Tuesday, January 10, 2017

AITRAAZ : KIYA ALLAH KA DEEN SAHIH AUR ZAHIF HOSAKTA HAI ?


یہ وہ اعتراض ہے جو اکثر منکرین حدیث کی زبانوں پر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر قرآن کی طرح حدیث بھی اللہ کا دین ہے تو اس میں صحیح اور ضعیف کا اختلاف کیوں ہے؟ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ حدیث کی طرح قرآن مجید میں بھی متواتر اور شاذ کا اختلاف موجود ہے۔

اگر آپ کے علم میں نہیں ہے تو حسن بصری متوفی 110ھ، ابن محیصن متوفی 1233ھ، اعمش اسدی متوفی 148ھ اور یزیدی بصری متوفی 202ھ کی مروی قراءات دیکھ لیں۔ اور یہ چاروں حضرات تو اتنے معروف ہیں کہ ان کی شاذ قراءات کے مصاحف بھی پبلش ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح شاذ قراءات کے وجود سے قرآن مجید مشتبہ نہیں قرار پاتا، اسی طرح موضوع روایات کے موجود ہونے سے مقبول احادیث پر طعن وارد نہیں ہوتا۔
 
دوسری بات یہ ہے کہ احادیث کا ایک بڑا اور غالب ذخیرہ ایسا ہے کہ جس کی صحت وضعف میں اختلاف نہیں ہے اور کم احادیث ہیں کہ جن کی صحت وضعف کی بابت ائمہ سلف کا اختلاف ہوا ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جن احادیث کی صحت وضعف میں ائمہ سلف کا اختلاف نقل ہوا ہے، وہ احادیث اصول ومبادی دین سے متعلق نہیں ہیں بلکہ جزئیات اور فروعات سے بحث کرتی ہیں لہذا دین کے اصول ومبادی کل کے کل مقبول ورایات سے ہی ثابت ہیں۔
 
چوتھی بات یہ ہے کہ ہم بار بار یہ واضح کر رہے ہیں کہ اللہ کا دین حدیث ہے یہ عوامی بیان ہے جبکہ علمی بیان یہ ہے کہ اللہ کا دین حدیث میں موجود ہے یعنی اللہ کا دین سنت ہے جو حدیث میں موجود ہے لہذا حدیث کے صحیح اور ضعیف ہونے کا مطلب دین کی صحت اور ضعف نہیں ہے بلکہ دین کی اپنے شارع کی طرف نسبت کا صحیح یا ضعیف ہونا ہے۔ اور نسبت کا صحیح یا ضعیف ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔
 
پانچویں بات یہ ہے کہ کسی حدیث کی صحت وضعف میں اختلاف مخاطبین کی جہت سے ہے نہ کہ خدا کی جہت سے۔ پس اگر قرآن مجید میں موجود اللہ کے دین اور حکم تک پہنچنے میں مجتہدین اور فقہاء کا اختلاف ہو جاتا ہے تو اس مطلب یہ تھوڑا ہے کہ شریعتیں دو ہیں۔ہم یہ کہیں گے کہ اللہ کا حکم ایک ہی ہے لیکن بعض فقہاء نے اس کو پا لیا اور بعض نہ پا سکے۔ اور اجر وثواب دونوں کے لیے ہے لیکن جس نے حکم پا لیا اس کے لیے دو گنا اجر اور جس نے نہ پایا تو اس کے لیے ایک گنا اجر ہے۔ پس جس طرح اللہ کی کتاب میں موجود حکم کو بذریعہ استدلال واستنباط پا لینے میں دو رائیں ہو سکتی ہیں، اسی طرح احادیث میں موجود اللہ کے حکم کے اثبات ونفی میں بھی دو رائیں ہو سکتی ہیں۔
 
آخری اور چھٹی بات یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ کا دین کتاب اللہ اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں محفوظ ہے تو یہ من جملہ حفاظت کی بات ہوتی ہے۔ یعنی امت کے پاس وہ احادیث موجود ہیں کہ جن میں اللہ کا حکم ہے، لہذا کسی محدث نے اپنی تحقیق سے اس حکم کو پا لیا اور کوئی نہ پا سکا کہ جس طرح اللہ کی کتاب میں موجود حکم کو کسی مجتہد نے پا لیا اور کوئی اس کو نہ پا سکا۔ تو جس مجہتد نے اللہ کا حکم نہ پایا تو اس نے جو پایا ہے، وہ اللہ کا حکم نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کے لیے ایک گنا اجر ہے۔ یہ اہم تر بات ہے اور یہی قاعدہ محدثین کے لیے بھی جاری ہوتا ہے۔

جھوٹی حدیثیں آخر گھڑی کیوں گئیں؟
 
ان کے گھڑے جانے کی وجہ یہی تو تھی کہ حضورؐ کا قول و فعل حجت تھا اور آپؐ کی طرف ایک غلط بات منسوب کر کے جھوٹے لوگ کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اگر وہ حجت نہ ہوتا اور کسی شخص کے لیے اپنے کسی دعوے کے حق میں حدیث لانا اور نہ لانا یکساں بے فائدہ ہوتا تو کسی کو کیا پڑی تھی کہ ایک بات تصنیف کرنے کی تکلیف اٹھاتا۔ دنیا میں ایک جعل ساز وہی نوٹ تو بناتا ہے جو بازار میں قدر و قیمت رکھتا ہو۔ جس نوٹ کی کوئی قیمت نہ ہو اسے آخر کون احمق جعلی بنائے گا؟ اب اگر فرض کیجیے کہ کسی وقت جعل سازوں کا کوئی گروہ پاکستان کے ہزاروں جعلی نوٹ بنا ڈالے تو کیا اس پر کسی کا یہ استدلال کرنا صحیح ہو گا کہ پاکستان کے سارے نوٹوں کو اٹھا کر پھینک دینا چاہیے کیونکہ جعلی نوٹوں کی موجودگی میں سرے سے اس کرنسی کا ہی کوئی اعتبار نہیں ہے؟ٍٍٍٍ ملک کا ہر خیر اندیش آدمی فوراً اس فکر میں لگ جائے گا کہ ایسے جعل سازوں کو پکڑا جائے اور ملک کی کرنسی کو اس خطرے سے بچا لیا جائے۔ ٹھیک یہی اثر آغاز اسلام میں جھوٹی احادیث کا فتنہ رونما ہونے سے اسلام کے خیر اندیش لوگوں نے لیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک ایک واضح حدیث کا پتہ چلا کر اس کا نام رجال کی کتابوں میں ثبت کر دیا، ایک ایک جھوٹی حدیث کی تحقیق کر کے احادیث موضوعہ کے مجموعے مرتب کر دیئے، احادیث کی صحت و سقم جانچنے کے لیے بڑے سخت اصول قائم کر کے لوگوں کو اس قابل بنا دیا کہ صحیح اور جعلی حدیثوں میں امتیاز کر سکیں اور کسی وقت بھی کوئی جھوٹی حدیث اسلامی قانون کے مآخذ میں راہ نہ پا سکے۔ 
 
تدوین حدیث کے زمانے میں کچھ لوگوں نے اپنے مختلف النوع اغراض کے لئے حدیثیں گھڑیں اور کوشش کی کہ اپنی گھڑی ہوئی احادیث کواُسوئہ رسولؐ یعنی صحیح احادیث کے ساتھ گڈمڈ کرکے اپنے دیرینہ مقاصد کو حاصل کرلیں مگر وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ شیعوں نے اہل بیت کے سیاسی تفوق کے لئے حدیثیں گھڑیں۔ اباحیت پسندوں نے اپنی راہ ہموار کرنے کے لئے اور عقلیت پسندوں نے اپنی عقلیت کو وجہ جواز فراہم کرنے کے لئے۔گھڑنے والوں نے اپنی جعلی احادیث کی ترویج کا طریقہ یہ سوچا کہ کچھ مشہور اصحاب حدیث کی صحیح اور قوی سندوں سے ان جعلی احادیث کو روایت کریں تاکہ کسی کو ان کی صحت میں شک نہ ہو۔ لیکن جوں ہی یہ روایتیں اہل علم کے سامنے آئیں ،گھڑنے والے پکڑے گئے۔ کیونکہ کسی بھی بڑے محدث کے ہزاروں شاگرد ہوا کرتے تھے۔ اب ممکن نہ تھا کہ کوئی شخص اس محدث سے ایسی حدیث روایت کرے جو ان ہزاروں شاگردوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ ہو اور وہ اس پر بھی اس کا اعتبار کرلیں۔ ایسے راوی پر فوراً جرح شروع ہوتی تھی۔ پچیسیوں تنقیحات ایسی تھیں کہ کسی جعلساز کے لئے نکل بھاگنے کی کوئی راہ باقی نہ بچتی۔ تھوڑی سی زد وخورد کے بعد اسے ہتھیار ڈال دینے پڑتے اور اپنی جعلسازی کا اقرار کرلینا پڑتا۔
 
پھرمحدثین نے حدیث کی صحت پرکھنے کے لئے ایسے سخت اصول و ضوابط بنائے اور ایسا کڑا معیار مقرر کیا کہ دنیا آج تک اس کی نظیر نہ لاسکی۔ کوئی دس لاکھ افراد کی زندگیاں کھنگال کر رکھ دیں۔ پھر جملہ افراد کو اس کسوٹی پر پرکھ کر کھرا کھوٹا الگ کردکھایا۔تدوین ِحدیث کے تیسرے اور چوتھے دور میں ان جعلی احادیث کا ذخیرہ بھی تالیفی شکل میں باقاعدہ علیحدہ کردیا گیا، تاکہ راہِ حق کے راہرو کے لئے کسی بھی مرحلہ میں مشکل پیش نہ آسکے!!
 
چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے "اللآلی المصنوعہ فی الا حادیث الموضوعۃ"کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں تمام مو ضوع احادیث کو جمع کیا اور اسی طرح حافظ ابو الحسن بن عراق نے"تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃالموضوعۃ "کتاب لکھی جس میں موضوع روایات کا ذکر ہے تاکہ مسلمان موضوع احادیث سے ہوشیار رہیں۔جب مسلم علماء کا حدیث کے ساتھ اس قدر اسشتغال ہے کہ وہ موضوع اور صحیح، ضعیف اور سقیم حدیث میں تمیز کرسکتے ہیں اور انہوں نے ایسے قوانین اور اصول مرتب کیے جن کی روشنی میں احادیث صحیحہ کو پرکھا جاسکتا ہے۔تو موضوع روایات کے پائے جانے کی وجہ سے احادیث صحیحہ کی حیثیت کیسے مشکوک ہوگئی ؟
 
صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، نسائی شریف میں کوئی حدیث موضوع نہیں اور ابن ماجہ میں گو چند ایک موضوع احادیث ہیں لیکن محدثین ان کی بھی نشاندہی کی ہے۔
یہ ہے کہ واقعہ کی اصل صورت جس کی بنیاد پر  منکرین حدیث نے 'ایرانی سازش'کا بدبودار افسانہ تیار کیا ہے۔ اس استدلال کی نوعیت بالکل وہی ہے کہ کسی گھر میں چور گھس جائے تو آپ گھر والے ہی کو چور کہنے لگیں اور جب آپ سے ثبوت مانگا جائے تو آپ فرمائیں کہ ثبوت یہ ہے کہ اس کے گھر میں چور گھسے تھے ، یا کوئی پولیس پارٹی ڈاکوؤں کو گرفتار کر لائے تو آپ پولیس پارٹی ہی کو ڈاکو کہیں اور ثبوت یہ پیش کریں کہ انہوں نے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا ہے۔ منکرین سنت کا طرز فکر ہے کہ غلط احادیث کے پھیل جانے سے سارا ذخیرۂ حدیث مشتبہ ہو گیا ہے، لہٰذا تمام احادیث کو اٹھا کر پھینک دینا چاہیے۔ انہیں اس کی پرواہ نہ تھی کہ سنت رسول کو ساقط کر دینے سے اسلامی قانون پر کس قدر تباہ کن اثر پڑے گا اور خود اسلام کی صورت کس بری طرح مسخ ہو کر رہ جائے گی۔
کیا احادیث ِموضوعہ کی موجودگی واقعی بے اطمینانی کی موجب ہے؟
میں تھوڑی دیر کے لئے اس سوال کو چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کون سے متداول مجموعے ہیں جن میں احادیث ِموضوعہ شامل ہوگئی ہیں۔ اگرچہ مختلف محدثین نے جو مجموعے بھی مرتب کئے ہیں، ان میں اپنی حد تک پوری چھان بین کرکے انہوں نے یہی کوشش کی ہے کہ قابل اعتماد روایات جمع کریں۔مگر اس معاملے میں صحاحِ ستہ اور موطأ کا پایہ کس قدر ہے، وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لئے یہ فرض کر لیں کہ سب مجموعوں میں موضوعات نے کچھ نہ کچھ راہ پالی ہے تو غور طلب بات یہ ہے کہ وہ 'ضخیم کتابیں' جن کا ذکر منکرین حدیث کررہے ہیں، آخر ہیں کس موضوع پر؟ ان کا موضوع یہی تو ہے کہ کون کون سی حدیثیں وضعی ہیں، کون کون سے راوی کذاب اور وضاعِ حدیث ہیں، کہاں کہاں موضوع احادیث نے راہ پائی ہے، کس کتاب کی کون کون سی روایات ساقط الاعتبار ہیں، کن راویوں پر ہم اعتماد کرسکتے ہیں اور کن پر نہیں کرسکتے، 'موضوع' کو 'صحیح'سے جدا کرنے کے طریقے کیا ہیں اور روایات کی صحت، ضعف، علت وغیرہ کی تحقیق کن کن طریقوں سے کی جاسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین و منکرین حدیث کو موضوع احادیث کا علم ہی محدثین کی خوشہ چینی سے ہوا ہے ۔
ان ضخیم کتابوں کی اطلاع پاکر تو ہمیں امن کا ویسا ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسا کسی کو یہ سن کر ہو کہ بکثرت چور پکڑ لئے گئے ہیں، بڑے بڑے جیل خانے ان سے بھرگئے ہیں، بہت سے اموالِ مسروقہ برآمد کرلئے گئے ہیں اور سراغ رسانی کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے جس سے آئندہ بھی چور پکڑے جاسکتے ہیں۔ لیکن تعجب کی بات ہوگی اگر کسی کے لئے یہی اطلاع اُلٹی بے اطمینانی کا موجب ثابت ہو اور وہ اسے بدامنی کے ثبوت میں پیش کرنے لگے۔ بے شک بڑی مثالی حالت امن ہوتی،اگر چوری کا سرے سے کبھی وقوع ہی نہ ہوتا۔ بلا شبہ اس طرح کی واردات ہوجانے سے کچھ نہ کچھ بے اطمینانی تو پیدا ہوہی جاتی ہے، لیکن مکمل حالت ِامن زندگی کے اور کس معاملے میں ہم کو نصیب ہے جو یہاں ہم اسے طلب کریں۔ جس حالت پر ہم دنیا میں بالعموم مطمئن رہتے ہیں، اس کے لئے اتنا امن کافی ہے کہ چوروں کی اکثریت پکڑ کر بند کردی جائے اور جو قلیل تعداد بھی آزاد پھر رہی ہو، اس کے پکڑے جانے کا معقول انتظام موجود ہو۔ کیا ہمارے سپریم کورٹ کے فاضل جج سنت کے معاملے میں اتنے امن پر قانع نہیں ہوسکتے؟ کیا وہ اس مکمل امن سے کم کسی چیز پرراضی نہیں ہیں جس میں سرے سے چوری کے وقوع ہی کا نام و نشان نہ پایا جائے...؟منکرین حدیث ’’صرف قرآن‘‘ مہم کے لیے، احادیث کو غیر معتبرکرنے کے لیے جتنے بھی دلائل دیں، یہ سب الٹا خود ان میں پھنستے ہیں
اس موضوع پر تفصیلی تحریر پہلے پوسٹ کی جاچکی ہے ، اس لنک سے دیکھی جاسکتی ہے



AITRAAZ : MUHADEESIN MASUM NAHI THE INSE KHATA MUMKIN HAI .




جب بھی حدیث کا دفاع کیا جائے تو منکرین حدیث عموما یہ سوال کرتے ہیں۔ تو پہلی بات یہ واضح رہے کہ صحیح بخاری کے دو گتوں کے مابین جو کچھ ہے، اس سب کو کوئی بھی منزل من اللہ نہیں کہتا۔ صحیح بخاری میں "منزل من اللہ" ہے نہ کہ کل صحیح بخاری "منزل من اللہ" ہے۔دوسری اور اہم تر بات یہ ہے کہ حدیث کو وحی کہا جاتا ہے نہ کہ صحیح بخاری کو۔ اور صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے نہ کہ صحیح بخاری کی ہر بات حدیث ہے۔ حدیث سے مراد وہ روایت ہے کہ جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اورتقریر موجود ہو اور صحیح بخاری میں صحابہ کے اقوال بھی ہیں اور تابعین کے بھی۔ سلف کے اقوال بھی ہیں اور ائمہ کے بھی۔
 
تیسری اور اہم تر بات یہ ہے کہ حدیث کو لفظی وحی کوئی بھی نہیں کہتا بلکہ حدیث معنوی وحی ہے۔ پس حدیث کا معنی "منزل من اللہ" ہے جبکہ حدیث کے الفاظ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہیں اگر وہ قولی سنت ہو اور اگر فعلی یا تقریری سنت ہو تو حدیث کے الفاظ صحابی کے ہوتے ہیں۔ حدیث میں اگرچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور بہت حد تک محفوظ بھی ہیں لیکن اصل بات یہی ہے کہ اس میں معنی محفوظ ہے۔
 
رہی بات صحیح بخاری پر نقد کی تو ائمہ فن نے اس کی روایات پر نقد کی اور ائمہ فن نے ہی اس نقد کا جواب بھی دے دیا ہے۔ اور اب اس نقد اور دفاع سے یہ متعین ہو گیا ہے کہ بخاری میں کلام کی گنجائش کہاں کہاں ہے اور اس کا جواب کیا کیا ہے؟ 
مثلا امام الدارقطنی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی حدیث پر نقد  کیا ان کی اس تنقید کی بنا پر حافظ ابن الصلاح ؒ نے فرمایا کہ صحیحین کی احادیث قطعاً صحیح ہیں سوائے چند حروف کے جن پر امام دار قطنی وغیرہ نے تنقید کی ہے اور وہ مقامات علم حدیث جاننے والوں کے نزدیک مشہور و معروف ہیں ۔ ( مقدمہ ابن الصلاح ص ۴۵)
 
حافظ ابن حجر ؒ نے ھدی الساری اور فتح الباری میں بھی امام دار قطنی ؒ وغیرہ کی تنقید کا جواب دیا اور امام نووی ؒ نے شرح مسلم میں بھی ان اعتراضات سے تعرض کیا ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے ہدی الساری میں صحیح بخاری کے متکلم فیہ رجال کا بھی جواب دیا اور علامہ محمد اسماعیل ابن خلفون نے بھی ’’ رفع التماری فی من تکلم فیہ من رجال البخاری ‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل رسالہ لکھا ۔
اسی موضوع پر علامہ ابو الولید باجی کی ’’ التعدیل والتجر یح لمن خرج عنہ البخاری فی الصحیح ‘‘ بھی معروف ہے ۔ حاجی خلیفہ زر کلی اور رضا کحالہ نے ذکر کیا ہے کہ علامہ احمد ؒ بن ابراہیم ابن السبط الحلی المتوفی ۸۸۴ھ نے ’’ التوضیح للاوھام الواقعۃ فی الصحیح ‘‘کے نام سے اور علامہ جلال ؒ الدین عبدالرحمن بن عمر البلقینی المتوفی ۸۲۴ھ نے ’’ الا فھام بما وقع فی البخاری من الا بھام ‘‘کے نام سے کتابیں لکھی ہیں۔
 
