Tuesday, November 22, 2016

UMER- AYESHA (r.a) TAHQEEQ KE AYENE ME ?




گزشتہ تحریر میں ہم نے ماضی اور حال کی مثالوں سے تفصیل پیش کی تھی کہ حضرت عائشہ کی نو سال کی عمر میں شادی کوئی عجیب بات نہیں تھی وہ عاقلہ اور بالغہ تھیں۔ یہ دلائل سب کے سامنے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اپنی علمی کم مائیگی کی بناء پر ان احادیث صحیحہ پر زبان طعن دراز کرتے نظر آتے ہیں جن میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر بوقت رخصتی نو (۹) سال بیان کی گئی ہے ۔ انکے موقف کو دیکھا جائے تو انکا یہ اعتراض کسی اصول کی بناء پر نہیں اور نہ ہی اسکی بنیاد کوئی “علم ” ہے ۔ بلکہ اپنے ذززہن سے قائم کردہ ایک مفروضے اورصرف اپنی عقل کوتاہ پر بنیاد رکھ کر انہوں نے ان احادیث صحیحہ کو طعن کا نشانہ بنایا ہے ۔
عمر امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق انکے نقطہ نظر اور اعتراضات پرتبصرہ پیش کرنے سے پہلے یہ عرض کردیں کہ شادی کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کوئی اجتہادی مسئلہ نہیں ہے کہ اس میں یہ غور کیا جائے کہ مسئلہ کا کونسا پہلو صحیح ہے اور کونسا غلط؟ یہ تو ایک ٹھوس حقیقت ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اسکے ٹھوس ہونے کی چند وجوہات ہیں۔

١.عمر سے متعلق خود عمر والے کی صراحت :۔
عمر سے متعلق خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صراحت موجود ہے۔یہ صراحت بخاری اور مسلم دونوں میں ہے جنکو قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتابیں مانا گیا ہے۔ حدیث دیکھئے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ ( ہجرت کرکے ) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا ۔ یہاں آکر مجھے بخار چڑھا اوراس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے ۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہوگئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں ، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوںنے مجھے پکا را تو میں حاضر ہوگئی ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے ۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جارہاتھا ۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا ۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں ۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں ، جنہوںنے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر وبرکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو ، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے میری آرائش کی ۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اورانہوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا میری عمر اس وقت نو سال تھی ۔
صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار
رواه البخاري (3894) ومسلم (1422
)
اس روایت میں صراحت کے ساتھ عمر کا بیان آیا ہے
کیا ہشام بن عروہ اس حدیث کے تنہا راوی ہیں ؟
بعض حضرات دعوی کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا روایت کی صرف ایک ہی سند ہے ۔ حالانکہ متعدد سندوں سے یہ روایت منقول ہے۔ مشہور ترین سند ھشام کی ہے (ھشام بن عروة عن ابیه عن عائشة ) یہ: صحیح ترین روایت بھی ہے کیونکہ یہ عروہ بن زبیر سے آرہی ہے اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال سے سب سے زیادہ واقف تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انکی خالہ تھیں
دوسری سند: سندِ اعمش ہے (اعمش عن ابراھیم عن الاسود عن عائشة ) یہ سند مسلم میں ہے۔ حدیث نمبر: 1422
تیسری سند: سندِ محمد بن عمرو ہے (محمد بن عمرو عن یحی بن عبد الرحمن بن حاطب عن عائشة )یہ سند ابو داؤد میں ہے۔ حدیث نمبر: 4937
مزید یہ کہ شیخ ابو اسحاق حوینی نے عروہ بن زبیر اور ھشام بن عروہ دونوں کے متابعین بھی جمع کئے ہیں
متابعین عروہ بن زبیر : اسود بن یزید، قاسم بن عبد الرحمن، قاسم بن محمد بن ابی بکر، عمرہ بنت عبد الرحمن، یحی بن عبد الرحمن بن حاطب
متابعین ھشام بن عروہ: ابن شہاب زہری، ابو حمزہ میمون
اس کے ساتھ ساتھ کہ شیخ حوینی نے مدنی،مکی وغیرہ ان رواة کو بھی جمع کیا ہے جو ھشام بن عروہ سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں
مدنی رواة: ابو الزناد عبد اللہ بن ذکوان، عبد الرحمن بن ابی الزناد، عبد اللہ بن محمد بن یحی بن عروہ
مکی رواة: سفیان بن عیینہ، جریر بن عبد الحمید؟
بصری رواة: حماد بن سلمہ، حماد بن زید، وھییب بن خالد وغیرہ
خلاصہ یہ کہ راویوں کی اتنی بڑی تعداد اس شبہ کے ازالہ کیلئے کافی ہے کہ ھشام بن عروہ تنہا اس روایت کو بیان کرنے والے ہیں ۔۔
کیا ہشام بن عروہ کا حافظہ آخر عمر میں بگڑ گیا تھا؟
بخاری کی مذکورہ بالا روایت پر دوسرا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ ھشام بن عروہ کا حافظہ آخر عمر میں بگڑ گیا تھا۔ یہ الزام علماء فن رجال میں صرف ابن قطانؒ لگاتے ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔ مگر ابن قطانؒ کا یہ الزام درست نہیں ہے۔ ہشام بن عروہ پہ تبصرہ فرماتے ہوئے امام ذہبی بیان فرماتے ہیں
ترجمہ: ہشام بن عروہ بڑے آدمی ہیں، حجہ ہیں، امام ہیں، بوڑھاپے میں حافظہ بگڑا تو تھا مگر ہمہ وقت بگڑا نہیں رہتا تھا، ابن قطان نے انکے بارے میں جو بات کہی ہے اسکا کوئی اعتبار نہیں، حافظہ بگڑا ضرور تھا مگر ایسا نہیں بگڑا تھا جیسا انتہائی بوڑھے لوگوں کا بگڑ جاتا ہے۔ وہ صرف چند باتیں بھولے تھے،اور اِس میں کوئی خرابی نہیں ، بھول سے کون محفوظ ہے؟ آخر عمر میں جب ھشام بن عروہ عراق آئے تھے تو آپ نے اہل علم کے ایک بڑے مجمع میں احادیث بیان کی تھیں، اس مجمع میں چند ہی احادیث ایسی تھیں جنکو آپ صحیح سے بیان نہ کرسکے تھے (اکثر آپ نے درست بیان کی تھیں ) اس طرح کی صورت حال کا سامنا دیگر بڑے لوگوں کو بھی اپنی آخری عمر میں کرنا پڑا تھا جن میں امام مالک، امام شعبہ امام وکیع جیسے دیگر بڑے نام آتے ہیں۔ اس الزام سے صرف نظر کیجئے۔ بڑے بڑے ائمہ کو کمزور راویوں کے درجے میں لانے سے بچیں۔ ہشام بن عروہ شیخ الاسلام تھے۔
(”
ميزان الاعتدال ” (4/301-302) .

