو بھی ہوتی رہی ائمہ اربعہ، جملہ اکابر محدثین، ائمہ تفسیر اور فقہائے کرام کا اتفاق ہے،بلکہ یوں سمجھئے کہ یہ بات اسلام میں متواتر طور سے ثابت ہے گو تو اتر قدر مشترک کے درجہ میں ہو، اب ہم اس پر چند شواہد پیش کرتے ہیں۔

وحی غیر متلو میں حضرت جبرئیل امین کی آمد

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی غیر متلو کی آمد میں صرف وحی کے الفاظ ہی نہیں ملتے، کئی روایات میں جبرئیل امین کی آمد بھی صریح طور پر مذکور ہے،اس قسم کی روایات بھی درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اورتقریبا ًہر مجتہد اورمحدث کے ہاں اس کی شہادتیں ملتی ہیں اور یہ بات انتہائی پختہ اورصحیح ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی غیر متلو(وحی حدیث) بھی لاتے رہے۔

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل ایک جوان مرد کی صورت میں حاضر ہوئے اور کہا السلام علیک یا رسول اللہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وعلیک السلام (اورتجھ پر بھی سلام ہو)..... حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرئیل تھے جو تمہارے پاس اس لیے آئے تھے کہ تمھیں دین کے معالم (ضروری نشانوں کی ) تعلیم دیں۔(مسند امام اعظم ابی حنیفہ:۳۲)
اسی طرح کی اور بھی بہت ساری شہادتیں ہیں جو آپ مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
(موطا امام مالک:۲۲۴/۱۔ موطا امام مالک:۱۷۳۔ موطا امام محمد:۱۹۸۔ مسند الشافعی:۱۲۳۔ موطا امام محمد:۳۹۱۔ مسندالشافعی:۷۱)

امرنی ربی وغیرہ کے الفاظ
۱
"عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا"۔

ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا،مطلع رہو مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں اس بات کی خبر دوں جس سے تم ناواقف تھے، مجھے آج میرے رب نے وہ باتیں بتائی ہیں۔ (صحیح مسلم،باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا،حدیث نمبر:۵۱۰۹)

عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي "۔

ترجمہ: حضور جب وضو فرماتے تو پانی کا ایک چلو لیتے، اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لاکر اس سے ڈاڑھی کا خلال کرتے،آپ نے فرمایا: مجھے اس طرح کرنے کا میرے رب نے حکم دیا ہے۔(سنن ابی داود،باب تخلیل اللحیۃ،حدیث نمبر:۱۲۴)

۳)"عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِيرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ وَأَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ"۔)

ترجمہ: مجھے میرے رب نے گانے بجانے کی چیزوں،آلات ساز، بتوں،صلیبوں اورجاہلیت کی باتوں کو مٹانے کا حکم دیا ہے۔(مسنداحمد،باب حدیث ابی امامۃ الباھلی الصدی،حدیث نمبر:۲۱۲۷۵)

اور بھی کئی مثالیں ملتی ہیں کہ اللہ رب العزت وحی متلو (قرآن کریم) کے علاوہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمکلام ہوئے،آپ نے خدا وند تعالی سے صرف قرآن کریم ہی نقل نہیں کیا، آپ نے خدا تعالی کی طرف سے بہت سی احادیث بھی بیان کیں،آپ خود ارشاد فرماتے ہیں:

ترجمہ: جب میں تمہارے سامنے خدا سے کوئی بات (حدیث) نقل کروں تو اسے لے لیا کرو، میں خدائے عزوجل پر کوئی غلط بات نہیں کہتا۔(مسلم،باب وجب امتثال ما قالہ شرعادون،حدیث نمبر:۴۳۵۶)

آپ کو طبعاً اگر کوئی چیز ناپسند ہوئی آپ نے اس سے اجتناب فرمایا تو صاف کہا میرا یہ طبعی تقاضاہے خدا کے دین میں یہ حرام نہیں ہے،آپ نے ارشاد فرمایا
ترجمہ :اے لوگو!مجھے اس چیز کے حرام کرنے کا اختیار نہیں جسے اللہ نے حلال کیا ہے لیکن یہ ایک ایسی سبزی ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے (اس لیے میں اسے نہیں کھاتا)۔ (صحیح مسلم،باب نھی من اکل ثوما اوبصلا ،حدیث نمبر:۸۷۷)
اس حدیث میں آپ نے خدا کی بات لفظ حدیث (حدثتکم) سے نقل کی ہے؛ سو اس میں کوئی شک نہیں کی حدیث کا مبدا بھی اللہ رب العزت ہیں اور اس سے حضورﷺ کی زبان اور عمل پر یہ فیضان جاری ہوا ہے۔

azab- qabr aur quran





















pathar ka musa a.s ke kapde lekar bhagna

"پتھر کا موسی علیہ السلام کے کپڑے لے کر بھاگنا"


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! 