حافظ ابن حزم ؒ نے صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس کی روایت پر شدید تنقید کی جس میں حضرت ابو سفیان ؓ کی آنحضرت ﷺ کو ام حبیبہ سے نکاح کی پیشکش کا ذکر کیا ۔ جس کے جواب میں حافظ ابن کثیر ؒ نے مستقل ایک رسالہ لکھا ۔ جس کا تذکرہ خود انہوں نے البدایہ ( جلد ۴‘ ص ۱۴۵) میں کیا ہے ۔ اسی طرح صحیحین میں حضرت انس ؓ کی حدیث معراج پر اعتراضات کے جواب میں حافظ ابو الفضل ابن طاہر ؒ نے ایک مستقل رسالہ لکھا ۔ حال ہی میں امام دار قطنی کی کتاب ’’ الاستد راک والتتسع ‘‘ زیور طبع سے آراستہ ہوئی تو اس کے حواشی میں شیخ ربیع بن ھادی حفظہ اللہ نے امام موضوف کے اعتراضات کا جائزہ پیش کیااور اس سلسلے کی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا ۔
 
یہ عمل علم کی دنیا میں ایک ہزار سال کے عرصے میں مکمل ہو چکا۔ اب آپ صحیح بخاری پر کوئی نیا علمی اعتراض پیدا نہیں کر سکتے اور جو پیدا ہوئے تھے، ان کا جواب موجود ہے۔اور اگر کوئی شخص صحیحین کی کسی ایسی روایت پر تنقید کرتا ہے کہ جس پر أئمہ سلف میں سے کسی نے بھی کلام نہ کیا ہو تو ایسا شخص اجماع محدثین کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ جن روایات پر محدثین نے نقد نہ کی تو اس سے یہ طے ہو گیا کہ تمام محدثین کے نزدیک یہ روایات صحیح ہیں لہذا ان روایات پر کلام کرنا جمیع محدثین کے دعوی صحت کو چیلنچ کرنا ہے اور ایسا دعوی ہی ناقابل التفات ہے چہ جائیکہ اس کی تحقیق کی جائے۔
کیاامام بخاریؒ معصوم تھے؟
منکرین حدیث یہ اعتراض کرتے ہیں کہ امام بخاریؒ معصوم نہیں تھے۔ لہٰذا ان سے خطا ممکن ہے!
 
اس کا جواب یہ ہے کہ امکان خطا اور وقوع خطا میں بڑا فرق ہے۔ امکان اور چیز ہے اور وقوع اور چیز۔جیسے کوئی کہے کہ ممکن ہے آپ چور ہوں۔ مگر بغیر ثبوتِ شرعی ایسا کہنا غلط ہے۔ امام بخاریؒ نے خطا کہاں کی ہے اسے ثابت کیجیے۔منکرین حدیث کا یہ بہت ہی سطحی اعتراض ہے کہ بخاری ومسلم انسانوں نے مرتب کی ہیں تو قرآن مجید کس نے مرتب کیا ہے؟ کیا جو قرآن مجید ہمارے پاس اس وقت موجود ہے، وہ ہمیں براہ راست حضرت جبرئیل علیہ السلام سے موصول ہوا ہے؟ کیا اس قرآن مجید کو فرشتوں نے لکھ کر ایک کتاب کی صورت دی ہے؟ کیا اس قرآن مجید کو آسمانوں سے ایسے ہی نازل کیا گیا تھا کہ جس صورت میں اب یہ ہمارے پاس ہے؟
 
بلاشبہ انسانوں نے ہی اس قرآن مجید کو یاد کیا، انسانوں نے ہی اس قرآن مجید کو نقل کیا، انسانوں نے ہی اس کو لکھا ہے، انسانوں نے اس کے حرکات اور اعراب لگائے، انسانوں نے اس کے نقطے، رموز اور اوقاف ایجاد کیے، انسانوں نے اس کو رکوعوں اور پاروں میں تقسیم کیا، انسانوں نے ہی اس کو کتابی صورت دی، تو کیا انسانی کام میں غلطی نہیں ہو سکتی؟ اگر محض اعتراض وارد کر دینے سے اگر کوئی کلام مشکوک ٹھہرتا تو سب سے پہلے اللہ کی کتاب مشکوک قرار پاتی کہ خود قرآن پر بھی سینکڑں اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔منکرین حدیث میں سے کتنے ہیں کہ جنہوں نے قرآن مجید کا دفاع کیا ہو؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ملحدین اور مستشرقین نے قرآن مجید پر جو کیچڑ اچھالا ہے، اس کا بھی علمی وتحقیقی جواب سینکڑوں کتب ومقالات کی صورت میں اگر کسی نے دیا ہے تو یہ وہی لوگ ہیں جو حدیثوں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔منکرین حدیث کو حدیث اور محدثین پر اعتراضات سے ہی آج تک فرصت نہیں ملی ۔
 
استفادہ تحریرحافظ زبیر

KYA SUNNAT SIRF " TAWTUR AMLI" SE SABIT HOTI HAI ?



فکر ِاصلاحی وغامدی کا ایک تجزیہ:
حدیث و سنت کے حوالے سے مولاناامین احسن اصلاحی وغامدی صاحبان  کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ سنّت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کی وہ تفصیل ہے جو قرآن کی طرح تواتر ِعملی سے ثابت ہوتی ہے، لہٰذا قطعی الثبوت ہے، قرآن کی طرح اہم، اس کے قالب کیلئے مثل روح اور اسی کی طرح حجت ہے۔ اس کا انکار قرآن کا انکار ہے اور وہ حدیث پر مُہیمن ہے۔باقی حدیث ان کے نزدیک سنت کا تحریری ریکارڈ ہے جو تواتر سے ثابت نہ ہونے کی بنا پر ' خبر واحد' کا درجہ رکھتی ہے ۔ ظنی الثبوت ، مجموعہ رطب و یابس اور صحت کے لحاظ سے ناقابل اعتماد ہے لہٰذا فہم قرآن کے حوالے سے بنیادی اور کلی طور پر اس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا ۔ (مولانا امین احسن اصلاحی ، مبادیٴ تد بر حدیث ، باب اول و دوم خصوصاً ص ۱۹ ،۲۸ ،۳۸ ،۴۱ ، فاران فاؤنڈیشن لاہور ، ۲۰۰۰ء ... مولانا امین احسن اصلاحی ، مبادیٴ تدبر قرآن ، ص ۵۲ ، ۱۶۹ و مابعد ، دارالاشاعت الاسلامیہ لاہو ر ، ۱۹۷۱ء ... مولانا امین احسن اصلاحی ، تدبر قرآن ، جلد اوّل مقدمہ ، ص ب و مابعد ، مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور ، ۱۹۷۶ء)
زمینی حقائق یہ ہیں کہ سنت محض ' تواتر عملی' سے ثابت ہی نہیں ہوتی لہٰذا جس چیز کو یہ  ' سنت' کہہ رہے ہیں وہ محض ایک نظری بات ہے اور نظری لحاظ سے تو سنت کی حجیت پرساری اُمت متفق ہے کہ اس پر تو مدارِ ایمان ہے کہ خود قرآن کی رو سے حضور کی اطاعت واجب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال فرما جانے کے بعد آپ کی وہ سنت کہاں ہے جس کی اطاعت کی جائے ؟اس بارے میں جمہور اُمت کا موقف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جاننے کا ذریعہ وہ صحیح احادیث ہیں جو ثقہ راویوں سے مروی ہیں، جب کہ کچھ 
منکرین حدیث اور ہمارے یہ متجددین ایسا نہیں سمجھتے ۔یہ حدیث کو خبر واحد ، ظنی الثبوت اور مجموعہ رطب و یابس کہہ کر اسے اہمیت نہیں دیتے اور سنت اسی کو مانتے ہیں جو صرف تواتر عملی سے ثابت شدہ ہو۔

سنت کا ثبوت - تواتر عملی کی پہیلی :
سنت کے جاننے کا ذریعہ کیا ہے ؟غامدی صاحب کے استاد اصلاحی صاحب کے نزدیک اس کا جواب ہے' تواتر عملی' ... وہ لکھتے ہیں
 "
جس طرح قرآن قولی تواتر سے ثابت ہے، اسی طرح سنت امت کے عملی تواتر سے ثابت ہے مثلاً ہم نے نماز اور حج وغیرہ کی تمام تفصیلات اس وجہ سے نہیں اختیارکیں کہ ان کو چند راویوں نے بیان کیا بلکہ یہ چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے، ان سے تابعین پھر تبع تابعین نے سیکھا ۔ اس طرح بعد والے اپنے اگلوں سے سیکھتے چلے آئے ۔( اصلاحی ، مبادیٴ تدبر حدیث ، ص ۲۸)
 
مولانا نے نماز اور حج کی مثال پیش کی ہے کہ وہ تواتر عملی سے ثابت ہوتے ہیں ۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ نماز اور حج کے بارے میں بنیادی احکام تو قرآن مجید میں بھی موجود ہیں ، ہمیں نشاندہی کی جائے کہ وہ کون سے تفصیلی (فروعی) احکام ہیں جو تواتر عملی سے ثابت ہوتے ہیں ؟ اور یہ بھی بتایا جائے کہ پچھلی صدیوں میں مسلمانوں نے نماز اور حج کے بارے میں جو بدعتیں ایجاد کر لی ہیں اور جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں کیا وہ بھی سنت ِثابتہ ہیں ؟( کہ آپ کی تعریف کی رو سے تو وہ سنت ثابتہ ہی ہونی چاہئیں!) اور اگر وہ سنت ثابتہ نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں ؟ اور اس امر کی وضاحت بھی کی جائے کہ سنت ثابتہ اور بدعت میں فرق کیسے کیاجائے گا ؟۔
 