ہم نے کئی اہل علم کو بھی یہ اعتراض دہراتے دیکھا حالانکہ وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ ایک عظیم راوی کی حیثیت کو مشکوک کرنا، اس سے منسوب تمام ذخیرۂ حدیث کو عوام کی نظر میں بے اعتبار کرنے پر منتج ہو سکتا ہے ۔اگر وہ اس اڑتے ہوئے نعرے پر اعتبار فرمانے کے بجائے رجال و تراجم کی کتب کی طرف رجوع کر تے تو اس بے سروپا اعتراض کی حقیقت اور ایک جلیل القدر راویِ حدیث کی مکمل تصویر سامنے آسکتی تھی ۔۔ اس طرح کی ا یک رخی تصویریں پیش کرنا کسی طرح بھی مسلم علمی روایت کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
اہل غلو کی شاید یہ مجبوری ہوتی ہے کہ انھیں صرف اپنے مطلب کی بات سے غرض ہوتی ہے اور کسی کونے کھدرے سے کوئی بات دریافت ہوجائے تو وہ ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھا لیتے ہیں۔

احادیث عمر عائشہ اور تاریخ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور انکے معاصرین سے منقول روایات ان تاریخی کتابوں سے بھی میل کھاتی ہیں جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوانحی خاکے درج ہیں, اِن میں اور اُن میں ذرا اختلاف نہیں ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تمام تاریخی اور سوانحی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش زمانہ اسلام میں ہوئی ہے، بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال بعد۔
امام بیہقیؒ حدیث: لم اعقل ابوی الا وھما یدینان الدین پہ تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
وعائشة رضي الله عنها وُلدت على الإسلام ؛ لأن أباها أسلم في ابتداء المبعث ، وثابت عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي ابنة ست ، وبنى بها وهي ابنة تسع ، ومات عنها وهي ابنة ثمان عشرة ، لكن أسماء بنت أبي بكر ولدت في الجاهلية ثم أسلمت بإسلام أبيها… وفيما ذكر أبو عبد الله بن منده حكاية عن ابن أبي الزناد أن أسماء بنت أبي بكر كانت أكبر من عائشة بعشر سنين ، وإسلام أم أسماء تأخر ، قالت أسماء رضي الله عنها : قدمت عليَّ أمي وهي مشركة . في حديث ذكرته ، وهي قتيلة ، مِن بني مالك بن حسل ، وليست بأم عائشة ، فإن إسلام أسماء بإسلام أبيها دون أمها ، وأما عبد الرحمن بن أبي بكر فكأنه كان بالغا حين أسلم أبواه ، فلم يتبعهما في الإسلام حتى أسلم بعد مدة طويلة ، وكان أسن أولاد أبي بكر ” انتهى باختصار .
السنن الكبرى ” (6/203)
امام ذہبیؒ:
عائشة ممن ولد في الإسلام ، وهي أصغر من فاطمة بثماني سنين ، وكانت تقول : لم أعقل أبوي إلا وهما يدينان الدين ” انتهى .
سير أعلام النبلاء ” (2/139) .
حافظ ابن حجرؒ:
ولدت – يعني عائشة – بعد المبعث بأربع سنين أو خمس ” انتهى .
الإصابة ” (8/16)
ان میں یہ بھی مذکور ہے کہ ہجرت کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر آٹھ سال تھی۔ یہ بات بھی احادیث میں مذکور بات سے مکمل میل کھاتی ہے
ان کتابوں میں یہ بھی مذکور ہےکہ حضورﷺ کے وصال کےوقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس سے بھی یہ بات پتہ چلی کہ ہجرت کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو سال تھی۔

٢.سال وفات سے استدلال
تاریخی، سوانحی اور سیرت کی کتابوں میں یہ مذکور ہے انتقال کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 63‍ سال تھی۔ سال وفات: سن ستاون 57 ہجری ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ ہجرت کے وقت آپؓ کی عمر چھ سال تھی(پس مجموعی طور سے تاریخی کتابوں سے جو عمریں نکلیں وہ تین ہوگئیں۔ نو سال، آٹھ سال اور چھ سال )اگر آپ کسر کو حذف کردیں جیسا کہ عربوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ سن ولادت اور سن وفات کو گنتے نہیں ہیں تو ایسے میں آپؓ کی عمر ہجرت کے وقت آٹھ سال ہوگی، اور نو مہینے بعد رخصتی کے وقت آپؓ کی عمر نو سال ہوگی۔
٣. عمروں کے درمیان فرق سے استدلال
مذکورہ بالا حساب اس وقت بھی درست بیٹھتا ہے جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی عمروں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماء ؓ حضرت عائشہؓ سے کتنی بڑی تھیں۔ امام ذہبی لکھتے ہیں:
وكانت – يعني أسماء – أسن من عائشة ببضع عشرة سنة ” انتهى . ” سير أعلام النبلاء ” (2/188)
ترجمہ: حضرت اسماء حضرت عائشہ سے کچھ سال بڑی تھیں
ابو نعیم لکھتے ہیں:
عن أسماء أنها ولدت : ” قبل مبعث النبي صلى الله عليه وسلم بعشر سنين ” انتهى .
بعثت نبوی سے دس سال پہلے حضرت اسماء کی ولادت ہوئی ۔
پہلا حوالہ دوسرے حوالے کی وضاحت کررہا ہے۔ ان دو حوالوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دونوں بہنوں کے درمیان چودہ پندرہ سال کا فرق تھا۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سال ولادت چار پانچ ہجری ہوا
کیا حضرت اسما حضرت عائشہ سے صرف دس سال بڑی تھیں؟ :
اب ہم بعض لوگوں کے اس دعوے کا جائزہ لیں گے کہ حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان جو فرق تھا وہ دس سال کا تھا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دس سال فرق والی روایت سندا صحیح نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ہم اسکو سندا صحیح مان بھی لیں تو اس روایت کا مطلب وہ بیان کیا جانا چاہئے جو بخاری اور مسلم کی روایات سے لگا کھاتا ہو، نہ کہ یہ کہ اس مشکوک روایت کی وجہ سے بخاری و مسلم کی صحیح روایات کو ساقط کردیا جائے۔ غرض اِس کو اُن کے تابع کیا جائے گا ناکہ اُن کو اِس کے آئیے اس روایت کا حال دیکھتے ہیں۔ دو سندوں سے منقول ہے یہ روایت

پہلی سند : رواه ابن عساكر في ” تاريخ دمشق ” (69/10) قال : أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المالكي ، أنا أحمد بن عبد الواحد السلمي ، أنا جدي أبو بكر ، أنا أبو محمد بن زبر ، نا أحمد بن سعد بن إبراهيم الزهري ، نا محمد بن أبي صفوان ، نا الأصمعي ، عن ابن أبي الزناد قال : فذكره .
دوسری سند : رواه ابن عبد البر في ” الاستيعاب في معرفة الأصحاب ” (2/616) قال : أخبرنا أحمد بن قاسم ، حدثنا محمد بن معاوية ، حدثنا إبراهيم بن موسى بن جميل ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ، حدثنا نصر بن علي ، حدثنا الأصمعي قال : حدثنا ابن أبي الزناد ، قال : قالت أسماء بنت أبي بكر ، وكانت أكبر من عائشة بعشر سنين أو نحوها .
منصف اہل علم جب اس روایت میں غور کریں گے تو ان پر یہ بات ظاہر ہوگی کہ اس روایت کے ظاہر پر عمل کرنا اور اِس کی وجہ سے تمام صحیح روایات کو پس پشت ڈال دینا علم و تحقیق کے نام پر زیادتی ہے ظلم ہے۔ ایسا تین وجہوں سے ہے
پہلی وجہ : عبد الرحمن بن ابی الزناد منفرد ہیں۔ صرف یہی دس سال کا فرق بیان کرتے ہیں۔ ( انکا کوئی متابع نہیں ) جبکہ اس کے خلاف نقطہ نظر کے دلائل جو اوپر مذکور ہوچکے ہیں وہ ایک تو بکثرت ہیں، دوسرے متعدد لوگوں سے منقول بھی ہیں۔ اور یہ مشہور و معروف بات ہے کہ کثرت کو قلت پر ترجیح ہوتی ہے