آج ھم جس حدیث پر اعتراض کا ازالہ لکھنا چاھتے ہيں وہ منکر حدیث کے لٹریچر میں الاول نمبر پر ہوتی ہے کہ آپ کسی منکر حدیث کو نا دیکھيں گے کہ وہ اس روایت پر اپنے اشکالات نا پیش کریں ۔ در اصل یہ حدیث قرآن کی ایک ایت پر تفسیر ہے نبیﷺ سے۔ ارشادی باری تعالی ہے

اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ کو اذیت پہنچائی تھی۔ پھر اللہ نے موسیٰ کو ان کی بنائی ہوئی باتوں سے بری کردیا اور وہ اللہ کے ہاں بڑی عزت والے تھے۔( سورہ الحزاب : 69)

بنی اسرائیل کی موسیٰ علیہ السلام کو ایذا رسانی:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے ہی شرم والے اور بدن ڈھانپنے والے تھے۔ ان کی حیاء کی وجہ سے ان کے بدن کو کوئی حصہ بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے جو لوگ انہیں اذیت پہنچانے کے درپے تھے ‘ وہ کیوں باز رہ سکتے تھے ‘ ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس درجہ بدن چھپانے کا اہتمام صرف اس لیے ہے کہ ان کے جسم میں عیب ہے یا کوڑھ ہے یا ان کے خصیتین بڑھے ہوئے ہیں یا پھر کوئی اور بیماری ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ان کی ہفوات سے پاکی دکھلائے۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اکیلے غسل کرنے کے لیے آئے ایک پتھر پر اپنے کپڑے (اتار کر)رکھ دیئے۔ پھر غسل شروع کیا۔ جب فارغ ہوئے تو کپڑے اٹھانے کے لیے بڑھے لیکن پتھر ان کے کپڑوں سمیت بھاگنے لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا اٹھایا اور پتھر کے پیچھے دوڑے۔ یہ کہتے ہوئے کہ پتھر! میرا کپڑا دیدے۔ آخر بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے اور ان سب نے آپ کو ننگا دیکھ لیا ‘ اللہ کی مخلوق میں سب سے بہتر حالت میں اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت سے ان کی برات کر دی۔ اب پتھر بھی رک گیا اور آپ نے کپڑا اٹھا کر پہنا۔ پھر پتھر کو اپنے عصا سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم اس پتھر پر موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے تین یا چار یا پانچ جگہ نشان پڑ گئے تھے۔ 

(صحیح بخاری ،كتاب أحاديث الأنبياء)
اشکالات :

منکر حدیث کا اس حدیث پر اعتراض یہ ہے کہ روایت میں موسی علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے کہ ان کو بنی اسرائیل کے سامنے برہنہ کردیا۔ دوسرا یہ کہ اس روایت میں ایک معجزہ ہے کہ پتھر کپڑے لئے دوڑ پڑا اور یہ بات منکر حدیث کو کسی قیمت پر گوارا نہیں کیونکہ یہ معجزات کے منکر ہے تیسرا یہ کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو پتھر پر مار کے نشانات کا صحیح علم کیوں نہ تھا ۔

ازالہ :

اعتراض کا جواب دینے سے قبل قارئین کی توجہ آیت پر کرانا چاھتا ہو -

ایت میں وَجِیْھًا کا معنی ایسا آبرو اور رعب والا شخص ہے جس کے متعلق لوگوں کو کچھ اعتراض ہو بھی تو وہ اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ سکیں اور ادھر ادھر باتیں کرتے پھریں ۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ کے لئے استعمال فرمایا اور کہا (وَجِیْھًا فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ) (٣:٤٥یعنی عیسیٰ دنیا میں بھی وجیہ تھے اور آخرت میں بھی وجیہ ہوں گے۔ چنانچہ دنیا میں یہود ان کی پیدائش سے متعلق الزام لگاتے تھے لیکن منہ پر بات کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔ تو اس لحاظ " فبرأه الله مما قالواکہ اللہ نے بری کر دیا وہ جو کہا کرتے تھے ۔ اس میں "مما قالوکے الفاظ کے بعد وجیھاً کا لفظ لانا اس بات کی دلیل ہے کہ بنی اسرائیل ضرور کچھ کہا کرتے تھے پیٹھ پیچھے اور ان باتوں سے موسی علیہ السلام کو تکلیف بھی ہوتی تھی اور بنی اسرائیل ان کے منہ پر کہنے کی جراءت بھی نا کرتے تھے۔ اب ان گزراشات کے بعد منکر حدیث دوستوں سے پوچھنا چاھتے ہيں كه وه بتائيں وہ کیا ایذا دینی والی باتیں تھی اور پھر موسی علیہ السلام کو اللہ نے اس ایذا سے نجات دی تو نجات کی صورت کیا تھی ؟