مولانا چونکہ ذہین آدمی تھے اس لیے انہوں نے خود ہی محسوس کر لیا کہ ' تواتر عملی' کی جو تعریف انہوں نے کی ہے، اس میں وہ پھنس جائیں گے لہٰذا انہوں نے اگلے پیرا گراف میں اس دلدل سے نکلنے کی کوشش کی اور کہا
 "
یہاں اس امرکو بھی ذہن نشین رکھیے کہ امت کے عملی تواتر سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاے راشدین اور صحابہ کا عمل ہے جیسا کہ ارشاد ہے "« فعليکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهديين»"(کہ دین کا مرکز یہی گروہ ہے۔ اس وقت جو بھیڑ ایسے اعمال کی حامل ہے جو قرآن و سنت سے صریحاً متناقض ہیں تو یہ سب اہل بدعت ہیں"۔( ایضاً: ص ۲۹)
 
لیجئے پچھلے پیراگراف میں تواتر عملی کی جو صورت انہوں نے بیان کی تھی، اس پیراگراف میں انہوں نے اس کی خود ہی تردید کر دی۔ یہ صریح تناقض ہے جس کی کوئی تاویل نہیں کی جا سکتی ۔ پچھلے پیرا گراف میں انہوں نے کہا تھا کہ سنت قرآن کی طرح تواتر عملی سے ثابت ہے جسے آپ سے صحابہ کرام نے ان سے تابعین پھر تبع تابعین نے اور اس طرح ہر نسل پہلی نسل سے قرآن کی طرح لیتی رہی ۔ اب بعد والے پیراگراف میں انہوں نے تسلیم کر لیا کہ بعد والی نسلوں میں تو بدعات داخل ہو گئی تھیں لہٰذا سنت کا تواتر ِعملی صرف ' ایک نسل ' تک محدودہے یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ تک اور سارے صحابہ تک بھی نہیں صرف خلفاءِ راشدین تک اور اس کی دلیل بھی کیا دی ؟ فعليکم بسنتی... الحديث یعنی ایک خبر واحد جو ظنی الثبوت اور ان کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔
 
یعنی تاثر آپ نے یوں دیا کہ ' تواتر ِعملی' گویا ایک سمندر ہے پھر جب بات کا پیچھا کیا تو بات دریاؤں ، نہروں ، ندی نالوں سے ہوتی ہوئی اس منبع تک پہنچ گئی جہاں سوئی کی طرح ایک دہانے سے پتلی سے دھار نکل رہی تھی۔
سوال یہ ہے کہ اگر' تواتر عملی' محض حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ بلکہ صرف خلفاء راشدین تک محدودہے تو اسے قرآن کے تواتر عملی کی طرح حجت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ کہ قرآن کا تواتر تو آج بھی جاری ہے۔ پھراس ایک نسل یا چند افراد کے تواتر پر وہ نتائج کیسے مرتب ہو سکتے ہیں جو قرآن کے نسل درنسل تواتر پر مرتب ہوتے ہیں ؟
 
اہم ترین سوال یہ کہ اگر یہ تواتر صرف عہد ِصحابہ تک محدود تھا تو پھر آج یہ تواتر ہمیں کیسے معلوم ہو گا ؟ اس تواتر کی ہم تک منتقلی کا ذریعہ کیا ہے ؟ تواتر عملی کی سند کہاں ہے؟ چودہ صدیوں میں ایک عمل ہر صدی میں امت مسلمہ میں رائج رہا ہے اور میں اور آپ اس وقت چودھویں صدی میں ہیں تو ہمارے پاس پہلی تیرہ صدیوں میں جھانک کر دیکھنے کا کیا ذریعہ ہے کہ یہ عمل ان صدیوں میں بھی امت مسلمہ میں رائج تھا یا نہیں؟ اور اگر اس میں بدعتیں رائج ہوئیں تو اب ان میں تفریق کرنے کا ذریعہ یا معیار کیا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ تواتر عملی کو جانے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے خبر کا ذریعہ۔ آپ  اسے تاریخ کہہ لیں یا روایت اس سے آپ کی جان نہیں چھوٹنے والی۔کسی عمل کا تواتر علمی سے ثابت ہونا بغیر خبر کے ممکن ہی نہیں ہے۔ لہذا جو حدیث کی خبر سے بھاگے ہیں، ان کے گلے تاریخ پڑ گئی ہے اور اب تواتر عملی تاریخ سے ثابت کرنے چلے ہیں۔ تو جناب خبر اصل ہوئی یا آپ کا تواتر عملی؟!!
پھر اس سے بڑھ کر یہ لوگ اس سنت کو جو ان کی مزعومہ ' تواتر عملی' سے ثابت ہو، احادیث ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مہیمن(نگران) قرار دیتے ہیں۔ اصلاحی صاحب کے الفاظ میں
 "
اگر روایات کے ریکارڈ میں ان (سنن ثابتہ) کی تائید موجود ہے تو یہ اس کی مزید شہادت ہے ۔ اگر وہ عملی تواتر کے مطابق ہے تو فبہا اور اگر دونوں میں فرق ہے تو ترجیح بہرحال اُمت کے عملی تواتر کو حاصل ہو گی۔"
 
اور بات صرف ترجیح کی نہیں ، بلکہ اگر کسی حدیث کامضمون ان کی رائے میں اس 'سنت ِثابتہ' کے خلاف ہو تو اسے ردکر دیا جائے گا۔ چنانچہ کہتے ہیں
 "
اگر کسی معاملے میں اخبارِ احاد ایسی ہیں کہ عملی تواتر کے ساتھ ان کی مطابقت نہیں ہو رہی ہے تو ان کی توجیہ تلاش کی جائے گی ۔ اگر توجیہ نہیں ہو سکے گی تو بہرحال انہیں مجبوراً چھوڑا جائے گا اس لیے کہ وہ ظنی ہیں اور سنت ان کے بالمقابل قطعی ہے (مبادی ٴتدبر حدیث ، ص ۲۸)
 '
سنت ِثابتہ' اور 'تعامل اُمت' کو احادیث پر مُہیمن بنانے کی زَد بالآخر کہاں پڑتی ہے اس پر بھی ذرا غور فرما لیجئے ۔ اس وقت مسلم معاشرے میں مختلف دینی شعبوں میں بہت سے بدعتیں رائج ہیں اور بہت جگہ اکثریت ان میں مبتلا ہے ۔اب حدیث کوحجت ِشرعی سمجھنے والوں کے پاس تو ان بدعات کو ردّ کرنے اور سنت کو پہچاننے کے لیے ثقہ راویوں کی روایت کردہ صحیح احادیث موجود ہیں لیکن تواتر عملی اور تعامل امت کو ہی سنت کے جاننے کا ذریعہ سمجھنے والوں کے پاس ایسا کوئی پیمانہ موجود نہیں ۔ انکے اس فلسفے کی بنا پر یہ تمام بدعتیں حجت ِشرعی ٹھہرتی ہیں اور حدیث سے باہر ان کو پرکھنے کی ان کے پاس کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ 
1
۔ احادیث و سنن ( جو ثقہ راویوں سے مروی اور صحیح المتن ہوں (آسان الفاظ میں صحیح کی شرائط پر پوری اتریں)) وہ سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان پر عمل ضروری ہے ۔
2
۔ محض تواتر عملی یا تعامل امت سے کوئی سنت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ تواتر عملی سے سنت کا اثبات محض ایک یوٹوپیا (تخیل) ہے اور اُمت میں کبھی کسی نے یہ موقف نہیں اپنایا ۔
3
۔ مولانا اصلاحی/غامدی صاحبان  کا یہ موقف جمہور اُمت کی رائے کے بالکل برعکس ہے۔ جمہوراُمت کا موقف یہ ہے کہ وہ حدیث و سنن کے صحیح اورثقہ راویوں سے مروی ریکارڈ کو سنت کا مظہر سمجھ کر متبرک اور مقدس گردانتی ہے۔ وہ اسلاف کی ان محنتوں کی قدر کرتی ہے جو انہوں نے اسماء الرجال ، جرح و تعدیل ، تدوین حدیث اور روایت و درایت کے اُصولوں کو مرتب کرکے کی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اس سارے قیمتی ذخیرہٴ علم کی بنا پر قابل اعتماد راویوں سے روایت کردہ صحیح احادیث سے سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم معلوم ہو جاتی ہے لہٰذا ان احادیث پر عمل ضروری ہے ۔

Thursday, December 29, 2016

ISLAM me huro ke itne fazail kiyu ?