دوسری وجہ: اکثر اہل علم نے عبد الرحمن بن ابی الزناد کی تضعیف کی ہے۔ ان کے بارے میں ائمہ فن کے اقوال دیکھئے
قول الإمام أحمد فيه : مضطرب الحديث . وقول ابن معين : ليس ممن يحتج به أصحاب الحديث . وقول علي بن المديني : ما حدث بالمدينة فهو صحيح ، وما حدث ببغداد أفسده البغداديون ، ورأيت عبد الرحمن – يعنى ابن مهدى – خطط على أحاديث عبد الرحمن بن أبى الزناد ، وكان يقول فى حديثه عن مشيختهم ، ولقنه البغداديون عن فقهائهم ، عدهم ، فلان وفلان وفلان . وقال أبو حاتم : يكتب حديثه ولا يحتج به . وقال النسائي : لا يحتج بحديثه . وقال أبو أحمد بن عدى : وبعض ما يرويه ، لا يتابع عليه
تهذيب التهذيب ” (6/172)
لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ امام ترمذیؒ نے سنن ترمذی میں عبد الرحمن بن ابی الزناد کی توثیق کی ہے تو تنہا حضرت امام ترمذیؒ کی یہ توثیق اِس مفصل جرح اور تضعیف کے خلاف ہے جو ائمہ فن کے حوالے سے ابھی اوپر مذکور ہوئی۔ ائمہ فن کی یہ تضعیف امام ترمذی کی توثیق پر مقدم ہوگی خاص طور سے اس وقت تو ضرور مقدم ہوگی جب عبد الرحمن بن ابی الزناد تن تنہا ایک ایسی بات بیان کریں (دس سال کا فرق ) جو احادیث اور تاریخی کتابوں میں مذکور بات کے یکسر خلاف ہو

تیسری وجہ: عبد الرحمن بن ابی الزناد کی سند سے آنے والی صحیح ترین روایت کے الفاظ دیکھئے: و کانت اکبر من عائشة بعشر سنین او نحوھا
ترجمہ: اسماءؓ عائشہؓ سے دس سال بڑی تھیں یا اس کے قریب قریب
یہ ‌” او نحوھا” کے الفاظ بذات خود دلالت کررہے ہیں کہ راوی کو عمر ٹھیک ٹھیک یاد نہیں ہے۔ اس سے بھی روایت میں ضعف آتا ہے۔
(
خلاصہ کلام): مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں اہل انصاف علماء، دانشوران اور اسکالرز کیلئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ عبد الرحمن بن ابی الزناد کی مشکوک روایت کی وجہ سے صحیح روایات اور مضبوط دلائل کو رد کردیں، پس پشت ڈال دیں۔۔

: نوٹ: واضح رہے مذکورہ بالا تاریخی روایتیں جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں اِن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا اعتماد اور استدلال کی بنیاد ان تاریخی روایتوں پر ہے۔ نہیں! حاشا و کلا! ہمارے استدلال کی بنیاد تو سند صحیح سے منقول روایات ہیں، مگر چونکہ یہ تاریخی روایات سند صحیح سے منقول روایات سے میل کھا رہی تھیں اس لئے ہم نے صرف تائیدی طور سے نقل کیا ہے۔
 بینجامن  مہر 

salaat ( namaaz) ka tariqa quran se



قرآن اور صلوۃ۔۔۔۔

الله تعالی نے قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا، اس پر عمل کر کے نبی ﷺ نے دکھایا کہ اس صلوۃ کے حکم کا مطلب یہ ہے اور اسے ایسے پورا کرنا ہے۔ بعد میں ایک طبقہ اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ یہ ہے۔۔۔ اور چودہ سو سال سے صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور پھر ان کے بعد آنے والے سبھی غلط سمجھتے رہے۔ مختلف قسم کی ڈکشنریاں نکال کر اپنے مطالب اخذ کرنے لگ جاتے ہیں کہ "ڈکشنری" میں اس کا مطلب یہ بھی ہے اور یہ بھی ہے۔ اب اس کا کونسا مطلب لیا جاۓ گا اس کا فیصلہ بھی خود کرنے لگا جاتے ہیں۔ 
ہمارے لئے نبی ﷺ کی حديث حجت ہے اور نماز کا طریقہ جو نبی ﷺ کے زمانے سے رائج ہے وہی اصل ہے۔ اس پر سیر حاصل گفتگو کئ پوسٹس میں ہو چکی ہے۔ یہاں ہم قرآن سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن کی تفسیر اس حوالے سے ہم مان رہے ہیں وہ ان منکرین حدیث کو کیوں کھٹکتی ہے؟ جب ہمارا فہم معیار نہیں تو ان کا کیوں ہے؟
گو کہ تمام قران ہی رسول پرنور کی زبان سے ادا ہوا۔ اور ان کی نماز پڑھنے کی یہ سنت جاریہ تمام مساجد میں عموماَ اور حرم شریف میں ہر روز پانچ بار دیکھی جاسکتی ہے
آئیے دیکھتے ہیں کہ نمازیں کتنی ہیں اور پڑھی کیسے جاتی ہے اور نماز میں کیا پڑھا جاتا ہے اور اس " تعدادَ نماز "، " کس طرح " اور " کیا پڑھا جائے " ان تین باتوں‌کی تعلیم رسول پاک (ص) اور آپ (ص) سے پہلے نبیوں کو اللہ تعالی کی طرف سے کن آیات سے تعلیم ہوئی۔ پھر دیکھتے ہیں کہ نماز کے مزید احکامات کس طرح تعلیم ہوئے۔ جن کی تعلیم رسولِ کریم نے خود اپنی سنت سے عملی طور پر کی اور اس کو سنت جاریہ بنا دیا۔

تعداد نماز اورکس کس وقت:

فجر، مغرب اور عشاء کی نماز کا حکم:
سورۃ هود:10 , آیت:114 اور آپ دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کیجئے۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

نماز فجر اور عشاء‌کی تعلیم و حکم:
سورۃ النور:23 , آیت:58 اے ایمان والو! چاہئے کہ تمہارے زیردست (غلام اور باندیاں) اور تمہارے ہی وہ بچے جو (ابھی) جوان نہیں ہوئے (تمہارے پاس آنے کے لئے) تین مواقع پر تم سے اجازت لیا کریں: (ایک) نمازِ فجر سے پہلے اور (دوسرے) دوپہر کے وقت جب تم (آرام کے لئے) کپڑے اتارتے ہو اور (تیسرے) نمازِ عشاء کے بعد (جب تم خواب گاہوں میں چلے جاتے ہو)، (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے کے ہیں، ان (اوقات) کے علاوہ نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، (کیونکہ بقیہ اوقات میں وہ) تمہارے ہاں کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں، اسی طرح اللہ تمہارے لئے آیتیں واضح فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے

پانچوں نمازوں کی تعلیم اور حکم،:
سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:16 , آیت:78 آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)

ظہر اور عصر کی نماز کی تعلیم اور اسکاحکم:
سورۃ الروم:29 , آیت:18 اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)