موسی علیہ السلام کی قوم آپس میں یہ کہا کرتی تھی کہ موسی علیہ السلام ھمارے ساتھ نہیں نہاتے ضرور ان کو کوئی جلد کی بیماری ہوگی جس کی وجہ وہ اکیلا غسل فرماتے ہے پتھر کا کپڑے لے کر بھاگنا اور قوم کے قریب پینج جانا اگر اس وقت موسی علیہ السلام بلکل برہنہ بھی تھے تو قوم میں بلکل برہنہ کوئی معیوب بات نہیں کیونکہ حدیث میں صراحت ہے کہ قوم برہنہ حالت میں غسل کرتی تھی۔ مزید حدیث میں یہ کہی موجود نہیں کہ موسی علیہ السلام بلکل برہنہ تھے بلکہ ھم کہتے ہے کہ وہ لنگوٹے وغیرہ پہن کر نہا رھے تھے تو اس بات کو ماننے میں کیا حرج ہے ؟ احادیث کہ شارحین نے بھی یہی بات فرمائی ہے۔ لیکن منکر حدیث کہ ذہن کا کمال ہے کہ وہ ایسے اعتراض کرتے ہے حیرت ہے جو سمندر کے ساحل پر مغرب کے مرد و خواتین کا برھنے ہو کر نہانے کو تو معیوب نہیں سمجھتے اور کبھی تنقید بھی کرتے نظر نہیں آتے لیکن حدیث میں جو بات بیان نہیں بھی ہوئی اس پر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں۔

موسی علیہ السلام کے برہنا ہونے پر اعتراض ہے تو قرآن کا بیان سنئے!

{فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ } 

پھر جب (آدم اور حوا) نے اس درخت کو چکھ لیا تو ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے پر ظاہر ہوگئیں اور وہ جنت کے پتے اپنی شرمگاہوں پر چپکانے لگے۔ 

(سورہ العراف:22)

اب بتائے ان احباب کا اس حدیث کا مذاق اڑانا زائل ہوا کہ نہیں ورنہ قرآن پر کیا اعتراض کرے گے ؟

اس ایت کو مسلمانوں کا اپنے حق میں پیش کرنا ان حضرات کو کیسا گوارا تھا ایک منکر حدیث قاری صاحب نے اس ایت پر یہ اعتراض کر دیا کہ یہاں ننگے ہونے کو شیطان کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ حدیث میں اللہ کی جانب ان قاری صاحب کا مطلب یہ ہے اب برہنہ ہونا تو کوئی اعتراض نہیں رھا بلکہ اعتراض یہ رھا کہ اس واقعہ کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے جناب عالی! ھم پہلے ہی عرض کر چکے کہ موسی علیہ السلام بلکل برہنہ نہا رھے تھے یہ حدیث سے ثابت نہیں ورنہ ثابت کیجیئے موسی علیہ السلام کمزکم اپنی لنگوٹیاں پہنے ہی قوم کے پاس پہنچ گئے اور قوم نے سارا جسم ہر عیب و نقص سے پاک دیکھا تو اس طرح اللہ کی طرف سے موسی علیہ السلام کو خیر پہنچی جیسا کہ ان کی قوم ان کو ایذا دیتی تھی اور 

اللہ کا فرمان ہے

مَآ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۡ وَمَآ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ

تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے

(سورہ النساء :79)


تو اگر موسی علیہ السلام کو خیر پہنچی اور ان کی ایذاوں سے جان چھوٹی تو اللہ کی طرف منسوب کرنا صحیح ہوا یا نہیں ۔

اس حدیث میں لفظ آدر پر اشکال کا ازالہ:

کوئی شخص موسی علیہ السلام پر بنی اسرائیل کا آدر (خصیتیں بڑجانا) کا لفظ کہنے سے استدلال کر سکتا ہے کہ خصئے پر نظر پڑھنے کے لئے مکمل برھنا ضروری ہے ورنہ خصئے نظر ہی نہیں آسکتے لیکن یہ آپ کا خیال ہے آدر ہونا ایک بیماری ہے جس کو انگریزی میں Hydrocele کہتے ہیں۔ اس بیماری میں انسان کے خصیوں کے گرد جلد کے اندر پانی سے بھری تھیلیاں بن جاتی ہیں اور ان کا حجم بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کے بارے میں آپ مختصراً یہاں پڑھ سکتے ہیں۔



اس بیماری میں مرد کے خصیوں کا حجم اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ وہ کپڑوں کے اندر سے رانوں کے درمیان لٹکے ہوئے صاف نظر آتے ہیں۔ اس بیماری کا پتہ لگانے کے لیے مکمل برہنہ ہونا ضروری نہیں۔ چھوٹی موٹی لنگوٹ ہو تو صاف پتہ چل جائے گا کہ بندے کو یہ بیماری ہے کہ نہیں۔ الغرض موسی علیہ السلام کی لنگوٹ کے ساتھ انہوں نے بخوبی اندازہ لگا لیا کہ موسی علیہ السلام آدرُ "خصیہ پھولنے کی بیماری(القاموس الوحید) میں مبتلا نہیں ۔ کوئی بھی گوگل پر Hydrocele کی بیماری پر مزید سرچ کر سکتا ہے۔