اسلام میں حوروں کے فضائل کی غرض و غایت

سیکولر/لبرل طبقے کی طرف سے جنت میں حوروں کے وجود پر کئی حوالوں سے تنقید کی جاتی ہے۔ کبھی فضائل کی تاریخی روایات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی کسی واعظ پر اس لیے غصہ نکالا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیان میں حوروں کا تذکرہ کرتا ہے اور فحش انداز میں کرتا ہے۔ ۔ کیا واقعی ان مبلغ صاحب کے بیان میں حوروں کا ہی تذکرہ ہوتا ہے؟ اگر انکے کسی بیان میں کہیں حور کا ذکر آیا بھی تو وہ کیسا اور کتنا تھا؟ جنہوں نے کبھی انکو سنا ہو وہ ان باتوں کی حقیقت جانتے ہونگے کہ اس میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی لبرل معترضین انتہائی فحش افسانے اور ناول شوق سے خریدتے اور پڑھتے ہیں ۔ اردو میں منٹو کے افسانے ہوں یا انگلش میں (Fifty Shades of Grey) جیسےجنسی اذیت پسندی پرناول اور پورن فلمیں انکے ہاں ادب اور فنون لطیفہ کا حصہ سمجھتی ہیں،(Naturism) عریانیت پسندی یا ہپی ازم پر لکھے گئے ایوارڈ یافتہ ناولز پڑھنے کا تذکرہ یہ بڑے فخر سے کرتے ہیں۔۔ معلوم ہوا ان لبرلز کو اصل مسئلہ یا تکلیف حوروں کے بیان سے نہیں ہے بلکہ انہیں علماء و مذہبی نظریات کا مذاق اڑانے اور توہین کرنے کا کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ ان لبرل معترضین کی طرف سے حوروں پر طنزو تنقید ایسے انداز میں کی جاتی ہے’ جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید جنت صرف شہوت کی تکمیل کا اڈہ ہےاور اہل بہشت کی خوشی، سکون، دلجمعی کے لئے وہاں اس کے علاوہ کچھی بھی نہیں ہے۔ یا اہل ایمان صرف بہتر حوریں حاصل کرنے کے لیے اتنی عبادات کرتے ہیں اور جانیں تک قربان کردیتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے جنت میں حوروں کا وجود ضرور ہے لیکن یہ مومن کا مقصد نہیں ہیں نا اسلام انکو مقصد بنا کے پیش کرتا ہے۔ انکا تذکرہ اور بیان محض جزوی ہے۔اس حقیقت اور حوروں کے فضائل کی غرض و غائیت واضح کرتی ایک تحریر
حاضر ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسلام کا تدریجی و ارتقائی اسلوب ِتربیت اور حوروں کے فضائل کی غرض و غایت
معاشر ے میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو الہامی عقائد و نظریات سے شد و مد کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں جس کی وجوہات میری ناقص رائے کے مطابق یہ ہو سکتی ہیں ۱) ان عقائد و نظریات سے کلی یا جزوی طور پر ناواقفیت۔ ۲) ان نظریات سے متضاد و متصادم نظریات سے گمراہ کن تاثر۔ ۳) تعصب و نفرت کی خلیج ۔سوشل میڈیا پر جن خیالات اور تبصروں کامیں نے مشاہدہ کیا وہ چند سوالات ہیں جو نا بالغ ذہن کی اختراع کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے جیسے:
کیا اسلام میں حوروں کے فضائل اور ترغیب جنسی میلان کی ترغیب ہے؟
کیا حوریں اس عبادت کا بدل ہیںجو دنیا میں کی جاتی ہے ؟
کیا یہ عورت کو محض جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھنا نہیں کہلاتا ؟
 مردوں کے لیے حوروں کی ترغیب و فضائل ہیں لیکن عورتوں کے لیے اس قسم کے فضائل وترغیب کیوں نہیں بیان کیے گیے ؟وغیرہ وغیرہ
 یہ تمام اشکالات اسلام کے تربیتی اسلوب کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ہےں اور مؤخر الذکر تو محض بے حیائی کا عکاس اور اسلام کے تصور حیا کو یکسر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے ہے۔ درا صل ان سطور کو لکھنے کا محرک بھی اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور شر انگیزی پھیلانے والے فتنہ پردازوں کی سوشل میڈیا پراس قسم کی سرگرمیاں ہی ہیں ۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ عبادت کا مقصود ِاصلی محض اللہ ہی کی رضاہے لیکن خوب ذہن نشین کر لیا جائے کہ رسول عربی ﷺ نے نہ صرف جہنم سے ڈرایا ہے بلکہ جنت کی بشارتیں بھی سنائی ہیں ۔قرآن پاک میں اللہ نے جنت کی طرف بڑھنے کا حکم فرمایا اور اس کی نعمتوں کا جا بجا تذکرہ فرمایا جن میں پاکیزہ بیویوں کا تذکرہ ان کے اوصاف اور حسن و جمال کے ساتھ فرمایا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اسلام میں حوروں کے فضائل و استحضار کی غر ض وغایت کیا ہے ؟اگر اس سوال کے تشفی بخش جواب سے یقینی آگاہی حاصل ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مذکورہ بالا اشکالات کی کوئی گنجائش باقی رہ جائے ۔اسلام میں قرن ِاول ہی سے افراد کی تربیت کا جو نظام وضع کیا گیا وہ آج کے ہر ہر فرد کے لیے بطریق ِ اولیٰ مؤثر ہے جس کا کوئی بھی متبادل نظام ِ تربیت قطعی طور پر ناکافی اور غیر مؤثر ہو گا۔اب اسلام کے نظام تزکیہ و تربیت کے اسلوب کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔اسلام کا تزکیہ و تربیت کا نظام تدریجی و ارتقائی ہے جو حکمت و بصیرت سے پُر ہے جس کے مدارج اور ارتقائی مراحل میں سے چند ایک کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔
اول۔۔۔۔ فضائل و ترغیب اور استحضار ِ عمل(عمل پر اللہ کے وعدے کا یقین):کا مقصود افراد میں ابتداًاعمال سے موانست و مناسبت ،وابستگی و رغبت اور شوق پیدا کرنا ہے ۔مثلاًنماز ہی کو لے لیجیے اس سے وابستگی او ر رغبت پیدا کرنے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے نہ صرف قراءت و قیام ،رکوع و سجود وغیرہ کے فضائل بیان کیے گئے بلکہ اذان کے فضائل بیان کیے گئے ،اذان کے سننے اور جواب دینے پر اجرو ثواب کی نوید سنائی گئی،مؤذن کے مناقب بیان کیے گئے ۔اُٹھان پیدا کرنے کا یہ سلسلہ یہیں پہ ختم نہ ہوا بلکہ نماز میں شغف بڑھانے کے لئے وضو کو حسن و نکھاربخشا ،اس پر سنتوں اور مستحبات کا تزین کیا گیا ،وضو میں کمال پیدا کرنے کے لیے مسواک کے فضائل اور اجرو ثواب کو بیان کیا گیا ،نماز کی عظمت پیدا کرنے کے لئے وضو کر کے گھر سے جانے والا ایسا بتلایا گیا گویا احرام باندھ کر حج کو جا رہا ہے پھر نماز کے انتظا ر میں بیٹھنے کی فضیلت بیان کی گئی کہ گویا نماز کا ثواب پاتا رہتا ہے ۔یوں صحابہ کی نماز میں بے مثل ومثال شغف و تعشق، خشوع و خضوع اور حد درجہ کمال پیدا کر دیا گیا کہ ان پر نماز کے اسرارورموز اپنی پوری حقیقت کے ساتھ کھل گئے ۔
دوم۔۔۔۔ آسان سے مشکل کی طرف :اس اصول کے تحت پہلے افراد کو ظاہری سانچے میں ڈھالا گیا ازاں بعد ترہیب و ترغیب اور اُٹھان کے ذریعے دلوں کی زمین کو خوب نرم کر کے اس قابل کیا جاتا رہا کہ اس میں ہر اگلی فصل کاشت کی جا سکے جو زیادہ محنت طلب اور قدرے مشکل بھی ہو ۔ عبادات و اخلاقیات کے مراحل سے ہوتے ہوئے افراد کو معاشرت ومعیشت اور معاملات و قضا کے دین کی تکمیل تک لے جایا گیا یوں ارتقائی و تدریجی مراحل کا یہ سلسلہ ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام پر منتج ہوا۔ مثلاًایک شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے اور صبح ہوتے ہی چوری کرتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کی نماز اس کو عنقریب اس فعل سے روک دے گی۔تمام معاملات میں سدھار پیدا کرنا مشکل بھی ہے اور دیر طلب بھی لیکن نماز میں شغف اور خشوع و خضوع معاملات کی درستگی کی دلیل ہے۔عبادات کے دین میں استحکام کے بعدتربیت کے دائرہ کار کو اخلاقیات و معاشرت کی جانب بڑھایا تو ایسے معاشرے کی تکمیل ممکن ہوسکی جو اقوام ِعالم کے لئے نمونہ قرارپایا ۔
ذرا سوچیے ایسا کیوں نہ ہوا کہ تمام احکام شرعیہ بیک وقت نازل ہو جاتے ؟دیکھیے شراب کی حرمت اور پردے کی فرضیت کا عمر رضی اللہ عنہ کی فکر پر نازل ہونا تو ایک تکوینی امر تھا لیکن اعلان نبوت کے طویل عرصہ بعد ان احکامت کے نزول میں درحقیقت اسلام کا یہی تدریجی و ارتقائی اسلوب تربیت ہی حائل تھا گویا ان احکامات کا نزول ایک مناسب وقت کی تلاش میں تھا جیسے کسان بنجر اور سخت زمین میں بیج ہر گز نہیں ڈالتا بلکہ اس کو اس قابل بنا تا ہے کہ اس میں مطلوبہ فصل کاشت کی جا سکے بعینہ زیر تربیت عملہ کے مناسبِ احوال شرعیت مطہرہ کے احکامات متوجہ ہوتے رہے ۔انسانی تربیت کے اس نظام نے عبادات ،اخلاقیات و معاشرت اور معاملات کے دین سے ہوتے ہوئےقضا کے دین کو اپنی وسعتوں میں سمو لیا کہ ایک یہودی اور جلیل القدر صحابی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقدمہ جب عدالت کے روبرو ہو تا ہے تو قاضی کا منصفانہ و عادلانہ فیصلہ یہودی کے ضمیر کو جھنجوڑکے رکھ دیتا ہے اور اسے قبول اسلام پر مجبور کر دیتا ہے ۔ پھر مصلح عظیم ﷺنے ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور تیس سال کی محنت شاقہ کے بعد اس دنیا سے اس حال میں پردہ فرمایا کہ ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو چکی تھی گویا تکمیل دین کا عمل اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا ۔ اورآیت مبارکہ۔۔۔۔(ترجمہ:آج میں نے تمھارے لیے تمھار ادین مکمل کردیا ،تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ،اور تمھارے لئے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لئے ) پسند کر لیا ) ۔۔نازل ہوئی ۔
یاد رہے اس تمام تر تربیتی پروگرام میں محنت ِ دعوت کارفرما رہی اور آج بھی ختم نبوت کے طفیل یہی کار نبوت خیر امت کا منصب و اولین فریضہ ہے جس کی انفع صورت محض نہج نبوت پر تربیت کا یہی ارتقائی و تدریجی اسلوب ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک امت مسلمہ اس فرضِ منصبی کو اجتماعی طور پر نبھاتی رہی تو مذکورہ بالا تما م امور میں دین کی بہاریں دکھائی دیتی رہیں جیسے ہی اجتماعی طور پر اس فریضے سے غفلت برتی گئی تو تربیت کا مذکورہ نظا م ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو تا چلا گیا اور نتیجتاًسب سے پہلے ریاستی نظا م میں بگاڑ آیا پھر قضا اور امور انتظام (Administration) کا دین جاتا رہا اور پھر معاشرت و معاملات کا وہ حال ہوا کہ آج ہم نہ صرف اپنی پہچان کھو بیٹھے ہیں بلکہ اغیار کی مشابہت کو قابل فخر سمجھتے ہیں اورآج امت کی حالت اس قدر پتلی ہو چکی ہے کہ محض عبادات کا دین کسی قدر نظر آتا ہے ۔
سوم ۔۔۔۔ قلبی کیفیت اور ظاہری نوعیت و مراتب کا لحاظ : اسلام قلبی کیفیت اور ظاہری نوعیت و مراتب کے اعتبار سے ہر سطح کے افراد کی تربیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منظم اسلوب اختیار کرتا ہے ۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کی توبہ ظاہری گناہوں سے ہوتی ہے اور صالحین کی توبہ باطنی گناہوں اور مذموم اخلاق سے ہوتی ہے اور متقین کی توبہ شکوک و شبہات سے ہوتی ہے اور محبین کی توبہ ا ن اوامر سے ہوتی جو ان کویاد الٰہی سے غافل کر دیں اور عارفین کی توبہ اس مقام سے ہوتی جس پر وہ پہنچ چکے ہوں مگر اس سے مافوق دوسرا مرتبہ ہو جس پر ان کو پہنچنا چاہیے اور چوں کہ معرفت کے مراتب و منازل لا متناہی ہیں اس لیے عارفین کی توبہ کا منتہیٰ نہیں۔(تبلیغ دین)دوسرا یہ کہ آپﷺابوبکر ؓ کا سارا مال قبول فرما لیتے ہیں اور ایک دوسرے شخص سے اس لئے انکار فر ما یتے ہیں کہ ازاں بعد جز اع فزاع کے فتنے میں پڑ جائے گا ۔یہ تو محض نمونے کے طور پر عرض کیے ہیں لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ میں اس قسم کے واقعات کی کمی نہیں جن میں آپ ﷺ نے افراد کے ایمان ،تقویٰ،توکل اور ظاہری نوعیت و مراتب کو مد نظر نہ رکھا ہو ۔
انسان طبعاً جنس ِ مخالف کی طرف میلان و رجحان اور حب مال و جاہ کا شکار رہتاہے ۔یہی دو چیزیں انسان کی تمام تر محنت اور کاوشوں کا مرکز و محور رہی ہیں۔مصلح کبھی بھی اپنے زیر تربیت عملہ کی طبیعت و مزاج ، میلان و رجحان کو نظر انداز نہیں کرتا ۔ یاد رہے جنس ِ مخالف کی طرف میلان و رجحان اور حب مال و جاہ انسان کی روز اول ہی سے کمزوری رہی ہیں لہٰذا ہر دو جانب سے رخ کو ہٹانے کے لئے ابتداً جنت کی حوروں ، نعمتوں کو بیان کیا جاتا ہے(یعنی فضائل و ترغیب اور استحضار عمل کے ضمن میں ) اور دنیا سے بے رغبتی پیدا کرنے کے لئے دنیا کی مذمت کی جاتی ہے اور مغیبات کے تذکرے کیے جاتے ہیں(یعنی احوال ِآخرت : برزخ ،جنت اور جہنم کو بیان کی جاتا ہے ) تاکہ محنت کا رخ پھر جائے مبادا دنیا کی عارضی شہوتوں ،لذتوں اور آرائش و زیبائش میں الجھ کر اپنے مقصد ِاصلی سے ہٹ جائے اور اپنے خالق حقیقی کو ناراض کر کے اپنی آخرت برباد کر لے ۔لیکن اصلاح ِ احوال ، تزکیہ نفس اور منازل ِسلوک طے کر لینے کے بعد اسی انسان میں نہ حوروں کی تمنا باقی رہتی ہے نہ جنت کی خواہش وہ محض اللہ ذوالجلال کی رضا کا متلاشی بن جاتا ہے ۔چوں کہ معاشرہ خاص و عام لوگوں کا مجموعہ ہوا کرتا ہے اور ایسا ممکن بھی نہیں کہ تمام تر افراد ایک ہی قلبی کیفیت ،نوعیت کے حامل ہوں لہٰذا اگر کوئی شخص کسی وجہ سے تربیت کے تمام ادوار سے نہ گذر سکے یا کسی وجہ سے اس کو تربیت کے مواقع میسر نہ آسکیں توترغیب و ترہیب سے کم از کم وہ فضائل (جنت کی حوروں اور دیگر نعمتوں) اور وعیدوں (جہنم کے عذاب) کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی عقلی بساط اور کیفیت قلبی کی بنیاد پر کسی نہ کسی درجے میں دین سے وابستہ رہتا ہے اور خالق حقیقی کی بندگی بجا لاتا رہتا ہے۔
#ابوالحسن