عصر کی نماز کی تعلیم اور اسکا حکم:
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:238 سب نمازوں کی محافظت کیا کرو اور بالخصوص درمیانی نماز کی، اور اﷲ کے حضور سراپا ادب و نیاز بن کر قیام کیا کرو
ا۔ وضو کرنے کا طریقہ:
سورۃ المآئدۃ:4 , آیت:6 اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (کا بھی) ٹخنوں سمیت، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ
تکبیر کی تعلیم:
سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:16 , آیت:111 وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّہ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَّہُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّہُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلَّ وَكَبِّرْۃُ تَكْبِيرًا
اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لئے) کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مددگار ہے (اے حبیب!) آپ اسی کو بزرگ تر جان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہئے ( كَبِّرْۃُ تَكْبِيرًا)
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:185 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لئے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو( وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ ) اور اس لئے کہ تم شکر گزار بن جاؤ
سورۃ الحج:21 , آیت:37 لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ
ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اﷲ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم (وقتِ ذبح) اﷲ کی تکبیر لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ کہو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں
سورۃ العنکبوت:28 , آیت:45 اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ
(
اے حبیبِ مکرّم!) آپ وہ کتاب پڑھ کر سنائیے جو آپ کی طرف (بذریعہ) وحی بھیجی گئی ہے، اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور واقعی اﷲ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اﷲ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو
نماز زبان سے کیسے ادا کی جائے، اس کی تعلیم:
سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:16 , آیت:110 فرما دیجئے کہ اﷲ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں، اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیں
سورۃ فاتحہ کو دہرانے کی تعلیم:
سورۃ الحجر:14 , آیت:87 اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۃ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
سورۃ الحجر:14 , آیت:88 ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور (جملہ کائنات میں) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بڑا بُردبار بڑا بخشنے والا ہے
قیام، رکوع اور سجود کی تعلیم:
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:125 اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو لوگوں کے لئے رجوع (اور اجتماع) کا مرکز اور جائے امان بنا دیا، اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو، اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل (علیھما السلام) کو تاکید فرمائی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک (صاف) کر دو
رکوع و سجود کی مزید تعلیم:
سورۃ الحج:21 , آیت:77 اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:43 اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو
سورۃ المآئدۃ:4 , آیت:55 بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں
سورۃ التوبۃ:8 , آیت:112 (یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے
مزید دیکھئے رکوع اور سجود کی تعلیم کی مد میں
سورۃ الفتح:47 , آیت:29۔ سورۃ آل عمران:2 , آیت:113 ۔ سورۃ النسآء:3 , آیت:102 ۔ سورۃ الاعراف:6 , آیت:206 ۔ سورۃ الرعد:12 , آیت:15 ۔ سورۃ الحجر:14 , آیت:98 ۔ سورۃ النحل:15 , آیت:49 ۔ سورۃ الاسراء / بني إسرآءيل:16 , آیت:107 ۔ سورۃ مريم:18 , آیت:58 ۔ سورۃ الحج:21 , آیت:18 ۔سورۃ الفرقان:24 , آیت:64 ۔ سورۃ فصلت / حٰم السجدۃ:40 , آیت:37 ۔ سورۃ الفتح:47 , آیت:29 ۔ سورۃ النجم:52 , آیت:62 ۔ سورۃ الانسان / الدھر:75 , آیت:26 ۔ سور العلق:95 , آیت:19
سبحان رب العظیم کی تعلیم:
سورۃ الواقعۃ:55 , آیت:74 فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں
سبحان رب الاعلی کی تعلیم:
سورۃ الاعلیٰ:86 , آیت:1 سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى
اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے
تشھید کی تعلیم:
سورۃ آل عمران:2 , آیت:18 شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَ۔هَ إِلاَّ هُوَ وَالْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِماً بِالْقِسْطِ لاَ إِلَ۔هَ إِلاَّ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے
منافقوں‌کی شہادت کہ شناخت کی تعلیم:
سورۃ المنافقون:62 , آیت:1 إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (اے حبیبِ مکرّم!) جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اُس کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناً منافق لوگ جھوٹے ہیں
درود کی تعلیم:
سورۃ الاحزاب:32 , آیت:56 إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو
ان حوالہ جات کو چیک کرلیں، اور قران سے ہدایت حاصل کیجئے۔ اللہ تعالی اور قرآن کہ ہم تک رسول پاک کی زبان اور سنت کے ذریعے پہنچا ہی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
سورۃ آل عمران:2 , آیت:4 (جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لئے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بیشک جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے سنگین عذاب ہے، اور اﷲ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے
بینجامن  مہر 

Friday, October 14, 2016

SAHIH SANAD KEE BAWAJUD HADEES PER AMAL NAHI




صحتِ سند کے باوجود حدیث کے ناقابل عمل ہونے کی صورتیں:

صحتِ سند کے باوجود حدیثیں بسااوقات ناقابل عمل ہوتی ہیں، یعنی اصول روایت کی روشنی میں تووہ حدیث راوی کے عادل اور صادق ہونے اور جمیع شروطِ صحت کوجامع ہونے کی وجہ سے بالکل صحیح ہوتی ہیں؛ لیکن اصولِ درایت کی روشنی میں وہ حدیث بچند وجوہ درست نہیں ہوتی۔
جب کوئی ثقہ اور مامون شخص متصل سند سے کوئی حدیث روایت کرے تودرجِ ذیل صورتوں میں ناقابل قبول شمارکی جائے گی:
1۔حدیث کا خلافِ عقل ہونا:
پہلی صورت یہ ہے کہ حدیث موجباتِ عقلیہ یعنی عقلِ سلیم جس بات کوضروری قرار دے رہی ہو یہ حدیث اس کے خلاف ہوتورد کردی جائے گی؛ چونکہ شریعت ممکناتِ عقلیہ کوبیان کرتی ہے محالات کونہیں، مثلاً حدیث:
یعنی زنا سے پیدا ہونے والی اولاد زانی، مزنیہ اور ولد تینوں میں بدترین ہے۔ (مستدرک، كتاب العتق،حدیث نمبر:۲۸۵۳، شاملہ، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت)
اِس حدیث کوحاکم نیساپوری نے مستدرک:۳۱/۱۱۲، میں روایت کرکے اس کوصحیح کہا ہے اور حافظ ذھبی رحمہ اللہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت کی ہے؛ مگرحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس حدیث کوعقل کی کسوٹی پرپرکھتے ہوئے رد فرمارہے ہیں، فرماتے ہیں:ترجمہ:اگریہ تینوں میں بدترین ہوتا تواس کی ماں کورجم کیئے جانے میں اتنی مہلت نہ دی جاتی کہ وہ اسے جن لے۔ (سیراعلام النبلاء:۴/۳۰۰، شاملہ،موقع یعسوب)

2۔ قرآن کے خلاف ہونا
دوسری صورت یہ کہ وہ حدیث قرآن کریم کی کسی آیت سے معارض ہوتو سمجھا جائے گا کہ اس حدیث کی یاتوکوئی بنیادہی نہیں ہے یاپھروہ منسوخ ہے یامؤوّل ہے، مثلاً حدیث:ترجمہ:کہ زنا کی اولاد سات نسل تک جنت میں نہیں جائیگی۔ (اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة:۲/۱۶۴،شاملہ، المؤلف:جلال الدين السیوطی،الناشر:دارالكتب العليمة)
یہ حدیث قرآنِ کریم کی آیت:ترجمہ:اورکوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی اور کابوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ (الانعام:۱۶۴) کے صریح معارض ہے؟ اس لیے علماءِ امت نے اس کوموضوع قرار دیا ہے۔

3۔سنتِ مشہورہ کے خلاف ہونا
تیسری صورت یہ ہے کہ وہ حدیث کسی سنتِ مشہورہ سے معارض ہورہی ہوتویہ سمجھا جائے گا کہ وہ حدیث یاتومنسوخ ہے یامؤول ہے یاغیرثابت ہے،مثلاً:ترجمہ:اگرجنابت کی حالت میں کسی کی صبح ہوجائے تواس دن وہ شخص روزہ نہ رکھے، اِس کا روزہ نہیں ہوگا۔(مسنداحمدبن حنبل،مسند أبي هريرة رضي الله عنه،حدیث نمبر:۸۱۳۰، صفحہ نمبر:۲/۳۱۴، شاملہ، الناشر: مؤسسة قرطبة،القاهرة)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت منقول ہے علامہ بوصیریؒ نے الزوائد میں اس کی سند کوصحیح اور رجال کوثقہ کہا ہے؛ لیکن جمہور نے اس حدیث کوسنتِ مشہورہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے ترک کردیا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اورام المؤمنین ام سلمہؓ سے کثیر طرق سے اس مضمون کی حدیثیں مروی ہیں کہ خود رسول اللہﷺ کی اس حال میں صبح ہوتی تھی اور آپﷺ غسل فرماکر نمازِ فجرپڑھانے کے لیے برآمد ہوتے تھے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے تھے۔(شرح معانی الآثار للامام الطحاوی، باب الرجل یصبح فی یوم من شھر رمضان جنبا ھل یصوم أم لا؟، شاملہ، موقع الإسلام)