رہی یہ بات کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ قسم اٹھاکر کہتے ہیں کہ پتھر پر مار کے چھ یا سات نشانات ہیں اور اس پر یہ اعتراض کہ اگر یہ تفسیر منسوب الی اللہ ہے تو کیا اللہ کو صحیح تعداد معلوم نہیں تھی نشانات کی ؟ اس اعتراض پر یہ ایت پڑھئے

وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ

اور ان (یونسؑ)کو لاکھ یا اس سے زیادہ کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا ۔

اب جو یہاں اعتراض کرتا ہے کہ کیا اللہ کو معلوم نہیں تھا کہ نشان چھ ہیں یا سات تو وہ قرآن پر بھی اعتراض کرے کہ کیا اللہ کو معلوم نہیں تھا کہ کتنے بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا؟ جو تشریح اس آیت کریمہ میں "الف او یزیدون" میں لفط "او" کی ہے وہی اس روایت میں سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ کی ہے۔ اگر یہ اسلوب اللہ تعالی نے استعمال کیا تو اعتراض نہیں مگر حدیث میں کوئی ایسی بات آجائے تو فوراً جھٹلا دو؟ اہل تحقیق سے انصاف کا سوال۔

محترم قارئین ھم نے احادیث کو ہر اعتراض سے پاک ثابت کیا ہے لیکن اب بھی کسی کو یہ جوابات منظور نہیں تو یہ گزارشات ملاحظہ کیجیئے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں ۔ انھیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔ تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کرلیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھر بھی ہیں اور گھوڑی بھی۔ (منجد) اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہوگا کہ موسیٰ گھوڑی پر سوار تھے۔ کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کو کھڑا کیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دیئے۔ جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑ پڑی اور موسیٰ علیہ السلام ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تاآنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بے داغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کردیا۔(مولانہ عبدالرحمٰن کیلانی)

آخر میں ھم منکر حدیث احباب سے گزارش کرے گے کہ حدیث کو جھٹلا دینا اتنا آسان نہیں جتنا آپ احباب نے سمجھ لیا ہے-قاری صاحب تو اپنی بے بسی بار بار ثابت کرتے رھتے ہيں کہ سند و متن پر جرح کرنا میرے بس میں نہیں اور کر بھی کیسے سکتے ہيں- یہ اسناد سونے کی زنجیر ہے اور محدثین کرام کے وقت سے ہی ان احادیث کو کوئی بھی جھٹلا نا سکا سندً و متناً مگر ھم نے جو معیارات آپ نے قائم کئے اس کے مطابق جواب لکھ دیا ہے اگر پہلا جواب منظور نہیں تو آخری جواب سے زیادہ ھم آپ کے مرض کا علاج کیسے کرے تعجب ہے جو لوگ قرآن میں ھد ھد اور چیونٹیاں کہ واقعہ کی عجیب و غریب تاویلات کرتے ہے لیکن حدیث میں کوئی ایسا واقعہ بیان ہو جائے تو ناک منہ چڑھاتے هيں یہ اپنے ساتھ ہی نانصافی ہے بس اللہ ہی سے دعا ہے کہ اللہ ھمیں اور آپ کو ھدایت دیں۔ آمین

Saturday, September 10, 2016

WAHI MATLU AUR GHAIR MATLU






آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا ماخذ" الہٰی ہدایت" Divine quidance ہے، اللہ تعالی نے قرآن کریم کے علاوہ بھی آپ کی فکرو نظر کو قدسی جلا بخشی تھی اورآپ کے اعمال میں بھی اپنی وحی اتاری تھی، جس طرح علم الکتاب معصوم ہے، اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی معصوم ہے،علم الکتاب میں الفاظ و معنی دونوں معصوم ہیں، علم الآثار میں صرف معنی مراد محفوظ ہیں،الفاظ کی حفاظت اس میں لازمی نہیں، روایت بالمعنی سے بھی الہٰی حفاظت کا یہ وعدہ پورا ہوجاتا ہے۔

ہمارے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات صحابہ کرامؓ کی قوی شہادتیں موجود ہیں، جن سے یہ بات ثابت Bestablished ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی قرآن پاک کے علاوہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وحی سے بارہا نواز تے رہے،اسی وحی غیر متلو (وہ وحی جس کی تلاوت جاری نہیں ہوئی ) کو ہم حدیث کہتے ہیں۔ یہ وہ وحی ہےجس کے ذریعہ قرآن کریم میں بیان کردہ اصولوں کی تفصیلات اور ان کی صحیح تشریح وتعبیر سمجھائی جاتی تھی، یہ قسم لوگوں تک لفظ بلفظ نہیں پہنچائی گئی؛ بلکہ اس کے رسول کے ارشادات وافعال کے ذریعہ ظاہر کیا گیا۔