مہر بھائی ۔ غامدی کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ اس میں وہ نظریہٴ حور کا استہزاء بھی کرتا ہے اور حور سے مراد دنیا کی بیویاں مراد لیتا ہے۔ اس حوالہ سے آپ کا کیا موقف ہے

غامدی صاحب کا استدلال لغو ہے۔ سلف میں سے کسی نے بھی یہ مفہوم نہیں لیا۔ غامدی کے مطابق قرآن نے کہا ہے " وحورٌ عین" ( اور بڑی بڑے آنکھوں والی حوریں)۔ ان اس پر غامدی کا یہ موقف ہے کہ حور عین کا مطلب ہوتا ہے "آہوُ چشم" یعنی بڑی بڑی آنکھوں والی نہ کہ کوئ الگ مخلوق۔ انہیں بیویوں کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں گی۔
اس استدلال میں دیکھیے کہ بڑی بڑی آنکھوں والیوں کا زکر ہے۔ تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ وہ الگ مخلوق نہیں ہوں گی ؟ کیا الگ مخلوق کی آنکھیں بڑی نہیں ہو سکتیں؟ یہ زو معنی دلیل ہے۔ یعنی
۱۔ دنیاوی بیوی کی بھی صفت آہو چشم ہو سکتی ہے
۲۔ حور کی بھی یہی صفت ہو سکتی ہے۔
تو جب یہ دلیل دونوں طرف گارگر ہے تو اس سے اپنا موقف کیسے نکال رہے ہیں؟ اور ہمارا تو اس لفظ سے استدلال ہی نہیں ہم تو یہ مانتے ہیں کہ حوروں کی آنکھیں بڑی ہوں گی۔ غامدی کے رد میں اس سے اگلی آیات کافی ہیں۔ دیکھیے آیت
Image may contain: text


اللہ نے حور کی تعریف کر کے کہا ہے کہ یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔ یعنی حور ایک انعام ہے اعمال کا بدلہ ہے۔ اور انعام کے طور پر اپنی ہی بیوی نہیں ملتی ۔۔۔! حور ہی ہو گی۔ جیسے حوروں کو یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دینے کے بعد ارشاد ہے۔ آیت


تو یہ نیکی اور اعمال کا بدلہ ہے۔
اب آتے ہیں دوسری دلیل کی طرف۔ اللہ کا ارشاد ہے۔



اللہ تو کہ رہا ہے کہ ان کو اہل جنت سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا ہو گا۔ یہی ایک آیت غامدی کے مفروضے کو نیست و نابود کرنے کو کافی ہے کہ دنیاوی بیویوں کو تو اس سے پہلے ان کے شوہروں نے ہاتھ لگایا ہے۔۔۔۔!
یار لوگ یہ کہ سکتے ہیں کہ "یہاں" جنت میں جانے کے بعد یا حور بننے کے بعد چھونے کا بیان ہے۔ مگر  یہ ایک مفروضہ اور قیاس ہے۔ کہ قرآن نے تو واضح کہا کہ اس سے قبل نہ کسی جن نے چھوا نا انس نے اور یہ کہ رہے ہیں کہ نہیں اس سے پہلے انسان نے چھوا تھا۔۔۔۔! اس سے مراد دنیاوی زندگی نہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ قبل سے مراد سیدھا سیدھا آئل جنت سے قبل تمام وقت مراد ہے چاہے وہ دنیا میں ہو۔ اس سے قبل کسی نے نہیں چھوا۔ جیسے قیامت کو جہنمیوں کے متعلق اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے قبل یہ عیش نعیم میں تھے۔ یہاں قبل سے مراد دنیاوی زندگی ہے۔ ا ارشاد ہے۔ آیت



ہماری تیسری دلیل بخاری کی حديث ہے کہ ہر جنتی کو دو حوریں ملیں گی۔ اب اگر کسی کی ایک شادی ہوئ ہو یا نہ ہوئ ہو اس کو کہاں سے اسی کی دو بیویاں ملیں گے۔ ارشاد ہے۔ حديث
لكل واحد منهم زوجتان يرى مخ سوقهما من وراء اللحم، من الحسن (بخاری:3245)

ان جنتیوں میں سے ہر ایک کے لئے دو دو بیویاں ہوں گی،وہ حسن کی وجہ سے ان کی پنڈلیوں کی مخ گوشت میں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

اس کے علاوہ احاديث صراحت سے موجود ہیں۔ ایک حديث میں جنتی خاتون کی فضیلت کا زکر ہے کہ دنیاوی بیوی حوروں کی سردار ہو گی اور اسے حوروں پر وہی فضیلت ہو گی جو نیچے والے کپڑے کو اوپر والے پر ہوتی ہے ( مفہوم حديث).
واللہ اعلم