4۔ اجماع کے خلاف ہونا

چوتھی صورت یہ ہے کہ وہ حدیث اجماع کے خلاف ہو جس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ یاتومنسوخ ہے یااس کی کوئی بنیاد نہیں ہے یااس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں؛ بلکہ اس میں ایک قسم کی تاویل ہے؛ چونکہ اگروہ حدیث واقعتاً ثابت ہو اور منسوخ یامؤول بھی نہ ہوتوممکن ہی نہیں کہ امت اس کے خلاف پرمتفق ہوجائے مثلاً حدیث:ترجمہ:کہ شراب پینے والے کوکوڑے لگاؤ؛ اگرپھربھی باز نہ آئے توچوتھی مرتبہ میں اسے قتل کردو۔ (ترمذی، کتاب الحدود عن رسول اللہﷺ ، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوہ ومن عاد فی الرابعۃ فاقتلوہ، حدیث نمبر:۱۳۶۴، شاملہ، موقع الإسلام)
امام ترمذی ؒ نے اس حدیث کونقل کرنے کے بعد فرمایا، شروع میں حکم ایسے ہی تھا؛ پھربعد میں منسوخ ہوگیا، محمدبن اسحاق نے محمدبن منکدر کے واسطہ سے حضرت جابر کی حدیث نقل کی ہے، فرماتے ہیں، حضوراکرمؐ نے فرمایا تھا کہ جوشخص شراب پئے اسے کوڑے لگاؤ؛ اگرچوتھی بار پی لے تواسے قتل کردو؛ پھراس کے بعد ایک شخص آپ کے پاس لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی توآپ نے پٹائی کرکے اُسے چھوڑدیا، قتل نہیں فرمایا، حضرت قبیصہ بن ذویب سے بھی یہی مضمون منقول ہے، اس کے بعد امام ترمذیؒ فرماتے ہیں: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَانَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ (ترجمہ:چوتھی مرتبہ شراب پینے والے کوقتل نہ کرے) پرتمام اہلِ علم کا عمل ہے اس سلسلہ میں متقدمین ومتأخرین میں سے کسی کااختلاف ہمارے علم میں نہیں ہے۔
5۔ حدیث کا شاذہونا
پانچویں صورت یہ ہے کہ کوئی ایک شخص کسی ایسی بات کے روایت کرنے میں منفرد ہو جس کا علم تمام یااکثرلوگوں کوہونا چاہیے تھا؛ پھربھی ایک ہی شخص کا روایت کرنا اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ اس کی سرے سے کوئی اصل نہیں ہے؛ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کی کوئی اصل ہواور بے شمار لوگوں میں سے صرف اسی کومعلوم ہو، فقہائےکرام اس طرح کی احادیث کوشاذ سے تعبیر کرتے ہیں، حدیث قلتین، جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ ہیں کہ حضوراکرمﷺ نے فرمایا: ترجمہ:پانی جب دوقلہ (دومٹکوں کے بقدر) ہوجائے تواس میں ناپاکی سرایت نہیں کرتی یعنی وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ (ترمذی، كِتَاب الطَّهَارَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مِنْهُ آخَرُ،حدیث نمبر:۶۲،شاملہ، موقع الإسلام)
یہ حدیث گرچہ متعدد سندوں سے مروی ہے؛ لیکن تمام کامرجع دوسندیں ہیں، ایک سند ولید بن کثیر، عن محمد بن جعفر بن الزبیر عن عبداللہ بن عبداللہ عن ابن عمر اور دوسری سند الولید بن کثیر عن محمد بن عباد بن جعفر عن عبیداللہ بن عبداللہ عن ابن عمر ہے اور اس میں روایت کا اختلاف ہے؛ اسی وجہ سے بعض ناقدین نے اسپراضطراب کا حکم لگایا ہے، حافظ ابنِ قیمؒ نے تہذیب سنن ابی داؤد، صفحہ نمبر:۱/۶۲ پرکئی نقد کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے، جہاں تک شذود کا تعلق ہے تویہ حدیث حلال وحرام اور طاہروناپاک کے درمیان ایک ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے، پانی کی طہارت ونجاست کے تعلق سے اسکا وہی مقام ہے جوزکوٰۃ میں مالوں کے نصاب اور وسق وغیرہ کی ہے؛ پھرکیوں یہ حدیث صحابہؓ کے درمیان معروف نہیں ہوئی کیوں امت کواس حدیث کوجاننے کی زکوٰۃ کے نصاب کوجاننے سے زیادہ ضرورت تھی؛ چونکہ پاکی وناپاکی سے یہ امیروغریب کوواسطہ پڑتا ہے، اس کے مقابل زکوٰۃ کے نصاب وغیرہ کی جانکاری صاحب نصاب کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
صرف اُس روایت کو حضرت ابن عمرؓ سے ان کے صاحبزادے عبداللہ اس روایت کونقل کرتے ہیں، ان کے دیگر تلامذہ نافع، سالم، ایوب اور سعید بن جبیر وغیرہ کہاں گئےاتنی اہمیت کی حامل حدیث جوپاکی وناپاکی کے درمیان ایک ضابطہ اور رابطہ کی حیثیت رکھتی ہے اس کو اہلِ مدینہ کے درمیان خوب چرچا ہونا چاہیے تھا، اس سے پتہ چلا کہ حضرت عمرؓ کے پاس کوئی ایسی سنت سرے سے تھی ہی نہیں۔

6۔ حدیث کا کسی ایسے مسئلہ سے متعلق ہونا جوتواتر کا متقاضی ہو

چھٹی صورت یہ ہے کہ کوئی ایک شخص کسی ایسی بات کے نقل کرنے میں منفرد ہو جس کوبطریق تواتر منقول ہونا چاہیے تھا اور اس جیسی بات عادتا تواتر کے ساتھ ہی منقول ہوا کرتی ہے؛ چنانچہ اس منفرد شخص کی یہ حدیث قبول نہیں کی جائیگی؛ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس جیسے قضیہ میں صرف یہی شخص روایت کرے، مثلاً: وہ حدیث عقائد کے باب سے تعلق رکھتی ہو، یاکسی کلام کوقرآن کی آیت بتلاتی ہو جس کا آیت ہونا تواتر سے منقول نہ ہو؛ چنانچہ قرأت شاذہ کوقرآن کا درجہ نہیں دیا جاسکتا؛ خواہ ان کی روایت صحیح اور متصل سند ہی کیوں نہ ہو۔

حدیث کی تقویت میں اصولِ درایت کا اثر

مذکورہ بالا امور سے حدیث کا ناقابل عمل یامرجوح ہونا معلوم ہوتا ہے، جب کہ کچھ قرائن اور دلائل ایسے بھی ہوتے ہیں جواصولِ درایت کی روشنی میں غیرمقبول حدیث کومقبول اور قابل عمل بنادیتے ہیں؛ چنانچہ خطیب بغدادی اپنی کتاب الکفایہ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ:پہلی قسم جس سے حدیث کی صحت کا علم ہوتا ہے، اس کی جانکاری کی راہ ہے اگروہ روایت متواتر نہ ہو کہ جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے کہ وہ روایت مقتضائے عقل کے مطابق ہو، کبھی اس کی صحت یوں معلوم ہوتی ہے کہ وہ خبرنص قرآنی یاسنت مشہورہ کے مطابق ہو یاامت نے اس روایت کودرست گردانا ہو اور اس پرعمل درآمد کیا جاتا رہا ہو۔ (الکفایۃ فی علم الروایۃ،باب الكلام في الاخبار وتقسيمها:۱/۱۷،شاملہ،الناشر: المكتبة العلمية،المدينة المنورة)