حدیث کے الہامی ہونے پر قرآن پاک کی شہادتیں 

قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی قرآن کے علاوہ بھی کلام فرماتے تھے اور بارہا آپ پر وحی غیر متلو Revelation unworded اترتی تھی. اس وحی غیر متلو کے لیے اس وحی متلو(قرآن کریم) میں کئی جگہ حوالہ Reference ملتا ہے ؛مگر جس بات کی طرف حوالہ دیا جارہا ہے وہ بات قرآن کریم میں نہیں ملتی۔

پہلی شہادت:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی ایک زوجہ سے پردے میں ایک بات کہی اور تاکید کی کہ وہ اسے کسی دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں؛ لیکن ہوا یہ کہ ان سے اس پر قابو نہ رہ سکا اورانہوں نے اسے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ذکر کردیا، اللہ تعالی نے آپ کو خبر دے دی کہ آپ کی زوجہ نے دوسری بی بی سے وہ بات کردی ہے،قرآن کریم آپ کی اس بیوی کے دوسری بیوی سے بات کرنے کی یوں خبر دیتا ہے۔
 
ترجمہ: اورجب نبی نے اپنی کسی بی بی سے ایک حدیث پر دے میں کہی تھی پھر جب اس نے (دوسری بی بی سے )اس کی خبر کردی اوراللہ تعالی نے آپ پر اسے ظاہر کردیا تو آپ نے اس میں سے کچھ بات جتلادی اورکچھ سے درگزرفرمایا،پھر جب آپ نے وہ بات، اس بی بی کو جتلائی تو اسنے پوچھا آپ کوکس نے یہ بات بتلائی ہے؟ آپ نے فرمایا مجھے علیم و خبیر نے خبر دی ہے۔ (التحریم:۳)

اللہ،علیم خبیر نے جو خبردی تھی وہ وحی غیر متلو تھی، یہ وحی خدا وندی قرآن کریم میں نہیں ملتی؛ لیکن اس کی طرف یہاں حوالہ Refernece موجود ہے؛ لیکن جس وحی کی یہاں حکایت ہے وہ قرآن کریم میں کہیں مذکور نہیں۔قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ چلا کہ اللہ تعالی علیم و خبیر وحی قرآنی کے سوا بھی آپ سے کلام فرماتے تھے اورآپ کو کئی باتوں کی اس طرح خبر دیتے تھے کہ وہ بات ہمیں قرآن کریم میں مذکور نہیں ملتی،

دوسری شہادت

پھر یہ صرف اخبار (خبروں) میں ہی نہیں،احکام (کرنے والے کاموں) میں بھی بہت سے ایسے حکم نازل ہوئے جن کی وحی متلورہی ہے،مدینہ منورہ کے مشرقی جانب چند میل کے فاصلے پر بنو نضیر (یہود) آباد تھے۔انہوں نے مسلمانوں سے عہد شکنی کی،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کا ارادہ فرمایا: یہ لوگ اپنے مضبوط قلعوں میں جابیٹھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی کہ ان کے درخت کاٹے جائیں اورباغ اجاڑے جائیں؛ تاکہ یہ لوگ بے چین ہوکر قلعوں کے دروازے کھول دیں اورحالات کے چہرے سے نقاب اُٹھ جائے؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جنگ کی نوبت نہ آئی اور یہ لوگ وہاں سے خیبر کی طرف نکال دیئے گئے،قرآن کریم میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں ملتا ہے:

ترجمہ: اور(اس دن) جو کاٹ ڈالے تم نے کھجور کے درخت یا انہیں اپنی جڑوں پر کھڑے رہنے دیا سو (یہ سب) اللہ کے حکم سے تھا۔ (الحشر:۵)
قرآن کریم میں اللہ کا یہ حکم کہیں نہیں ملتاکہ"یہ درخت کاٹ دیئے جائیں اوریہ رہنے دیئے جائیں۔ وہ حکم خدا وندی جس کے تحت درختوں کے کاٹنے کا یہ عمل کیا گیا تھا وحی غیر متلو تھی جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں القاء ہوئی تھی۔