Noorul Iman MEN NE HAMESHA 1 BAT SUNI HAI K JO CHEEZ HASIL KARNA MUSHKIL HO YAH JO CHEEZ INSAN KO MUTAJASSAS KAR DE INSAN USKI KHOJ MEN KUCH BHI KARNE PAR AMADAH HO JATA HAI MATLAB KABHI KABHI WAQAI ZEHAN MEN ATA BHI HAI K JANNAT KITNI KHUBSURAT HO G JAHANNUM KITNA BHAYANAK HO GA OR PHIR JO KAHA JATA HAI K AHL E JANNAT KA SAB SE BARA INAM ALLAH KA DEEDAR HO GA WAQAI MEN AGAR INSAN DILL SE KOSHISH KARE YAH AQAL KO ISTEMAL KARE TO WOH YAQEENAN ALLAH KI TARAF HI JAE GA

ہمیشہ کی طرح لاجواب بنیامین برادر


Monday, December 26, 2016

quran me her cheez ki tafsil maujud hai


اعتراض کے مختلف انداز :
1.
قرآن ہی کافی ہے، حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
2.
قرآن میں وحی کی پیروی کرنے کا تذکرہ ہے اور وحی صرف قرآن ہے!
3.
قرآن میں کل شیء (ہر چیز) کی تفصیل اور وضاحت ہے لہٰذا حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
4.
قرآن کی تفسیر کے لیے اگر حدیث کی ضرورت ہو تو پھر قرآن کو حدیث کا محتاج ماننا پڑے گا
!
جواب:
کیا قرآن کریم تشریح طلب ہے؟
 
کئی مقامات پر قرآن مجید میں بظاہر یہ دعویٰ نظر آتا ہے کہ اس کی آیات کریمہ جو کہ سمجھنے کے لیے آسان اور معانی کے اعتبار سے واضح ہیں، خود اپنی ہی تشریح ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے کسی بیرونی تفسیر کی حاجت نہیں ہے، لہٰذا پیغمبری تشریحات کو اتنی اہمیت کیوں دی جائے؟
 
موضوع کے اعتبار سے مشترک بہت سی آیات کریمہ کے یکجا مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم بنیادی طور پر دو قسم کے موضوعات سے تعرض کرتا ہے۔ ایک تو وہ جن کا تعلق سادہ حقائق اور ان کے عمومی بیانات سے ہے اور جس میں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی گم گشتہ امتوں کے واقعات، بنی نوع آدم پر اللہ تعالٰی کے احسانات کا ذکر، زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق، اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کے کائناتی مظاہر، جنت کی نعمتوں، دوزخ کے عذاب اور دیگر ملتے جلتے مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
 
موضوعات کی دوسری قسم میں شریعت کے قوانین اور علتیں، اسلامی قانون کے متفرق پہلو، نظریاتی معاملات کی تفاصیل، احکام کے مصالح اور حکمتیں اور اسی قسم کے علمی موضوعات شامل ہیں۔
 
پہلی قسم کے موضوعات جن کے لیے قرآن کریم میں "ذکر" ( نصیحت، موعظت، درس) کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے یقیناً سمجھنے میں اس قدر آسان اور عام فہم ہیں کہ کوئی ناخواندہ شخص بھی کسی دوسرے کی مدد کے بغیر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قرآن کریم اسی قسم کے موضوعات کے بارے میں کہتا ہے۔وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿القمر:٢٢﴾" اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔" (۲۲ - ۵۴)
 
یہاں للذکر ( نصیحت حاصل کرنے کےلیے) کے الفاظ بڑھا کر قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ قرآن مجید کا عام فہم ہونا پہلی قسم کے موضوعات سے تعلق رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر آیت کریمہ کا زور قرآن کریم سے سبق حاصل کرنے اور اسی مقصد کے لیے اس کے آسان اور عام فہم ہونے پر ہے۔
اس سے یہ مسئلہ قطعاً نہیں نکالا جا سکتا کہ قانونی نزاکتوں کے استنباط، اسلامی قوانین کی تشریحات اور نظریاتی مباحث پر بھی اس کے آسان اور عام فہم ہونے کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے۔ اگر اس قسم کے موضوعات کی تشریح اور تعبیر بھی ہرکس و ناکس کے لیے عام ہوتی خواہ اس کی علمی صلاحیت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، تو قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتاب کی " تعلیم" اور " تفسیر" کے فرائض ہرگز تفویض نہ کرتا۔ ایسی آیات کریمہ کے حوالے سے، جو تشریح طلب ہیں خود قرآن کریم میں ارشاد ہے۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ﴿العنکبوت:٤٣﴾" اور ہم ان قرآنی مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی لوگ سمجھتے ہیں۔" (۴۳- ۲۹)
 
اس سے واضح ہوا کہ پہلی قسم کے موضوعات کے " آسان اور عام فہم" ہونے کا مطلب ایک ایسے پیغمبر کی ضرورت کا انکار قطعاً نہیں ہے جو قرآن کریم کے قانونی معاملات اور علمی نتائج کی تشریح کر سکے۔
٭اعتراض ٭:
 
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) یعنی اس میں ہرچیز کوکھول کھول کربیان کردیا گیا ہے، سورۂ نحل میں ہے وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) وَهُوَالَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا (الانعام:۱۱۴) اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَافَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:۳۸) کہ ہم نے قرآن میں کسی بھی چیز کا حکم بیان کرنا نہیں چھوڑا ہے؛ لہٰذا جب قرآن کریم میں اس درجہ جامعیت ہے کہ ہرچیز کوبیان کردیا گیا تواب کسی دوسری دلیل کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے جوحدیث کا سہارا لیا جائے؟۔
٭تبصرہ٭ :
قرآن کریم کی جامعیت کا دعویٰ:
آیت :"وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ"۔(النحل:۸۹)
 
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری جو ہر چیز کا کھلا بیان ہے ہدایت اوررحمت ہے اورماننے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
 
قرآن کریم کی مذکورہ بالاآیت بتارہی ہیں کہ قرآن کریم نہایت جامع اور مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر انسانی ضرورت کا پورا پورا حل موجود ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا یہ دعویٰ کہاں تک حالات سے ہم آہنگ ہے؟اورزندگی کے تمام مسائل کیا اپنی پوری تفصیل کے ساتھ ہمیں اس میں ملتے ہیں یا نہیں؟ اس پر ذرا اور غور کیجئے، یہ حقیقت ہے اور اس کے تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ بہت سے قرآنی احکام ایسے مجمل ہیں کہ جب تک اور کوئی ماخذ علم ان کی تفصیل نہ کرے ان کی عملی تشکیل نہیں ہوسکتی اور زندگی کے لا تعداد مسائل ایسے بھی ہیں جن کے متعلق واضح جزئی ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتی،پس قرآن کریم کی جامعیت کی تشریح ایسی ہونی چاہئے جس سے یہ دعویٰ واقعات سے ہم آہنگ بھی ہوسکے۔
٭قرآن کریم کی جامعیت کا صحیح مفہوم٭
 
آج تک کسی نے قرآن کریم کی جامعیت کا یہ مفہوم نہیں لیا کہ اس کی کسی آیت میں کوئی اجمال (Brevity) یا کسی بیان میں کوئی تقیید (Particularisation) نہیں ، اس نے ہر باب کی غیر متنا ہی جزئیات کا بھی احاطہ کرلیا ہے اور ہر حکم کی تمام حدود اور تفصیلات (Details) اس نے بیان کردی ہیں نہ یہ کسی کا دعویٰ ہے نہ اس کا کوئی قائل ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا حل ملتا ہے اور لا تعداد جزئیات کے احکام کے اصول وکلیات اورضوابط کی شکل میں اس میں موجود ہیں، علامہ شاطبیؒ (۷۹۰ ھ) لکھتے ہیں:
 
ترجمہ: قرآن مجید مختصر ہونے کے باوجود ایک جامع کتاب ہے اور یہ جامعیت تبھی درست ہوسکتی ہے کہ اس میں کلیات کا بیان ہو۔ (الموافقات:۳/۱۳۲)
 
پس جب قرآن پاک میں ایسے اصول و کلیات ہیں جن کے تحت لا تعداد جزئیات کا فیصلہ قرآن کریم کی جامعیت کی تصدیق کرے تو یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ ان مواقع پر قرآن کریم کی اصولی دعوت کیا ہے؟ وہ ان کلیات کی تفصیل کے لیے کس کی طرف رجوع کرنے کا کہتا ہے؟
 
قرآن کریم نے اپنے احکام وارشاد کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کا تعارف بھی کرایا ہے اوراس کو اپنے ساتھ لازم کیا ہے، قرآن کریم مسلمانوں کو اس کے عمل سے اسوۂ حسنہ کی دعوت دیتا ہے، یہ ایک ایسی اصل عظیم ہے جس کے تحت ہزاروں مجملات کی تفصیل اور لاکھوں جزئیات کا حل مل جاتا ہے،قرآن کریم کی اس دعوت کے تحت اس اسوہ حسنہ کی تعمیل عین قرآن پاک کی تعمیل شمار ہوگی،یہ کلیدی آیات ہیں جن کے تحت لا تعداد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
چند آیات ملاحظہ کیجئے۔
(
۱)"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"۔ )الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
(2)"
یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ"۔ (النساء:۵۹)
ترجمہ: اے ایمان والوحکم مانو اللہ کا اورحکم مانو(اس کے) رسول کا۔
(3)"
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ"۔ (النساء:۸۰)
ترجمہ: جو اللہ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے پس بیشک وہ اللہ کی اطاعت کرچکا۔
یہاں رسول کی اطاعت صیغہ مضارع (Presentt) سے بیان فرمائی جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی اوراللہ کے اطاعت کو ماضی (Past) سے تعبیر فرمایا کہ مومن ایمان لانے کے ساتھ ہی اسی اصول کو تسلیم کرچکا تھا کہ زندگی کی ہر ضرورت میں رسول کی اطاعت کی جائے گی اوراسی کے تحت وہ اطاعت رسول کررہا ہے، یہ وہ کلیدی آیات (Key Verses) ہیں جن کے تحت جمیع جزئیات حدیث آجاتی ہیں اورقرآن کریم جمیع تعلیمات رسول پر حاوی قرار پاتا ہے۔
٭اگر احادیث حجت نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل سوالات کا جواب ہمیں کہاں سے ملے گا؟ ٭
 