مطلب یہ ہے کہ گرچہ حدیث اخبارِ آحاد سے تعلق رکھتی ہولیکن اس کے ساتھ وہ مقتضائے عقل کے مطابق ہو یانص قرآنی کے موافق ہو، یاسنتِ متواترہ کے موافق ہو، یاامت کا اس کے مطابق اجماع ہو، یاعمومی طور پراس حدیث کولوگوں نے قبولیت کے ہاتھوں لیا ہو اور اس کے تقاضے پر عمل کیا ہو یہ تمام قرائن اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے؛ گرچہ اصولِ روایت کے مطابق اس میں کچھ خلل اورکمزوری کیوں نہ ہو۔

مجموعی گفتگو سے پتہ چلا کہ علمائے امت نے جس طرح اصولِ روایت کواپناکر حدیث کے سلسلہ اسناد کے احوال کومعلوم کیا ہے اسی طرح اصولِ درایت پر، پرکھ کراسکے متن کے قابل عمل یاناقابل عمل ہونے کا پتہ بھی چلایا ہے۔

جاری ہے
 فوزیہ جوگن نواز 

Asma' al-Rijal ( biographical evaluation )





یہ علم راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہے، اس کے ذریعہ ائمہ حدیث نے مراتب روات اور احادیث کی قوت وضعف کا پتہ لگایاہے۔

نقدِ اسناد کے مراحل

نقدِ اسناد کے لیے باحث کوپانچ مراحل سے گزرناپڑے گا:

١. نقدِ اسناد کے لیے جوبات سب سے پہلے پیشِ نظر رکھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ رجال اسناد کی تعیین وتشخیص کرلی جائے؛ کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے ایک ہی طبقے کے راویوں کے نام، کنیت اور ان کی نسبت کبھی ایک ہوتی ہے، جس کی بناء پران کے درمیان امتیاز کرنا دشوار ہوجاتا ہے، اس کے لیے کتبِ رجال کی مدد لی جائے گی؛ پھراس راوی کے شیخ یاشاگرد وغیرہ کے احوال کے ذریعہ اس راوی کی تشخیص کی جائے گی، اس کے بعدیہ معلوم ہوکہ یہ کتب ستہ کا راوی یاضعیف راوی یااس کا تعلق کسی خاص شہر سے یاخاص طبقہ سے تومتعلقہ فنون کی کتاب سے؛ ورنہ عام کتب رجال کے ذریعہ جوحروف معجم پرترتیب دی گئی ہیں راوی کی تشخیص وتعیین کی جائے گی۔

٢. دوسرے رجالِ اسناد کی عدالت اور ضبط کی تحقیق کا مرحلہ ہے؛ چونکہ کسی بھی حدیث کے اصطلاحی اعتبار سے صحیح ہونے کے لیے اس میں پانچ شرطوں کا متحقق ہونا ضروری ہوتا ہے:(۱)راوی کا عادل ہونا (۲)راوی کا ضابط یعنی حدیث کو محفوظ رکھنے والا ہونا (۳)اسی طرح راوی اور اس کے شیخ اور راوی اُس کے شاگرد کے درمیان سند کا متصل ہونا (۴)حدیث کا شذوذ سے محفوظ ہونا (۵)حدیث کا کسی باطنی علت سے محفوظ ہونا۔

راوی کے عادل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ راوی مسلمان، عاقل، بالغ ہو، فسق اور انسانی شرافت کے خلاف امور اور بدعات سے اجتناب وپرہیز کرتا ہو۔
ضابط ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کوجیسے سنی تھی بغیر کسی کمی زیادتی کے ویسے ادا کرے؛ خواہ سینے میں محفوظ کرے یاسفینے (نوشتہ) میں، جس راوی میں یہ دونوں اوصاف جس کمال درجہ کے ہوں گے وہ اسی قدر ثقہ درجہ کا حامل ہوگا۔راوی کے اوصاف پر ایک نہایت جامع اور وجیز (وجیز کہتے ہیں جلدی سے سمجھ میں آنے والےمختصر کلام کو) بحث پیش ہے۔

"
راوی کے وہ تمام اوصاف جوبلحاظ روایت اس کی قبولیت کا معیار بن سکتے ہیں دواصولی صفات کی طرف راجع ہوتے ہیں، عدالت اور ضبط؛ اگرروایت کے راوی عادل ہوں جن میں عدالت کا فقدان یانقصان نہ ہو اور ادھر وہ ضابط ہوں جن میں حفظ وضبط اور تیقظ وبیداری کانقصان وفقدان نہ ہو اور قلت عدالت وضبط سے جوکمزوریاں راوی کولاحق ہوتی ہیں ان سے راوی پاک ہوں اور ساتھ ہی سندمسلسل اور متصل ہو تووہ روایت صحیح لذاتہ کہلائے گی، جواوصاف راوی کے لحاظ سے روایت کااعلی مرتبہ ہے؛ کیونکہ اس میں عدالت وضبط مکمل طریق پر موجود ہے، جوراویوں کوثقہ اور معتبر ثابت کرتا ہے؛ اس لیے اس دائرہ میں حدیث کی یہ قسم بنیادی اور اساسی کہلائے گی، اس کے بعدجوقسم بھی پیدا ہوگی وہ ان اوصاف کی کمی بیشی اور نقصان یافقدان سے پیدا ہوگی، اس لیے وہ اسی خبر کی فرع کہلائے گی، مثلاً اگرراوی ساقط العدالت ہوتو اس نقصانِ عدالت یافقدانِ عدالت سے پانچ اُصولی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں؛ جنھیں مطاعن حدیث کہا جاتا ہے:
(
۱)کذب (۲)تہمت کذب (۳)فسق (۴)جہالت (۵)بدعت: یعنی راوی کاذب ہویاکذب کی تہمت لیئے ہوئے ہو یافاسق ہو یاجاہل ونادان ہو یابدعتی ہو توکہا جائے گا کہ وہ عادل نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں؛ اسی طرح اگرراوی ضابط نہ ہوتو اس نقصان حفظ یافقدانِ حافظہ سے بھی پانچ ہی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں 

جوروایت کوبے اعتبار بنادیتی ہیں:

(
۱)فرطِ غفلت (۲)کثرتِ غلط (۳)مخالفتِ ثقات (۴)وہم (۵)سوء حفظ: یعنی راوی غفلت شعار اورلااُبالی ہو، جس میں تیقظ اور احتیاط اور بیدار مغزی نہ ہو یاکثیرالاغلاط ہو یاثقہ لوگوں سے الگ نئی اور مخالف بات کہتا ہو یاوہمی ہو اسے خود ہی اپنی روایت میں شبہ پڑجاتا ہو یاحافظہ خراب ہو، بات بھول جاتا ہو توکہا جائے گا کہ یہ راوی ضبط وحفظ میں مضبوط نہیں، اس لیے اس کی روایت کا کچھ اعتبار نہیں؛ لیکن اس نقصانِ عدالت وضبط یاان دس مطاعن کے درجات ومراتب ہیں؛ اگران صفاتِ عدل وضبط میں کوئی معمولی سی کمی ہو؛ مگرروایت کے اور طریقوں اور سندوں کی کثرت سے ان کی کمزوریوں کی تلافی ہوجائے تواس حدیث کوصحیح لغیرہ کہیں گے؛ اگریہ تلافی اور جبر نقصان نہ ہو اور وہ معمولی کمزوریاں بدستور قائم رہ جائیں توحدیث حسن لذاتہ کہلائے گی؛ اگراس حالت میں بھی کثرتِ طرق سے تلافیٔ نقصان ہوجائے توحدیث حسن لغیرہ کہلائے گی اور اسی نسبت سے اُن کے اعتبار اور حجیت کا درجہ قائم ہوگا؛ پس اوصاف رواۃ کے لحاظ سے حدیث کی چار اساسی قسمیں نکل آئیں:
(١.)صحیح لذاتہ (۲)صحیح لغیرہ (۳)حسن لذاتہ (۴)حسن لغیرہ اور ان میں بھی بنیادی قسم صرف صحیح لذاتہ ہے جواپنے دائرہ میں سب سے اُونچی قسم ہے"۔
(فضل الباری، مولانا شبیراحمدعثمانیؒ:۱/۹۸۔ مقدمہ ، از مولانا قاری محمدطیب صاحبؒ)