تیسری شہادت

قرآن کریم کی یہ موجودہ ترتیب رسولی ہے نزولی نہیں،ترتیب نزولی اور ترتیب رسولی میں فرق ملحوظ رکھئے۔آنحضرتﷺ پرغارِ حرا میں جو پہلی وحی نازل ہوئی تھی وہ"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ" (العلق:۱) تھی لیکن قرآن میں موجودہ ترتیب میں "بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" کے بعد "أَلْحَمْدُ الِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ" سب سے پہلی آیت ہے۔حضوراکرمﷺ پر جب کوئی آیت اتر تی تو آپﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوہدایت دیتے کہ اسے فلاں فلاں سورت میں لکھ دو۔ (ترمذی:۲/۳۶۸،)
سورتوں میں آیات کہاں کہاں لکھی جائیں یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوتا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو اسی ترتیب سے پڑہتے، جو قرآن پاک کی موجودہ ترتیب ہے (سنن ابی داؤد:۱/۱۲۷) اوراسی ترتیب سے ہر سال حضرت جبرئیل امینؑ رمضان میں آپﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔قران کریم کی جمع وترتیب میں اتنی اہم تبدیلی کس کے حکم سے ہوئی؟ کیا حضورﷺ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے اس میں کسی تبدیلی کے مجاز تھے؟ ہر گز نہیں قرآن کریم میں ہے:

ترجمہ: ان لوگوں نے جو ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے(پیغمبر سے) کہا کہ کوئی اور قرآن لے آو، یا اسے کچھ تبدیل کردیں، اے پیغمبر !آپ کہہ دیجئے میرے اختیار میں نہیں کہ میں اسے بدل ڈالوں، میں تو وہی کچھ کرتا ہوں جو مجھے حکمدیا جاتا ہے، میں ڈرتا ہوں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں بڑے دن کے عذاب سے (یونس:۱۵،۱۷)

قرآن کریم نے بتلایا کہ آپﷺ نے جو کچھ کیا وہ وحی خدا وندی کے تحت تھا، کتاب کی ترتیب کو بدل دینا بہت اہم بات ہے، کوئی جزوی بات نہیں جسے آسانی سے نظر انداز کیا جاسکے، کسی تحریر اورکتاب کی ترتیب اس تحریر یا کتاب کی ذات ہوتی ہے، سو آپ نے قرآن پاک کی ترتیب میں جو عمل اختیار کیا وہ سب وحی خدا وندی کے تحت تھا، آپ کی تلاوت (جس ترتیب سے واقع ہوئی) وہ سب اللہ تعالی کے حکم سے تھی اوراللہ تعالی نے ہی آپ کو اس دوسری ترتیب اختیار کرنے کا حکم دے رکھا تھا ۔اب سوال یہ ہے کہ وہ حکم خداوندی جس کے تحت ترتیب کی یہ تبدیلی عمل میں آئی قرآن کریم میں کہا ں ہے؟ یہ وحی ہمیں قرآن پاک میں نہیں ملتی ۔عجیب بات یہ ہے کہ اس وحی غیر متلو کا انکار کرنے والے بھی قرآن کی موجودہ ترتیب سے اتفاق رکھتے ہیں ۔

چوتھی شہادت

قرآنِ کریم میں ہے:
"
وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَالَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا"۔(النساء:۱۱۳)
ترجمہ:اوراللہ تعالیٰ نے اُتاری آپ پر کتاب اور حکمت اور آپ کوسکھایا وہ جوآپ نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا آپ پربڑا فضل ہے۔

اسی آیت میں 'نزولِ کتاب' سے علیحدہ ، الگ اور مستقل' نزول حکمت' کا ذکر ہے ۔یہ کتاب سے اضافی چیز ہے اور رسول اللہ پر اس کا نزول بھی ہوا ہے، یہ تعلیم قرآن کریم کے ذریعہ یاوحی غیرمتلو کے واسطے سے ملنے والی تمام ہدایات کو شامل ہے۔

پانچویں شہادت

"
يَسْأَلُونَكَ مَاذَاأُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَاعَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّاعَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ"۔ 

ترجمہ:لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کونسی چیزیں حلال ہیں؟ کہہ دو کہ تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جن شکاری جانوروں کوتم نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سکھا سکھا کر (شکار کے لیے) سدھالیا ہو، وہ جس جانور کو(شکار کرکے) تمہارے لیے روک رکھیں، اس میں سے تم کھاسکتے ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (المائدہ:۴) (توضیح القرآن، آسان ترجمہ قرآن:۱/۳۲۵، مفتی تقی عثمانی،مطبع:فرید بکڈپو، دہلی)