٭ قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز کی حالت میں کھڑے ہونے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز میں پہلے کھڑے ہوں یا پہلے رکوع کریں یا پہلے سجدہ کریں؟ لغت میں ’’رکوع‘‘ کا معنی ہے جھکنا، سوال یہ ہے کہ آگے جھکیں، یا دائیں جھکیں یا بائیں جھکیں؟ پھر رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں ہوں؟ اسی طرح سجدہ کیسے کریں؟ سجدہ ایک کریں یا دو کریں؟ 
 
٭ قرآن میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نہ دینے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے جس جس قسم کے لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کرنی ہے، انھیں بھی بتا دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ کم از کم کتنے مال پر فرض ہے؟ کتنے فیصد فرض ہے؟ اور کب کب فرض ہے؟
 
٭ قرآن میں جن جانوروں کو حرام اور جن کو حلال قرا ردیا گیا ہے، انکے علاوہ بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟ مثلا کتا، بلی، گیڈر، بھیڑیا، چیتا، شیر، تیندوا، بندر، ریچھ، ہرن، چیتل، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم نے میتۃ یعنی از خود مر جانے والے جانور کوحرام قرار دیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو مر جاتی ہے، تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس کی حلت کو قرآن سے ثابت فرمائیے یا مچھلی کھانا چھوڑیے ۔
 
٭ قرآن میں حکم ہے کہ مسلمان جنگ میں کفار کا جو مالِ غنیمت حاصل کریں، اس کے پانچ حصے کر کے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر الگ نکال دیا جائے جو یتیموں، مسکینوں اور حاجت مندوں وغیرہ میں بانٹ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چار حصے کیا کیے جائیں؟ تمام مجاہدین پر برابر برابر بانٹ دیئے جائیں یا فرق کیا جائے؟ اگر ان سب کو برابر دیں تو کیوں دیں؟ اور اس کا ثبوت قرآن میں کہاں ہے؟ اور اگر فرق کریں تو کس حساب سے فرق کریں؟ قرآن سے اس کا حساب بتایے اور اگر سالار کی رائے پر چھوڑ دیں تو قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ سالار کی رائے پر چھوڑ دیں؟ 
 
٭ قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہاں سے کاٹیں؟
 
٭ قرآن میں یہ ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن کب پکارا جائے؟ کس نماز کے لیے پکارا جائے؟ کن الفاظ کے ساتھ پکارا جائے؟ جس نماز کے لیے پکارا جائے، وہ نماز کیسے پڑھی جائے؟
اس طرح کے ہر شعبے اور موضوع پر سینکڑوں اٹھائے جاسکتے ہیں ، ان سوالات کو ایک بار غور سے پڑھ لیجئے اور بتائیے کہ اگر قرآن میں ساری تفصیلات موجود ہیں تو انکی تفصیلات کہاں ہیں ؟ قرآن کہتا ہے کہ﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب 21) آپ بتائیے اس سلسلے میں 'رسول اللہ ﷺ کا عمل کیا تھا؟ اور اس عمل کی تفصیلات کہاں سے ملیں گی؟ اگر قرآن میں ملیں گی تو کس سورہ، کس پارے، کس رکوع اور کن آیات میں؟ اور حال یہ ہے کہ جو مسائل پیش آتے ہیں،ان کے متعلق قرآن میں رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ ملتا ہی نہیں۔ اور اگر کہیں ملتا بھی ہے تو آپ اسے 'ایرانی سازش' کہہ کر اس پر تقدس کا خول چڑھا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے لگ جاتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی چاہنے والے بے چارے کریں تو کیا کریں؟
٭غلام احمد پرویز صاحب کا ایرانی سازش سے استفادہ ٭
 
پرویز صاحب چوری کی سزاؤں کے بارے میں سنت اور احادیث پر انحصار کرتے ہیں لیکن سنت کو ماخذ قانون بھی نہیں مانتے۔ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں "
 "
چوری کی سزا قطع ید ہے یہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے جو قرآن نے متعین کی ہے کس قدر چوری اور کن حالات میں چوری کے جرم میں مجرم اس سزا کا مستحق ہوگا اور کن حالات میں اس سے کم سزا کا سزاوار ہوگا۔ اس کے متعلق فقہ اور روایات دونوں میں تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ روایات (مسلم اور بخاری) میں ہے کہ دینار سے کم کی چوری میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ فقہ میں اس کو نصاب کہتے ہیں بعض کے نزدیک نصاب ایک دینار ہے اور بعض کے نزدیک ربع (ایک چوتھائی) دینار ی یہ تو رہا مقدار کا سوال۔ اب لیجیے احوال و ظروف کو، فقہ کی رو سے چور کو اس تک قطع ید کی سزا نہیں دی جائے گی جب اس نے کسی محفوظ جگہ سے نہ چرایا ہو ‘‘۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
پھر اس کے بعد مال محفوظ کی تعریف میں ’’سارق کسے کہتے ہیں‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت نسائی کی ایک روایت اور روایت حضرت عمرؓ کا قول اور امام ابن حزم کا ایک قول بطور حجت پیش فرماتے اور نتیجہ یہ پیش فرماتے ہیں کہ: "پہاڑوں پر آوارہ چرنے پھرنے والے جانوروں میں سے اگر کوئی جانور لے جائے تو وہ چور نہیں ہوتا۔ بھوکا شخص باغ سے پھل توڑ کر کھالے تو وہ بھی چور نہیں ہوتا۔ قحط کے زمانے میں چوری کرنے والا بھی چور نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان پر قطعِ ید کی حد جاری نہیں ہوگی۔ البتہ قاضی جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا دے سکتا ہے"۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
جب احادیث پرویز صاحب کے موقف کی تائید میں ہوں تو ان کا استعمال ایمان کا تقاضہ بن جاتا ہے جب پرویز صاحب کے موقف کی تردید ہو رہی ہو تو احادیث کو عجمیوں کی اختراع اور ایرانی سازش قرار پاتی ہے۔
٭خلاصہ ٭:
 
قرآن کریم نے کچھ احکام نہایت وضاحت اورصراحت سے بیان کئے ہیں جیسے قانون وراثت، قانون شہادت، قانون حدود، ایمانیات اوراخلاقیات۔ مگر کچھ احکام ایسے بھی ہیں اور یہ بہت سے ہیں جنہیں قرآن کریم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے،قرآن کریم میں ان کی پوری کیفیت ادا نہیں ملتی، پھر قرآن پاک میں کچھ ایسے اشارات ہیں جن کی تفصیل اس میں نہیں ہے اور پھر کچھ مشکلات ہیں جن کی وضاحت کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے اور پھر اصول قرآنی کی ایسی توسیعات بھی ہیں جن کی پوری جزئیات کا بیان یہاں نہیں ملتا اورنہ یہ عملاً ممکن ہے۔ انہی تفاصیل کے لیے قرآن کے ساتھ حضور ﷺ کو معلم بنا کے بھیجا گیا اور قرآن میں ہی کہا گیا کہ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل:۴۴) یعنی ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جومضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ہیں، آپ ان کوکھول کرسمجھادیں۔
منكرين حديث اس آیت کا انکار کرتے ہوئے كتاب كو ہی  مفصّل،مُبِين، مُبَيّن اور تبيان كہتے ہيں ۔ لیکن دوسری طرف اللہ تعالىٰ كى تبيين كے بعد خود تفسيريں بھی لكھتے ہیں ۔ ايك مقام اور دوسرے مقام كے درميان جو خلیج رہ جاتى ہے، اسے پُر كرنے كے لئے وہ اپنے ذہن و اجتہاد سے كام ليتے ہيں ، ربط ِمضامين اور استنباط ِنتائج ميں قرآنى آيات كو اپنے فہم اور سمجھ كے مطابق چلاتے ہيں ۔ انکا ہر فرقہ اسی بين، مفصل اور مبين قرآن كو كھینچ تان كركے اپنے ذہنى تصورات پرمنطبق كرنے كى كوشش كرتا ہے- كيا آج لاہور ہى ميں بلاغ القرآن والوں اور طلوعِ اسلام والوں كى يہى كيفيت نہيں ہے؟
 
يہ تو رہى منكرين حديث كے مختلف فرقوں كى كيفيت، خود پرويز صاحب كى كيفيت يہ ہے كہ وہ اس ميں مفصل ، مبين، مبين قرآن كى آيات كو فضاے دماغى ميں اُٹھنے والى ہر لہر كے ساتھ اپنے تازہ ترين ذ ہنى مزعومات پر كھینچ تان كے ذريعہ منطبق كرتے رہے ہيں - ان كے وسيع خار زار تضادات كى آخر اس كے سوا كيا وجہ ہوسكتى ہے؟اگر ان كے نزديك "اللہ كى تبیانا لکل شئی كے بعد، مزيد كسى تبيين كے كوئى معنى نہيں ہيں تو پهر 'مفكر ِقرآن' صاحب كى يہ 'تفسير مطالب الفرقان'، يہ 'قرآنى فيصلے'، يہ 'قرآنى قوانين'، يہ 'تبويب القرآن'، يہ 'لغات القرآن'، يہ'مفہوم القرآن' يہ سلسلہ ہائے 'معارف القرآن' وغيرہ كتب ، اگر قتل اوقات (Time Killing) كى خاطر بهى نہيں تهى، تو پهر پيٹ كے جہنم كو ايندهن فراہم كرنے كى پيشہ وارانہ ضرورتوں ہى كا تقاضا تها؟ 
 
كتاب لے كر تشریح پیغمبر كو نہ لينا، نہ صرف يہ كہ تعليم بلا عمل، كتاب بلاپيغمبر اور قرآن بلا محمد كے نرالے مسلك كو اختيار كرنا ہے بلكہ اسى منصب ِرسالت كى تكذيب كرنا بهى ہے جس كا تقاضا ہى يہ ہے كہ رسول كتاب كى تشريح و تفسیر اورتبیین و توضيح كرے- اس كا انكار نفس رسالت ہى كا انكار ہے۔