٣. تیسرے مرحلہ میں ہمیں یہ تحقیق کرنا ہوگا کہ راوی کا اس کے شیخ سے سماع ثابت ہے یانہیں ہے کہ جس کے ذریعہ سند کے اتصال کا پتہ چل سکے، حدثنا، اخبرنا اور سمعت وغیرہ کے صیغے صراحتہ سماع پر دلالت کرتے ہیں، اس سے سند کے اتصال کا ثبوت ہوجائے گا، عَنْ وغیرہ سے روایت کرنے کی صورت میں اگرراوی معتمد ہے توکوئی بات نہیں؛ ورنہ کتبِ رجال کی مراجعت سے راوی اور شیخ کے درمیان سماع وعدمِ سماع کا ثبوت ہوجائے گا۔

٤. اس کے بعد چوتھا مرحلہ حدیث پرحکم لگانے کا ہے کہ راوی کی عدالت وضبط اور سند کے اتصال وغیرہ کی جانچ کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ روایت صحیح درجہ کی ہے یاحسن کی یایہ حدیث ضعیف یاموضوع وغیرہ ہے،؟

حدیث پر احکام کے نفاد کا طریقہ:

اس کے لیے حافظ ابنِ حجرؒ نے تقریب التہذیب میں جوروات کی درجہ بندی کی ہے، ثقہ وضعیف ہونے کے اعتبار سے درجات قائم کیے ہیں، اِن الفاظِ جرح وتعدیل کوپیشِ نظر رکھ کرحدیث پراحکام کے نافذ کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے اور کتب ستہ اور ان جیسی کتابوں کے روات کی درجہ بندی کی گئی ہے وہ درج ذیل ہے:
۱۔پہلےدرجہ کو حافظ نے صحابہ کرامؓ کے لیے مختص کیا ہے کہ ان کی تحقیق یاتفتیش کی کوئی ضرورت نہیں یہ بالکل اس سے ماوراء ہیں۔

۲۔دوسرادرجہ ان لوگوں کے لیے مختص کیا ہے جوعلماء جرح وتعدیل اور ائمہ نقد کی حیثیت رکھتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ أوثق الناس، ثقۃ ثقۃ ثقۃ متقن جیسے مبالغہ کے صیغے یاتاکیدی تعبیر استعمال کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کی حدیث نمبر ایک کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۳۔تیسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جن کوثقہ کہنے پردوسرے لوگ یعنی ائمہ جرح وتعدیل متفق ہوں؛ چنانچہ ان لوگوں کوحافظ صاحبؒ ثقۃ، متقن، حجۃ، حافظ، ثبت وغیرہ بغیرتکرار کے صیغوں کا استعمال کرتے ہیں؛ انھیں لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں، جن کے صحابی ہونے میں اختلاف ہوا ہے۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبردو کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۴۔چوتھا مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے ثقہ کہنے پردوسرے درجہ کے ائمہ جرح وتعدیل تقریباً متفق ہوتے ہیں، کسی ایک دو نے اختلاف کیا ہوا ہوتا ہے، اس اختلاف کے پیشِ نظر حافظ صاحب انھیں کچھ ہلکی تعبیر سے موسوم کرتے ہیں صدوق، لاباس بہ، لیس بہ بأس۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر تین کی صحیح لذاتہ ہوتی ہے۔

۵۔پانچواں درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل نے اختلاف کیا ہوا ہے، بعض توثیق اور بعض تضعیف کرتے ہیں، تضعیف کی بھی کوئی بنیاد ہوتی ہے، ایسے لوگوں کوحافظ صاحب صدوق یھم، صدوق یخطئی، صدوق لہ أوھام، صدوق یخطیٔ کثیراً جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ والوں کی حدیث نمبر ایک کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۶۔چھٹا مرتبہ ان رجال کے لیے ہے جوقلیل الحدیث ہوتے ہیں (یعنی ان کی احادیث ایک سے دس کے درمیان ہوتی ہے) اور ان پرکوئی ایسی جرح بھی نہیں ہوتی کہ جس کی وجہ سے ان کی احادیث چھوڑی جائیں؛ اگرایسے لوگوں کوکوئی متابعت مل جاتی ہے توان کوحافظ صاحب مقبول اور جن کی متابعت نہیں کی گئی ہوتی ہے ان کو لین الحدیث کہتے ہیں۔ اس مرتبہ میں دوشقیں ہیں مقبول اور لین الحدیث مقبول کی حدیث نمبردوکی حسن لذاتہ ہوتی ہے اورلین الحدیث کی نمبر تین کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔

۷ ۔ساتواں مرتبہ ان لوگوں کے لیے جن سے روایت کرنے والے ایک سے زائد ہوتے ہیں؛ مگران کی توثیق کسی نے نہیں کی ہوتی، ایسے لوگوں کو حافظ صاحب مستور، مجھول الحال، لایعرف حالہ سے تعبیر کرتے ہیں، اس مرتبہ میں حافظ صاحب نے عموماً ان لوگوں کوشامل کیا ہے جن کوامام بخاریؒ نے اپنی تاریخ اور ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہوتا ہے اور وہ تابعین سے نیچے کے طبقے کے ہوتے ہیں، یااُن کے تعلق ابن ابی حاتم، ابن مدینی اورابن القطان نے مجہول کہا ہوتا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ مجہول العین اور مجہول الحال دونوں پر مجہول کا اطلاق کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی احادیث کے بارے میں توقف کیا جائے؛ تاآنکہ ان کا حل واضح ہوجائے؛ بایں طور کہ اس کا کوئی متابع یاشاہد مل جائے؛ لہٰذا یہ حدیث حسن لغیرہ کی نمبر ایک شمار ہوگی۔

۸۔اٹھواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق کسی امام معتبر کی توثیق نہیں ہوئی ہے؛ بلکہ ائمہ جرح وتعدیل کی جانب اس کے ضعیف ہونے کا اطلاق موجود ہوتا ہے، یہ تضعیف مبہم ہی کیوں نہ ہو؛ اُن کوحافظضعیف، لیس بالقوی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کی حدیث ضعیف کہلاتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے اس وقت یہ نمبردو کی حسن لغیرہ ہوگی۔

۹۔نواں درجہ ان رجال کا ہے جن سے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہوتا ہے اوران کی کسی نے توثیق نہیں کی ہوتی ہے، دراصل یہ لوگ اصحابِ حدیث ہوتے ہی نہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث بھی ضعیف ہوتی ہے اور تعدد طرق کی صورت میں بلند ہوکر حسن لغیرہ تک پہونچ جاتی ہے؛ مگریہ نمبرتین کی حسن لغیرہ ہوتی ہے

۱۰۔یہ درجہ ان لوگوں کا ہے جن کے متعلق ائمہ جرح وتعدیل نے سخت جرحیں کی ہوئی ہیں؛ یہاں تک کہ ان کے حدیث کے لکھنے یاان سے روایت کرنے سے بھی منع کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو حافظ متروک کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث ضعیف جدا (بہت ضعیف) کہلاتی ہے۔
۱۱۔گیارہواں مرتبہ ان لوگوں کا ہے جوکذب کے ساتھ متہم ہوتے ہیں، یعنی حدیثِ رسول میں توان کا کذب ثابت نہیں ہوتا؛ البتہ عام بول چال میں وہ دروغ گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں، ان لوگوں کوحافظ متھم بالکذب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ کے لوگوں کی حدیث متروک کہی جاتی ہے۔

۱۲۔یہ ان بدبختوں کا درجہ ہے جوحدیثِ رسولﷺ میں جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں؛ چنانچہ حافظ ان کووضاع یا کذاب کہتے ہیں۔ ان کی روایات موضوعات واباطیل کہلاتی ہیں؛ اگرایسا شخص توبہ بھی کرے توتوبہ کےبعد بھی اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی۔

حافظ ابنِ حجرؒ کی مذکورہ بالا ترتیب کوپیشِ نظر رکھ کر اسی کے مطابق حکم لگایا جاسکتا ہے، مثلاً اگرسند کے تمام روات دوسرے، یاتیسرے، یاچوتھے مرتبہ سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ صحیح اس کی سند صحیح ہے اور اگرسند میں کوئی راوی پانچویں یاچھٹے مرتبہ کا ہے توآپ کہہ سکتے ہیں اسنادہ حسن اس کی سند حسن ہےاور اگرسند میں کوئی راوی ساتویں یاآٹھویں مرتبہ کا ہے تو آپ کہیں گے اسنادہ ضعیف اس کی سند ضعیف ہے؛ اگر سند میں کوئی راوی دسویں مرتبہ کا ہے توآپ کہیں گے اسنادہ ضعیف جداً اس کی سند بہت ضعیف ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی گیارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ متروک اس کی سند متروک ہے؛ اگرسند میں کوئی راوی بارہویں مرتبہ کا ہے توکہیں گے اسنادہ موضوع۔

اس سے پتہ چلا کہ نتیجہ ہمیشہ کمزور کے تابع ہوتا ہے؛ پھراگر پانچویں اور چھٹے مرتبہ والے راویوں کوان ہی جیسا یااُن سے اچھے روات کی متابعت مل جائے توان پربھی صحیح کا حکم لگایا جائے گا، یہ صحیح لغیرہ ہوگی؛ اگرساتویں آٹھویں اور نویں مرتبہ والوں کومتابعت مل جائے تواُن کی سند ضعیف سے اٹھکر حسن لغیرہ کوپہونچ جائے گی؛ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے اسنادہ حسن۔

دسویں سے لےکر بارہویں مرتبہ تک کے لوگوں کوتعدد طرق سے کوئی فائدہ نہیں پہونچتا، ان کی سند میں کوئی قوت نہیں ہوتی؛ اگر راوی کےذکرتقریب التہذیب میں (جو کہ کتب ستہ اور اس کے بعض ملحقات کے راویوں کی درجہ بندی پرمشتمل ہے ) نہ ہوتو پھرکتبِ رجال سے اس راوی کے احوال کونکال کروہ راوی حافظ کےقائم کردہ مراتب میں سے جس مرتبہ سے میل کھاتا ہواس کے مطابق اس راوی کے حدیث کا درجہ متعین کیا جائے گا۔

 ٥. پانچواں مرحلہ حدیث کا شذوذ اور علت سے محفوظ ہونے کا ہے۔شدوذ کہتے ہیں کہ کوئی ثقہ راوی اپنی روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ یااپنے جیسے یااپنے سے فروتر متعدد ثقات کی حدیث کی مخالفت کرے اور علت سے مراد یہ ہے کہ سند کے بظاہر صحیح ہونے کے باوجود اس میں باطنی طور سے کوئی ایسی علت ہو جوحدیث کوناقابل قبول بناتی ہو، یہ علت کبھی سند میں ہوتی ہے اور کبھی متن میں اور کبھی دونوں میں، شذوذبھی درحقیقت علت ہی کی ایک صورت ہے، علت کی شناخت ہونے کے بعد اس کی مختلف صورتیں ملتی ہیں، جن کوالگ الگ نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے، مثلاً شاذ، منکر، مرسل خفی، مزید فی متصل الاسانید، مقلوب، مصحف، مدرج، مضطرب وغیرہ اور کچھ ایسی صورتیں بنتی ہیں جن کوکوئی نام نہیں دیاجاسکتا، علماءِ علل کا ضمیر اس کے معلول ہونے کی گواہی دیتا ہے؛ مگروہ اس کی نوعیت بیان نہیں کرسکتے، علت کی شناخت دشوار گزار کام ہوتا ہے علمِ علل کا موضوع ثقہ محدثین کی روایات ہوتی ہیں، ثقہ کی حدیث عموماً صحیح ہوتی ہے، اس میں وہم کا پکڑنا ماہرینِ علل کا ہی کام ہوسکتا ہے، ہرکس وناکس کے بس کی یہ چیز نہیں، بس احادیث کی علت وغیرہ کوجاننے کے لیے ان کتابوں سے رجوع کیا جائے گا جنہیں اس فن کے ماہر علماء نے لکھا ہے، اس طرح کی احادیث کا سب سے بڑا مجموعہ امام دارِقطنی (۳۸۵ھ) کی کتاب العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویۃ ہے اس کی ترتیب مسانید صحابہ پر ہے۔

اس کے علاوہ اس فن کی اہم ترین کتاب ابن ابی حاتم کی علل الحدیث ہے جس میں فقہی ترتیب پراحادیث کوجمع کیا گیا ہے، اس میں ابن ابی حاتم نے اپنے والد ابوحاتم رازی اور ماموں ابوزرعہ راوی سے پوچھ کراحادیث کی علتوں کوجمع کیا ہے۔تیسری بہت اہم کتاب امام ترمذی کی کتاب العلل الکبیر ہے جس کوقاضی ابوطالب نے جامع ترمذی کے ابواب پرمرتب کردیا ہے، اس میں امام ترمذی خود بھی علتیں بیان کرتے ہیں اور عموماً امام بخاریؒ اور امام دارمی کے حوالہ سے علتیں بیان کرتے ہیں؛ اس کے علاوہ امام احمد کی کتاب العلل امام بخاری کیالتاریخ الکبیر ابوبکر بزار کی المسند المعلل اور طبرانی کی المعجم الأوسط وغیرہ کی بھی مراجعت کرلینی چاہئے، اس بارے میں نصب الرایہ للزیلعی اور التلخیص الحبیر لابن حجر وغیرہ کوبھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

یہ مختصرقواعدِ حدیث ہروقت ذہن میں رہنے چاہئیں، انسانی بساط اور عام بشری سوچ کے تحت جواحتیاطی تدابیر ہوسکتی تھیں وہ محدثین کرام نے طے کیں اور یہ اصول بھی تقریباً استقرائی ہیں جوائمہ فن نے قواعدِ شریعت کی روشنی میں طے کیئے ہیں، ان میں کئی پہلو اختلافی بھی ہیں، جن میں ائمہ کی رائے مختلف رہی ہے؛ لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ تنقید کے بنیادی اصولوں میں سب ائمہ فن متفق رہے ہیں؛ بلکہ بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں نے تحقیق روایات اور تنقیح اسناد میں دنیا کو ایک نئے علم سے آشنا کیا اور وہ اصول بتائے جن کی روشنی میں پچھلے پہلووں کی باتوں کے جائز طور پر وارث ہوسکیں اور اُن کی صحت پر پوری طرح سے اعتماد کیا جاسکے۔