سورۃ المائدہ نزول میں آخری سورتوں میں سے ہے؛ 

یہاں "مِمَّاعَلَّمَكُمُ اللَّهُ" میں ایک ایسی تعلیم کی حکایت کی گئی ہے جواس سے پہلے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کودے چکے ہیں، وہ تعلیم کیا تھی؟ شکاری کتا سدھانے کے آداب کہ (۱)کتا خود چھوڑا گیا ہو (۲)خدا کا نام لے کر چھوڑا گیا ہو (۳)وہ اپنے کھانے کے لیئے منہ نہ ڈالے (۴)وہ شکار کوزخم بھی کرے (یہ شرط لفظِ جرح سے ماخوذ ہے) یہ تعلیم اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کس نے دے رکھی تھی؟ قرآنِ کریم میں کیا یہ تعلیم موجود ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کیا اسے "عَلَّمَكُمُ اللَّهُ" کہہ کر ماضی میں ذکر نہیں کیا؟ آگے اس تعلیم کودہرایا گیا ہے۔ یوں سمجھئے جس وحی غیرمتلو کی "مِمَّاعَلَّمَكُمُ اللَّهُ" میں حکایت تھی، اس محکی عنہ (جس بات کی طرف حوالہ دیا جارہا ہے)کوآگے وحی متلو میں دہرایا گیا ہے "فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ" میں اسی کا اعادہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وحی غیرمتلو کوکبھی وحی متلو بھی دہرادیتی ہے، حدیث تعلیم خداوندی پر مبنی نہ ہو تو "مِمَّاعَلَّمَكُمُ اللَّهُ" کا محکی عنہ تواس سے پہلے قرآن کریم میں کہیں موجود نہ تھا۔

چھٹی شہادت

"وَإِذْيَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ"۔(الانفال:۷)
ترجمہ:اور وہ وقت یاد کروجب اللہ تم سے یہ وعدہ کررہا تھا کہ دوگروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمھیں ملے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے اَحکام سے حق کوحق کردِکھائے اورکافروں کی جڑکاٹ ڈالے۔
(توضیح القرآن، آسان ترجمہ قرآن:۱/۵۲۴، مفتی تقی عثمانی،مطبع:فرید بکڈپو، دہلی)

یہ دوجماعتیں کون سی تھیں؟ ایک وہ عظیم تجارتی قافلہ جومکہ سے گیا تھا اور مالِ تجارت لے کر آرہا تھا، دوسری جواس قافلے کی مدد کے لیئے مسلح ہوکر مکہ سے نکلی تھی یہ پرشوکت جماعت تھی مسلمان چاہتے تھے کہ مشرکین کی ان دوجماعتوں میں سے پہلے انہیں بن شوکت والے طائفہ سے واسطہ پڑے، یہ سب بیان جنگ بدر سے متعلق ہے۔

اِس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صریح وعدے کا ذکر کیا جارہا ہے وہ وعدہ قرآن کریم میں کہاں ہے اور کیا تھا؟ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے اس وعدے کا کہیں ذکر نہیں ملتا؛ مگرقرآنِ کریم میں اس کی طرف حوالہ (Reference) ضرور موجود ہے، وہ وعدہ وحی غیرمتلو کے ذریعہ ہوا تھا اور حضور اکرمﷺ نے صحابہؓ کواس کی خبر دی تھی، جب وہ وعدہ قرآن کریم میں کہیں موجود نہیں توہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ پرقرآن کریم کے علاوہ بھی وحی آتی رہی؛ اسی وحی غیرمتلو کوحدیث کہتے ہیں۔

ساتویں شہادت

وَمَاجَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّالِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ۔(البقرۃ:۱۴۳)

ترجمہ:اور جس قبلے پرتم تھے اس کوہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون پیغمبر کے تابع ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے۔
اس آیت کریمہ کاپس منظر یہ ہے کہ جب نبی کریمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، ابتدائی سترہ ماہ بیت المقدس کی جانب قبلہ رو ہونے کا حکم ہوا؛ پھرسترہ ماہ بعد قرآنِ کریم نے بیت المقدس کی جانب قبلہ روہونے کے حکم کومنسوخ کرکے مسلمانوں کے لیے مسجدِ حرام کوقبلہ قرار دیا اور اس طرف رُخ کرنے کا حکم ہوا؛ اسی کویوں ارشاد فرمایا گیا:

فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ(البقرۃ:۱۴۴)

ترجمہ:آپ اپنے چہرے کومسجدِ حرام کا رُخ کرلیجئے۔

اب پہلی آیت ملاحظہ کیجئے اس میں بیت المقدس کوجومدنی زندگی کے ابتدائے ایام میں مسلمانوں کے لیے قبلہ قرار دیا گیا تھا، اس کی نسبت اللہ عزوجل نے اپنی طرف کی ہے کہ جس قبلہ پرتم تھے اس کوہم نے مقرر کیا تھا حالانکہ قرآن کریم میں شروع سے اخیر تک کہیں بھی اللہ عزوجل کی جانب سے بیت المقدس کوبطورِ قبلہ مقرر کیے جانے کا ذکر نہیں۔سولامحالہ اس سلسلے میں آپ کی طرف وحی آئی، جب وہ وحی قرآنِ پاک میں مذکور نہیں تواس یقین سے چارہ نہیں کہ آپ پرقرآنِ کریم کے علاوہ بھی وحی آتی رہی، اسی وحی کووحی غیرمتلو کہتے ہیں۔

آٹھویں شہادت

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَاكَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ (ابقرۃ:۱۸۷)

ترجمہ:روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک میں اور تم ان کی پوشاک ہو، خدا کومعلوم ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کرتے تھے؛ سواس نے تم کومعاف کیا اور تمہاری حرکات سے درگذر فرمائی، اب (تم کواختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور خدا نے جوچیز تمہارے لیے لکھ رکھی ہے اس کو(خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ اور پیؤ؛ یہاں تک کہ صبح کی سفیددھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے؛ پھرروزہ رات تک پورا کرو۔

اس آیتِ کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزے کے حوالے سے ایک حکم یہ بھی تھا کہ اگرکوئی مسلمان رمضان کی رات میں کچھ دیر کے لیے بھی سوجاتا تواس کے لیے پھر کھانے پینے اوربیوی سے ہم بستری کی اجازت نہ ہوتی تھی؛ حالانکہ وہ اس وقت روزے کی حالت میں نہیں ہوتا تھا، بعض لوگوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور سونے کے بعد بیویوں سے ہم بستری کرلیا تواللہ عزوجل نے اس حکم کی خلاف ورزی پراوّلاً توعتاب کا اظہار کیا اور پھراس کے منسوخ ہونے اور سونے کے بعد سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے تک بیویوں سے ہم بستری کی اجازت کا حکم دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ اس آیت کے نزول سے پہلے رمضان کی راتوں میں سونے کے بعد بیویوں سے ہم بستری منع تھی یہ حکم بھی کوئی واجب الاطاعت ذات کی طرف سے تھا اور یہ ذات رسول کی تھی اور یہ بھی وحی جس کوقرآن کے ذریعہ منسوخ کیا گیا اور یہ وحیٔ غیرمتلو تھی۔

نویں شہادت

لَاتُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِo إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُoفَإِذَاقَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُo ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ۔(القیامۃ:۱۶/تا ۱۹)

ترجمہ:اے پیغمبر! آپ قرآنِ پاک پراپنی زبان نہ ہلایا کیجئے؛ تاکہ آپ اس کوجلدی جلدی لیں، ہمارے ذمہ اس کا جمع کردینا اور اس کاپڑھوادینا، توجب ہم اس کوپڑھنے لگاکریں (یعنی ہمارا فرشتہ پڑھنے لگا کرے) توآپ اس کے تابع ہوجایا کیجئے؛ پھراُس کا بیان کردینا ہمارے ذمہ ہے۔

اس آیتِ کریمہ کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی توضیح وتشریح بھی اپنی ذمہ لیتے ہوئے رسول اللہ سے وعدہ فرمایا کہ آپ سے قرآن کریم کی تشریح بیان کردینا بھی ہمارے ذمے ہیں ؛ یہاں یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ تشریح وتوضیح قرآن کریم سے کوئی جداگانہ شکل اور اس کے الفاظ سے علیحدہ اور ممتاز کوئی چیز ہوگی اور یہی وحی غیرمتلو ہے ۔

دسویں شہادت:

"
وَالَّذِیْنَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌo لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ"۔(المعارج:۲۵،۲۴)

ترجمہ:اور جن کے مال ودولت میں ایک متعین حق ہےo سوالی اور بے سوالی کا۔(توضیح القرآن، آسان ترجمہ قرآن:۳/۱۸۰۱، مفتی تقی عثمانی،مطبع:فرید بکڈپو، دہلی)

قرآنِ کریم نے یہ بات نہیں بتلائی کہ زکوٰۃ کس شرح سے فر ض ہوگی اور کب فرض ہوگی ہرماہ پر یاسال گزرنے پر، اس کا مصرف توبیان کردیا کہ سائل اور محروم قسم کے لوگ ہوں گے؛ لیکن کتنا مال ہوگا جب یہ لازم ٹھہرے گی اور کس کس قسم کے مال پر واجب ہوگی یہ سب باتیں قرآنِ کریم میں کہیں مذکور نہیں۔سوال یہ ہے کہ قرآن کریم نے اسے "حق معلوم" کیسے فرمادیا۔صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب تفصیلات اللہ تعالیٰ نے وحی غیرمتلو (Unwarded Revelation) سے حضوراکرمﷺ کوبتلادی تھیں اور آپ نے آگے صحابہؓ کوفرمادی تھیں، حق کیا ہے؟ کتنا ہے؟ اور کب ہے؟ یہ سب کومعلوم ہوچکا تھا، قرآن پاک کی اس آیت میں اسی حق معلوم کی حکایت ہے، حکایت وحی متلو میں ہورہی ہے اور محکی عنہ وحی غیرمتلو میں معلوم ہوا تھا، حدیث کے الہامی ہونے پر قرآن کریم کی یہ ناقابل انکار شہادت بتلارہی ہے کہ آنحضرتﷺ سے اللہ تعالیٰ کی ہمکلامی وحی قرآن کے علاوہ بھی ہوتی تھی۔
"تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ"