Monday, December 26, 2016

kya dusre nabiyo per bhi kitab ilahi ke ilawa wahi nazil hui ?





جواب:
انبیاءسابقین پر کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی۔ چند مثالیں پیش ہیں :

آدم علیہ السلام:

اللہ تعالی فرماتا ہے:
قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَن
ْۢبِئْھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ (بقرہ:۳۳)اے آدم فرشتوں کو ان کے نام بتادو۔
پھر ارشاد فرمایا:
وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ (بقرۃ:
۳۵۵)اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور خوب کھاؤ جہاں سے جی چاہے مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔
لیکن شیطان کے بہکانے سے انہوں نے اس درخت میں سے کھا لیا۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰى(طہ:
۱۲۱)آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گئے۔
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّ‌بِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ
ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٣٧٧﴾ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾ (بقرۃ)۔
 آدم علیہ السلام کو ان کے رب کی طرف سے چند کلمات سکھائے گئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ بیشک اللہ تواب اور رحیم ہے۔ ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اترو، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو وہ بے خوف و بےغم ہو گا۔
 آدم علیہ السلام جنت سے اتارے جاتے ہیں۔ اس وقت کتاب ہدایت بھیجنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ گویا ابھی تک کتاب نہیں آئی تھی لیکن اللہ تعالی آدم علیہ السلام سے باتیں کرتا تھا۔ حتی کہ اس کتاب سے پہلے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو چند کلمات بھی سکھائے تھے جن کے ذریعہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ ثابت ہوا کہ کتاب اللہ کے علاوہ بھی آدم علیہ السلام پر وحی آتی تھی۔

موسی علیہ السلام :
اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَىٰ ﴿١١﴾ إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ
ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢٢﴾ جب موسی علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو ان کو پکارا گیا: اے موسیٰ! میں تمہارا رب ہوں، اپنی جوتیاں اتار دے۔
فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ ﴿١٣﴾ سن جو کچھ وحی کی جا رہی ہے۔
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ‌ي ﴿١٤﴾ میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔
پھر اللہ تعالی نے پوچھا:
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ ﴿١٧﴾ اے موسیٰ: تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟
پھر عصا اور ید بیضاء کے معجزات عطا ہوئے۔ پھر ارشاد ہوا:
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿٢٤﴾ فرعون کے پاس جا۔ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔
 الغرض موسیٰ علیہ السلام فرعون کو تبلیغ کرتے ہیں۔ جادوگروں سے مقابلہ ہوتا ہے اس موقع پر پھر اللہ تعالی نے فرمایا:
لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ ﴿٦٨﴾(طہ:
۶۸) ڈرو مت تم ہی غالب رہو گے۔
 پھر موسیٰ علیہ السلام وہاں سے ہجرت کرتے ہیں۔ فرعون غرق ہو جاتا ہے موسی علیہ السلام وادی سینا میں تشریف لے آتے ہیں۔ پھر اس موقع پر ان کو کتاب دی جاتی ہے۔ :
 وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا
ۚ ۔۔۔۔﴿١٤٥﴾ (سورۃ الاعراف)
 اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہر قسم کے نصائح اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی اور حکم دیا کہ اس کو قوت کے ساتھ پکڑو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان اچھی باتوں پر عمل کرے۔
 اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام قوم کے پاس واپس آئے اور بچھڑا پوجنے کی وجہ سے ان پر اتنا غصہ آیا کہ وہ تختیاں زمین پر پٹخ دیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ (الاعراف:
۱۵۰) اور تختیاں پٹخ دیں
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ (الاعراف:
۱۵۴)
اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو تختیاں اٹھا لیں۔
 کتاب تو اب ملی ہے لیکن اس سے پہلے اللہ تعالی موسیٰ علیہ السلام پر بےشمار مرتبہ وحی کر چکا تھا۔ کتاب دینے کے بعد فرمایا: اسے مضبوطی سے پکڑو اور تو اور کتاب جب نازل ہوئی تو ایسی کہ اس میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر طرح کی تفصیل تھی لیکن اس کے بعد بھی وحی جاری رہی۔ موسیٰ علیہ السلام ستر آدمیوں کو کوہِ طور پر لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالی کو دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک بجلی آتی ہے اور سب مر جاتے ہیں۔ موسی علیہ السلام دعا کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے:
۔۔۔۔عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ
ۖ وَرَ‌حْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۔۔۔﴿١٥٦﴾(سورۃ الاعراف:۱۵۶۶) میں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔
الغرض کتاب الٰہی سے پہلے بھی وحی جاری ہے، اور کتاب الٰہی کے بعد بھی وحی جاری ہے۔
 خلاصہ: اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے مختلف مواقع پر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے، اے موسیٰ یہ مقدس وادی ہے جوتے اتار دو، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ اسے زمین پر ڈال دو، ڈرو نہیں، میرے پاس رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ا کو اٹھا لو، یہ پھر لاٹھی بن جائے گا۔ ہاتھ کو جیب میں ڈالو۔ فرعون کے پاس جاؤ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا۔ انہوں نے جواب دیا ڈر لگتا ہے۔ کہیں وہ قتل نہ کر دے۔ دعا کی مجھے ایک وزیر چاہیے۔ میری زبان صاف نہیں۔ اس کی اصلاح فرمایئے۔ جواب ملا: اچھا یہ باتیں قبول۔ وغیرہ وغیرہ۔ حکم ملا گائے کو ذبح کرو۔ قوم نے طرح طرح کے بےہودہ سوالات کئے اللہ تعالی جواب دیتا رہا۔ غرض یہ کہ اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ قرآن میں مذکور ہیں۔ برق صاحب انصاف سے بتائیے کیا یہ سب باتیں اس کتاب الٰہی میں موجود تھیں۔ جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی۔

یوسف علیہ السلام:
ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ
ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِ‌هِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿١٥٥﴾ (سورۃ یوسف)
 جب وہ یوسف علیہ السلام کو لے کر چلے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کو کنویں میں ڈال دیا جائے تو ہم نے یوسف کو وحی بھیجی کہ تم ان کو اس کام کی خبر دو گے اور وہ نہ سمجھتے ہوں گے۔
 یوسف علیہ السلام ابھی بچے ہیں لیکن وحی آرہی ہے ۔
دیگر انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ کی گفتگو: 
 اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف عذاب الٰہی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ
۷۴ۭ (سورۃ ھود) ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: اے ابراہیم اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (سورۃ ھود:۷۶) اس بات کو جانے دو۔ کیا ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مجادلہ، اور سوال و جواب صحف ابراہیم میں موجود تھا۔؟
زکریا علیہ السلام دعا کرتے ہیں۔ اے اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں، مجھے فرزند عنایت فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اچھا تمہارے ہاں لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ ہو گا اور یہ نام پہلے کسی کا نہیں ہوا۔ پوچھا اے اللہ! کیسے ہو گا؟ میں بوڑھا ہوں۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ جواب ملا: یہ میرے لئے آسان ہے، عرض کیا: اے اللہ! اس کی نشانی مقرر فرما دے۔ جواب دیا اس کی نشانی یہ ہے کہ تین رات تک بات نہ کر سکو گے (مریم:۳۰)۔ کیا یہ باتیں حضرت زکریا علیہ السلام کی کتاب میں موجود تھیں۔؟
نتیجہ: قرآن مجید کے محولہ بالا واقعات سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے پاس کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی آیاکرتی تھی۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سید المرسلین کے پاس سوا قرآن کے دوسری وحی نہ آئے۔ ضرور آئی تھی اور ان سے زیادہ آتی تھی۔ ورنہ لازم آئے گا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں آپ اس نعمت سے محروم تھے۔ آپ ﷺ کی قدم قدم پر رہنمائی کی گئی۔ اس رہنمائی کی روشنی میں آپ نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا اور جو کچھ فرمایا وہ حدیث کی شکل میں محفوظ ہے۔

munkareen hadees ki hadees dushmani main badtareen ilmi khayaniyate




منکرین حدیث اور ابن قتیبہؒ کے حوالے سے بدترین علمی خیانت:
ابن قتیبہؒ پہلے خود معتزلہ سے متاثر اور ان کے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ پھر جب انھیں معتزلہ کی جسارت اور احادیث صحیحہ کو بھی رد کرنے کا علم ہوا اور دیکھا کہ وہ قرآن کی تفسیر دوسری قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر اپنے عقائد باطلہ کے ہم آہنگ بنا لینے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ان سے الگ ہوگئے۔ ”مختلف الحدیث“ میں ابن قتیبہ نے معتزلہ کے پوشیدہ عیوب و نقائص کو طشت از بام کیا ہے۔ سب سے پہلے نظام معتزلی کا ذکر کیا ہے جس نے حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سب کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ پھر ان اعتراضات کا ازالہ کیا ہے اس کے بعد مشہور معتزلین ابو ہذیل علاف، عبیداللہ بن حسن اور ہشام بن حکم کا ذکر کر کے ان کی یا وہ گوئی اور تناقضات پر تبصرہ کیا ہے۔ بعد ازاں معتزلین کے خطیب جاحظ کا ذکر کیا ہے کہ جھوٹا آدمی تھا۔ خود حدیثیں وضع کرتا تھا اور صحیح حدیثوں کا مذاق اڑاتا تھا۔ پھر اس کے بعد معتزلہ کے دیگر مزعومات باطلہ اور عجیب و غریب اقوال درج کیے ہیں اور متعارض حدیثوں کی توجیہہ پیش کی ہے۔
 
امام ابن قتیبہ کی یہ کتاب منکرین حدیث کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوئی وہ اس کتاب سے حدیث پر اعتراضات و مطاعن تو بعینہ نقل کر دیتے ہیں مگر ان کے جو جوابات ابن قتیبہ نے دیئے ہیں یا ان پر جو جرح یا تبصرہ کیا ہے اسے مطلقاً نظر انداز کر جاتے ہیں اور اعتراضات بھی اس انداز سے پیش کرتے ہیں گویا یہ صحابہ و اہل حدیث کے بارے میں ابن قتیبہ کے ذاتی افکار و آراءہیں ۔ منکرین حدیث کو جامع بیان العلم کے
۳۸۱ ابواب میں سے مندرجہ ذیل چار باب بہت پسند ہیں: 

۱۔  کراہیة کتابة العلم و تخلیدہ فی الصحف یعنی علم کو لکھنے کی اور اسے ہمیشہ لکھا رکھنے کی ناپسندیدگی۔ ”کیونکہ بعض صحابہ حدیث حفظ ہو جانے کے بعد اسے مٹا دیتے تھے۔ 
۲۔  ”اختلاف العلماءفی بعض الفروع“ یہ باب ان فروعی اختلاف کو اچھال کر احادیث سے برگشتہ کرنے کے لیے بہترین مواد کا کام دیتا ہے۔ 
۳۔  من ذم الاکثار من الحدیث بغیر تفہیم و تفقہ یعنی ان لوگوں کے اقوال جنھوں نے حدیث میں فہم و تفقہ پیدا کیے بغیر تکثیر روایت کی مذمت کی ہے۔ 
۴۔  ”لایقبل قول بعض العلماءفی بعض الاببینة“ یعنی ایک عالم کی دوسرے عالم کے حق میں جرح بغیر دلیل کے ناقابل قبول ہے۔ اس باب کے عنوان سے صرف نظر کر کے منکرین حدیث صرف وہ اقوال درج کر دیتے ہیں جو کسی عالم نے دوسرے کے خلاف کہے اور اس طرح جرح اور تعدیل کے فن کو بے کار ثابت کرتے ہیں اس کتاب کے باقی ۹۷۱ ابواب منکرین حدیث کے خیال میں بے کار اور ناقابل التفات ہیں۔ 
اسی طرح توجیہہ النظر میں تیسری فصل [ص
۱۱، تا ۹۱] منکرین حدیث کے لیے بڑے کام کی چیز ہے اس کا عنوان ہے ”الفصل الثلث فی تثبت السلف فی امر الحدیث خشیة ان یدخل فیہ مالیس منہ یعنی حدیث کے معاملہ میں سلف کی تحقیق اس خدشہ کے پیش نظر کہ مبادا حدیث میں وہ شامل نہ ہوجائے جو حقیقتاً اس میں شامل نہیں۔ 
یہی صورت تذکرة الحفاظ للذہبی کی ہے۔ ان تمام کتابوں سے مصنف کی منشاءکے علی الرغم عبارتیں نقل کر کے اس کا غلط سلط مطلب عوام کے سامنے پیش کر کے انھیں حدیث سے بدظن اور برگشتہ کرنے کا فریضہ منکرین حدیث مدتوں سے سر انجام دے رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک فیس بکی منکر حدیث نے احادیث پر اعتراض کے لیے ایک روایت کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں:
 "یہ کہتے ھیں کہ خیبر سے رسول اللہ ﷺ کو ایک گدھا مال غنیمت میں ملا جس نے رسول اللہ ﷺ سے انسانی زبان میں کلام کیا اور بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے دادا کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تھا اور کہا تھا کہ اس کی پشت سے ایک ایسا گدھا شریف پیدا ھو گا جس پر آخری نبی سواری کرے گا- اس گدھے نے مزید کہا کہ میری نسل میں ساٹھ گدھے ایسے پیدا ھوئے ھیں کہ جن پر سوائے رسولوں کے کسی نے سواری نہیں کی اور میرے ماں باپ آپ پر فدا آج مجھے آپ کی سواری کا شرف حاصل ھو رھا ھے- میرا نام یزید بن شھاب ھے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا نام "یعفور" ھے، اس کے بعد آپ نے اس کو آواز دی یا یعفور،، لبیک یا رسول اللہ، گدھے نے جواب دیا،، آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا کہ تمہیں عورت دیکھ کر ھوشیاری آتی ھے؟ اس نے کہا کہ نہیں ((میں اولی الاربۃ من الرجال میں سے ھوں لہذا مجھ سے پردہ واجب نہیں ھے))
اس حدیث میں اور بھی بہت کچھ ھے، مگر میرا مقصد اس روایت کا یہی حصہ ھے، گدھے کے رسول اللہ ﷺ سے کلام پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اللہ کے رسول در اصل اللہ کے نمائندے اور نائب ھوتے ھیں وہ ھر چیز سے کلام کر سکتے ھیں اگر اللہ پاک چاھے تو- جیسے حضرت سلیمان کا حیوانات سے گفتگو کرنا، مگر رسول اللہ ﷺ کی گفتگو میں سے جو کردار برآمد کیا ھے راوی نے وہ قابلِ اعتراض ھے، ان راویوں کے نزدیک نبئ کریم ﷺ جنس زدہ تھے، آپ کا ذھن ھر وقت جنسی سوچ میں ھی مصروف رھتا تھا، معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، نقلِ کفر کفر نباشد،،، ایک گدھا رسول اللہ ﷺ سے معجزانہ گفتگو کر رھا ھے، جس کے دوران وہ اپنے ماضی کے کئ قصے سناتا ھے مگرجب رسول اللہ ﷺ اس سے مخاطب ھوتے ھیں تو بس ایک ھی جملہ بولتے ھیں اور وہ جملہ جنس سے متعلق ھے کہ " کیا تجھے عورتیں دیکھ کر ھوشیاری آتی ھے؟ اگر ان اناث کو گدھے کی مؤنث یعنی گدھیاں بھی لے لیا جائے تو کیا گدھے سے بھی پاک دامنی مطلوب ھے؟ یا گدھے کو گدھی دیکھ کر ھوشیاری آ جائے تو کیا یہ کبیرہ گناہ اور بدنظری ھے؟ ایک صاحب شریعت نبی گدھے سے یہ سوال کر کے کیا حاصل کرنا چاھتا ھے؟ کیا اگر گدھا کہہ دیتا کہ جی ھاں مجھے عورتیں دیکھ کر کھلبلی سی ھوتی ھے تو رسول اللہ عورتوں کا اس گدھے سے پردہ کرا دیتے؟ روایت اور اس کے حوالہ جات موجود ھیں اور یہ روایت اھلسنت کے یہاں ھی نہیں بلکہ شیعہ لٹریچر میں کلینی کی روایت میں موجود ھے!"

تبصرہ:
موصوف
  نے اس روایت کے حوالے تو بہت بیان کیے ہیں لیکن علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب "الموضوعات" کا حوالہ دینا بھول گئے ہیں شاید۔۔۔!
علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منگھڑت ہے اور جس نے بھی گھڑی ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔ اور جس نے بھی اسے گھڑا ہے، اس کا مقصد اسلام کا مذاق اڑانا تھا۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی "اصل" نہیں ہے اور اس کی سند کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ امام سیوطی، امام شوکانی، علامہ البانی نے اس حدیث کو "موضوع" [
fabricated]، امام ابن کثیر، امام ابن اثیر نے "منکر" اور امام ذہبی رحمہم اللہ نے "باطل" کہا ہے۔ دعا کریں ان صاحب کے ہاتھ کتاب "الموضوعات" کا ترجمہ نہ لگ جائے، یقین مانیے، اگر انہوں نے وہاں سے حدیثیں نقل کرنا شروع کر دیں، تو آپ سب کے لیے حدیث کا دفاع بہت مشکل ہو جائے گا۔
موصوف نے ابن اثیر کا جو حوالہ دیا ، اس حوالے کو پورا پیش کرنا گوارہ نہیں کیا
  ۔امام ابن اثیر رحمہ اللہ اس واقعے کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ قصہ سند اور متن کے اعتبار سے باطل ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس قصے کو میرے ریفرنس سے کسی کو بیان کرے سوائے اس کے کہ جو حکم میں نے بیان کیا ہے، وہ بھی ساتھ ہی نقل کرے۔۔۔ هذا حديثٌ منكرٌ جداً إسناداً ومتناً ، لا أحلُ لأحدٍ أن يرويهِ عني إلا مع كلامي عليهِ۔۔ تو انہوں نے تو یہ بتلانے کے لیے نقل کیا ہے کہ یہ باطل اور منکر روایت ہے۔
 اس قصے کے بارے ابن کثیر کا حوالہ نقل کیا حالانکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قصے کے نقل کرنے سے پہلے ہی کہا ہے: وقد أنكرهُ غيرُ واحدٍ من الحفاظِ الكبارِ .. کہ کبار محدثین اس قصے کی صحت کا انکار کرتے ہیں۔۔
سیوطی کا حوالہ دیا حالانکہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے اللآلی المصنوعہ میں اس کو موضوع کہا ہے۔۔
منکرین حدیث کی تہی دامنی ملاحظہ فرمائیے
  موضوع روایات کی دیوار پر کھڑے ہو کر انکار حدیث کا مقدمہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
استفادہ تحریر: انکارحدیث، ماہنامہ ساحل اگست20077، یعفورگدھے کا قصہ، حافظ زبیر

 فوزیہ جوگن نواز 

Wednesday, November 23, 2016

HAZRAT AYESHA R.A KI 9 UMER ME SHADI ??



اسلام لٹ گیا برباد ہوگیا توبہ توبہ نبی ﷺ کی ذات اقدس پے اتنا بڑا بہتان انہونے 9 سال کی بچی سے شادی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بڑی سنسنی خیز بات ہے اکثر لوگ سن کر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور اپنی عقل شریف پے پردہ ڈال کر واویلا مچا دیتے ہیں یہ گھڑی ہوئی احادیث ہیں یہ ایرانی سازش ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی عرض یہ ہے کے اسلام نے کہیں بھی اس چیز کو فرضیت کے کھاتے میں نہیں ڈالا ۔۔۔۔ نکاح کے لئے جو اہم شرط رکھی ہے وہ بلوغت ہے ۔۔۔ اس کے بعد دونوں فریقین کی رضامندی ۔۔۔ باقی کے اختیارات والدین کو دئے ہیں وہ کوئی اچھا رشتہ ملنے پر اپنی بچی کا نکاح کروادیں یا اسے نا معلوم مدت تک محلے کی رونق بناکے رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر لڑکا لڑکی راضی تھے انکے اہل وعیال والے راضی تھے تو آج 1400 سال بعد آپ کو مروڑ اٹھنے چے معنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جب کے ان کے بڑے بھائی ملحد حضرات کا منہ تو صرف اسی بات پے گودا ہوجاتا ہے 9 سال کی بچی سے نکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ارے بھائی اس میں اتنی حیرانگی و پریشانی کی کیا بات ہے بھلا ۔۔۔؟؟ یہ کوئی دنیا کا پہلا کیس تو نہیں ہے ۔۔۔؟؟ 
یہاں تو فریقین کی رضامندی سے ایک جائز معاہدہ " نکاح " انجام پایا تھا ۔۔۔ 
آپ کے ان مغربی بابوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں نا جائز تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں ۔۔۔۔ 
چند نمونے پیش خدمت ہیں امید ہے افاقہ ہوگا ۔۔۔ اور اگر غیرت کی تھوڑی بھی مقدار آپ لوگوں میں باقی ہوگی تو ان کے بارے میں بھی ضرور شور و گل کریں گے ۔۔۔۔
اس کے بعد اب یہاں ہمارے منکر حدیث پروزی بھائیوں کی طرف سے اگلا سوال داغ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں صرف جسمانی بلوغت شرط نہیں ہے ذھنی بلوغت ( میچوئرٹی ) بھی لازم ہے ۔۔۔
چلیں مان لیا ۔۔۔۔ 
ہمارا سوال یہ ہے کے آپ نے یہاں بھیٹھ کر کونسی دوربین ایجاد کرلی ہے جس سے 1400 پیچھے دیکھ کر بتا رہے ہیں کے امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ذھنی طور پر بالغ نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ذہنی بلوغت ہے کیا ۔۔۔؟؟ کیا اس کا کوئی وقت معین ہے ۔۔؟؟ اگر کوئی لڑکی اپنا شوہر ، گھر گرستی اچھے طریقے سے سنبھال لیتی ہے تو وہ آپ کے نذدیک ذہنی بالغ ہوگی یا نہیں ۔۔۔؟؟ اگر آپ کو بغض صرف سیدہ عائشہ سے ہے تو وہ بات الگ ہے ۔۔۔ باقی اسی معاشرے میں ھزاروں کسیز ایسے بھی مل جاتے ہیں جن میں ایک 30 سال کی عورت سے بھی گھر نہیں سمھالا جاتا تو کیا اس کو بھی اس نا بالغوں کی لسٹ میں ڈالا جائگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اگر ہم ذخیرہ احادیث سے یہاں وہ احادیث و اقوال پیش کردیں جن سے انکی ذہنی بلوغت اس حد تک واضع ہوجائے صحابہ کرام اکثر آپ سے دقیق مسائل کے لئے رجوع ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو قابل قبول ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پہر پرویزی حضرات ایک "جذباتی اعتراض" یہ کرتے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی 9 سال کی بیٹی یا بہن کو 50 سال کے شیخ کے نکاح میں دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ "جدید ذہن" کو یہ اعتراض "واقعی اپیل" کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسی جدید ذہن رکھنے والوں سے سوال یہ ہے کہ اگر آج کوئی 50 سال کا شیخ انکی 19 سال کی بیٹی یا بہن کے لئے رشتہ بھیجے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو ہنسی خوشی رخصتی کے لئے تیار ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اگر وہ اسے معیوب سمجھیں گے تو پھر 9 کو 19 بنانے سے کیا ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کم از کم 29 یا 39 تو بناؤ بھائی تاکہ بات پوری بن سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے بڑے بھائی ملحد اسی اعتراض کو کچھ مرچ مصالہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔۔۔ کہتے ہیں 50 سال کے بڈھے کو کون اپنی 9 سال کی لڑکی کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ اس وقت موجود تھے آپ کو کیسے پتا چلا کے نبی ﷺ بڈھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ صرف عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے عکاسی کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ کی اطلاع کے لئے عرض کردوں کے بالوڈ اسٹار شاھ رخ خان 45 کراس کر چکے ہیں اور سلمان خان صاحب 42 میں چل رہے ہیں اور آپ کے پی کے صاحب بھی 44 کے ہوچکے ہیں ۔۔۔ جن کی فوٹوز کو چما چاٹی کر کے آپ کی 9 سال کی بچیاں رات کو تکئے کے نیچے رکھ کر سوتی ہیں ۔۔۔۔۔ اگر کسی ملحد میں ذرا بھی غیرت ہوگی تو ان اسٹارز کی فینز اپنی ان ساری بہنوں، بیٹیوں کو کل سے ہی طعنے دینا شروع کردیں گے شرم نہیں آرہی بڈھوں پے مر مٹی ہو ۔۔۔۔۔ دنیا میں جوان مر گئے ہیں ۔۔۔۔ یہ بات الگ ہے آگے سے جواب ملے گا پپا لگتا ہے آپ سھٹیا گئے ہو اپنی عمر 60 سال ہوتے ہوئے بھی مما کو روز کہتے ہو ابھی تو میں جوان ہوں اور ان کو بڈھا کہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہی عرض ہے کہ 1400 پہلے ہونے والے واقعہ کو آج کے تناظر میں دیکھیں گے تو عجیب لگے گا لیکن اس دور میں یہ کوئی عجیب اور انہونی چیز نہیں تھی ورنہ معترضین کے پاس اس سے زیادہ سنہری موقعہ کیا ہوتا کہ اسے لے کر خوب پروپگنڈا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری بات یہ کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی ماضی بعید تو چھوڑیں ماضی قریب میں بھی ہوئی ہیں۔بلکہ اگر آپ کو آج بھی امریکہ کی تین ریاستوں میں لڑکی کے لیے مقرر کی گئی شادی کی عمروں کا بتایا جائے تو آپ ضرور حیران ہوں گے۔ نیچے ان تینوں ریاستوں کے نام اور لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر درج کی جاتی ہے:
۱۔ ریاست Massachusetts لڑکی کی کم سے کم عمر بارہ سال
۲۔ ریاست New Hampshire کم از کم عمر تیرہ سال
۳۔ ریاست New York کم سے کم عمر چودہ سال
یہ پرانی بات نہیں بلکہ آج بھی ان تینوں ریاستوں میں لڑکیوں کے لیے یہی عمر مقرر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھردیکھیں کہ جو لوگ ہمارے ملک میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں پر ٹیسوے بہاتے ہیں ان کے اپنے ملک کا یہ حال ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ان کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ]سنہ 2014 میں برطانیہ میں ساتویں گریڈ میں پڑھنے والی ایک لڑکی نے بارہ سال کی عمر میں ایک ناجائز بچے کی ماں بن ملک کی تاریخ میں رکارڈ قائم کیا اور اس کا نام گنیز بک میں درج کیا گیا ہے، خبر بی بی سی سمیت پورے عالمی میڈیا پر چلی تھی، آج بھی گوگل پر موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ اگرہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ:
۱۔ سینٹ آگسٹن ]350AD[نے دس سال کی لڑکی سے شادی کی ۔۔۔۔۔
۲۔ کنگ رچرڈ دوئم ]1400AD[نے سات سالہ لڑکی سے شادی کی ۔۔۔
۳۔ ھینری ہشتم ]1500AD[نے چھ سالہ لڑکی سے شادی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ برطانیہ میں سنہ 1929 تک چرچ کے وزراء قانونی طور پر 12 سالہ لڑکی سے شادی کرسکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ قانون میں اس کی اجازت تھی۔ 1983 سے قبل تک مشہور کینن لا کے مطابق پادری بارہ سالہ لڑکیوں سے شادی کرسکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ سنہ 1880 تک امریکی ریاست ڈیلویئر میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 7 سال مقرر تھی، جبکہ کیلیفورنیا میں یہی عمر دس سال مقرر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بینجامن مہر 

Tuesday, November 22, 2016

UMER- AYESHA (r.a) TAHQEEQ KE AYENE ME ?




گزشتہ تحریر میں ہم نے ماضی اور حال کی مثالوں سے تفصیل پیش کی تھی کہ حضرت عائشہ کی نو سال کی عمر میں شادی کوئی عجیب بات نہیں تھی وہ عاقلہ اور بالغہ تھیں۔ یہ دلائل سب کے سامنے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اپنی علمی کم مائیگی کی بناء پر ان احادیث صحیحہ پر زبان طعن دراز کرتے نظر آتے ہیں جن میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر بوقت رخصتی نو (۹) سال بیان کی گئی ہے ۔ انکے موقف کو دیکھا جائے تو انکا یہ اعتراض کسی اصول کی بناء پر نہیں اور نہ ہی اسکی بنیاد کوئی “علم ” ہے ۔ بلکہ اپنے ذززہن سے قائم کردہ ایک مفروضے اورصرف اپنی عقل کوتاہ پر بنیاد رکھ کر انہوں نے ان احادیث صحیحہ کو طعن کا نشانہ بنایا ہے ۔
عمر امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق انکے نقطہ نظر اور اعتراضات پرتبصرہ پیش کرنے سے پہلے یہ عرض کردیں کہ شادی کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال کوئی اجتہادی مسئلہ نہیں ہے کہ اس میں یہ غور کیا جائے کہ مسئلہ کا کونسا پہلو صحیح ہے اور کونسا غلط؟ یہ تو ایک ٹھوس حقیقت ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اسکے ٹھوس ہونے کی چند وجوہات ہیں۔

١.عمر سے متعلق خود عمر والے کی صراحت :۔
عمر سے متعلق خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صراحت موجود ہے۔یہ صراحت بخاری اور مسلم دونوں میں ہے جنکو قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتابیں مانا گیا ہے۔ حدیث دیکھئے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی ، پھر ہم مدینہ ( ہجرت کرکے ) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا ۔ یہاں آکر مجھے بخار چڑھا اوراس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے ۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہوگئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں ، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوںنے مجھے پکا را تو میں حاضر ہوگئی ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے ۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑکر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جارہاتھا ۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا ۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں ۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں ، جنہوںنے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر وبرکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو ، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے میری آرائش کی ۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اورانہوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا میری عمر اس وقت نو سال تھی ۔
صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار
رواه البخاري (3894) ومسلم (1422
)
اس روایت میں صراحت کے ساتھ عمر کا بیان آیا ہے
کیا ہشام بن عروہ اس حدیث کے تنہا راوی ہیں ؟
بعض حضرات دعوی کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا روایت کی صرف ایک ہی سند ہے ۔ حالانکہ متعدد سندوں سے یہ روایت منقول ہے۔ مشہور ترین سند ھشام کی ہے (ھشام بن عروة عن ابیه عن عائشة ) یہ: صحیح ترین روایت بھی ہے کیونکہ یہ عروہ بن زبیر سے آرہی ہے اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال سے سب سے زیادہ واقف تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انکی خالہ تھیں
دوسری سند: سندِ اعمش ہے (اعمش عن ابراھیم عن الاسود عن عائشة ) یہ سند مسلم میں ہے۔ حدیث نمبر: 1422
تیسری سند: سندِ محمد بن عمرو ہے (محمد بن عمرو عن یحی بن عبد الرحمن بن حاطب عن عائشة )یہ سند ابو داؤد میں ہے۔ حدیث نمبر: 4937
مزید یہ کہ شیخ ابو اسحاق حوینی نے عروہ بن زبیر اور ھشام بن عروہ دونوں کے متابعین بھی جمع کئے ہیں
متابعین عروہ بن زبیر : اسود بن یزید، قاسم بن عبد الرحمن، قاسم بن محمد بن ابی بکر، عمرہ بنت عبد الرحمن، یحی بن عبد الرحمن بن حاطب
متابعین ھشام بن عروہ: ابن شہاب زہری، ابو حمزہ میمون
اس کے ساتھ ساتھ کہ شیخ حوینی نے مدنی،مکی وغیرہ ان رواة کو بھی جمع کیا ہے جو ھشام بن عروہ سے اس حدیث کو نقل کرتے ہیں
مدنی رواة: ابو الزناد عبد اللہ بن ذکوان، عبد الرحمن بن ابی الزناد، عبد اللہ بن محمد بن یحی بن عروہ
مکی رواة: سفیان بن عیینہ، جریر بن عبد الحمید؟
بصری رواة: حماد بن سلمہ، حماد بن زید، وھییب بن خالد وغیرہ
خلاصہ یہ کہ راویوں کی اتنی بڑی تعداد اس شبہ کے ازالہ کیلئے کافی ہے کہ ھشام بن عروہ تنہا اس روایت کو بیان کرنے والے ہیں ۔۔
کیا ہشام بن عروہ کا حافظہ آخر عمر میں بگڑ گیا تھا؟
بخاری کی مذکورہ بالا روایت پر دوسرا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ ھشام بن عروہ کا حافظہ آخر عمر میں بگڑ گیا تھا۔ یہ الزام علماء فن رجال میں صرف ابن قطانؒ لگاتے ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔ مگر ابن قطانؒ کا یہ الزام درست نہیں ہے۔ ہشام بن عروہ پہ تبصرہ فرماتے ہوئے امام ذہبی بیان فرماتے ہیں
ترجمہ: ہشام بن عروہ بڑے آدمی ہیں، حجہ ہیں، امام ہیں، بوڑھاپے میں حافظہ بگڑا تو تھا مگر ہمہ وقت بگڑا نہیں رہتا تھا، ابن قطان نے انکے بارے میں جو بات کہی ہے اسکا کوئی اعتبار نہیں، حافظہ بگڑا ضرور تھا مگر ایسا نہیں بگڑا تھا جیسا انتہائی بوڑھے لوگوں کا بگڑ جاتا ہے۔ وہ صرف چند باتیں بھولے تھے،اور اِس میں کوئی خرابی نہیں ، بھول سے کون محفوظ ہے؟ آخر عمر میں جب ھشام بن عروہ عراق آئے تھے تو آپ نے اہل علم کے ایک بڑے مجمع میں احادیث بیان کی تھیں، اس مجمع میں چند ہی احادیث ایسی تھیں جنکو آپ صحیح سے بیان نہ کرسکے تھے (اکثر آپ نے درست بیان کی تھیں ) اس طرح کی صورت حال کا سامنا دیگر بڑے لوگوں کو بھی اپنی آخری عمر میں کرنا پڑا تھا جن میں امام مالک، امام شعبہ امام وکیع جیسے دیگر بڑے نام آتے ہیں۔ اس الزام سے صرف نظر کیجئے۔ بڑے بڑے ائمہ کو کمزور راویوں کے درجے میں لانے سے بچیں۔ ہشام بن عروہ شیخ الاسلام تھے۔
(”
ميزان الاعتدال ” (4/301-302) .

ہم نے کئی اہل علم کو بھی یہ اعتراض دہراتے دیکھا حالانکہ وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ ایک عظیم راوی کی حیثیت کو مشکوک کرنا، اس سے منسوب تمام ذخیرۂ حدیث کو عوام کی نظر میں بے اعتبار کرنے پر منتج ہو سکتا ہے ۔اگر وہ اس اڑتے ہوئے نعرے پر اعتبار فرمانے کے بجائے رجال و تراجم کی کتب کی طرف رجوع کر تے تو اس بے سروپا اعتراض کی حقیقت اور ایک جلیل القدر راویِ حدیث کی مکمل تصویر سامنے آسکتی تھی ۔۔ اس طرح کی ا یک رخی تصویریں پیش کرنا کسی طرح بھی مسلم علمی روایت کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔
اہل غلو کی شاید یہ مجبوری ہوتی ہے کہ انھیں صرف اپنے مطلب کی بات سے غرض ہوتی ہے اور کسی کونے کھدرے سے کوئی بات دریافت ہوجائے تو وہ ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھا لیتے ہیں۔

احادیث عمر عائشہ اور تاریخ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور انکے معاصرین سے منقول روایات ان تاریخی کتابوں سے بھی میل کھاتی ہیں جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوانحی خاکے درج ہیں, اِن میں اور اُن میں ذرا اختلاف نہیں ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تمام تاریخی اور سوانحی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش زمانہ اسلام میں ہوئی ہے، بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال بعد۔
امام بیہقیؒ حدیث: لم اعقل ابوی الا وھما یدینان الدین پہ تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
وعائشة رضي الله عنها وُلدت على الإسلام ؛ لأن أباها أسلم في ابتداء المبعث ، وثابت عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي ابنة ست ، وبنى بها وهي ابنة تسع ، ومات عنها وهي ابنة ثمان عشرة ، لكن أسماء بنت أبي بكر ولدت في الجاهلية ثم أسلمت بإسلام أبيها… وفيما ذكر أبو عبد الله بن منده حكاية عن ابن أبي الزناد أن أسماء بنت أبي بكر كانت أكبر من عائشة بعشر سنين ، وإسلام أم أسماء تأخر ، قالت أسماء رضي الله عنها : قدمت عليَّ أمي وهي مشركة . في حديث ذكرته ، وهي قتيلة ، مِن بني مالك بن حسل ، وليست بأم عائشة ، فإن إسلام أسماء بإسلام أبيها دون أمها ، وأما عبد الرحمن بن أبي بكر فكأنه كان بالغا حين أسلم أبواه ، فلم يتبعهما في الإسلام حتى أسلم بعد مدة طويلة ، وكان أسن أولاد أبي بكر ” انتهى باختصار .
”
السنن الكبرى ” (6/203)
امام ذہبیؒ:
”
عائشة ممن ولد في الإسلام ، وهي أصغر من فاطمة بثماني سنين ، وكانت تقول : لم أعقل أبوي إلا وهما يدينان الدين ” انتهى .
”
سير أعلام النبلاء ” (2/139) .
حافظ ابن حجرؒ:
ولدت – يعني عائشة – بعد المبعث بأربع سنين أو خمس ” انتهى .
”
الإصابة ” (8/16)
ان میں یہ بھی مذکور ہے کہ ہجرت کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر آٹھ سال تھی۔ یہ بات بھی احادیث میں مذکور بات سے مکمل میل کھاتی ہے
ان کتابوں میں یہ بھی مذکور ہےکہ حضورﷺ کے وصال کےوقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس سے بھی یہ بات پتہ چلی کہ ہجرت کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو سال تھی۔

٢.سال وفات سے استدلال
تاریخی، سوانحی اور سیرت کی کتابوں میں یہ مذکور ہے انتقال کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر 63‍ سال تھی۔ سال وفات: سن ستاون 57 ہجری ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ ہجرت کے وقت آپؓ کی عمر چھ سال تھی(پس مجموعی طور سے تاریخی کتابوں سے جو عمریں نکلیں وہ تین ہوگئیں۔ نو سال، آٹھ سال اور چھ سال )اگر آپ کسر کو حذف کردیں جیسا کہ عربوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ سن ولادت اور سن وفات کو گنتے نہیں ہیں تو ایسے میں آپؓ کی عمر ہجرت کے وقت آٹھ سال ہوگی، اور نو مہینے بعد رخصتی کے وقت آپؓ کی عمر نو سال ہوگی۔
٣. عمروں کے درمیان فرق سے استدلال
مذکورہ بالا حساب اس وقت بھی درست بیٹھتا ہے جب آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی عمروں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت اسماء ؓ حضرت عائشہؓ سے کتنی بڑی تھیں۔ امام ذہبی لکھتے ہیں:
وكانت – يعني أسماء – أسن من عائشة ببضع عشرة سنة ” انتهى . ” سير أعلام النبلاء ” (2/188)
ترجمہ: حضرت اسماء حضرت عائشہ سے کچھ سال بڑی تھیں
ابو نعیم لکھتے ہیں:
عن أسماء أنها ولدت : ” قبل مبعث النبي صلى الله عليه وسلم بعشر سنين ” انتهى .
بعثت نبوی سے دس سال پہلے حضرت اسماء کی ولادت ہوئی ۔
پہلا حوالہ دوسرے حوالے کی وضاحت کررہا ہے۔ ان دو حوالوں سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دونوں بہنوں کے درمیان چودہ پندرہ سال کا فرق تھا۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سال ولادت چار پانچ ہجری ہوا
کیا حضرت اسما حضرت عائشہ سے صرف دس سال بڑی تھیں؟ :
اب ہم بعض لوگوں کے اس دعوے کا جائزہ لیں گے کہ حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ کے درمیان جو فرق تھا وہ دس سال کا تھا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دس سال فرق والی روایت سندا صحیح نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ہم اسکو سندا صحیح مان بھی لیں تو اس روایت کا مطلب وہ بیان کیا جانا چاہئے جو بخاری اور مسلم کی روایات سے لگا کھاتا ہو، نہ کہ یہ کہ اس مشکوک روایت کی وجہ سے بخاری و مسلم کی صحیح روایات کو ساقط کردیا جائے۔ غرض اِس کو اُن کے تابع کیا جائے گا ناکہ اُن کو اِس کے آئیے اس روایت کا حال دیکھتے ہیں۔ دو سندوں سے منقول ہے یہ روایت

پہلی سند : رواه ابن عساكر في ” تاريخ دمشق ” (69/10) قال : أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المالكي ، أنا أحمد بن عبد الواحد السلمي ، أنا جدي أبو بكر ، أنا أبو محمد بن زبر ، نا أحمد بن سعد بن إبراهيم الزهري ، نا محمد بن أبي صفوان ، نا الأصمعي ، عن ابن أبي الزناد قال : فذكره .
دوسری سند : رواه ابن عبد البر في ” الاستيعاب في معرفة الأصحاب ” (2/616) قال : أخبرنا أحمد بن قاسم ، حدثنا محمد بن معاوية ، حدثنا إبراهيم بن موسى بن جميل ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ، حدثنا نصر بن علي ، حدثنا الأصمعي قال : حدثنا ابن أبي الزناد ، قال : قالت أسماء بنت أبي بكر ، وكانت أكبر من عائشة بعشر سنين أو نحوها .
منصف اہل علم جب اس روایت میں غور کریں گے تو ان پر یہ بات ظاہر ہوگی کہ اس روایت کے ظاہر پر عمل کرنا اور اِس کی وجہ سے تمام صحیح روایات کو پس پشت ڈال دینا علم و تحقیق کے نام پر زیادتی ہے ظلم ہے۔ ایسا تین وجہوں سے ہے
پہلی وجہ : عبد الرحمن بن ابی الزناد منفرد ہیں۔ صرف یہی دس سال کا فرق بیان کرتے ہیں۔ ( انکا کوئی متابع نہیں ) جبکہ اس کے خلاف نقطہ نظر کے دلائل جو اوپر مذکور ہوچکے ہیں وہ ایک تو بکثرت ہیں، دوسرے متعدد لوگوں سے منقول بھی ہیں۔ اور یہ مشہور و معروف بات ہے کہ کثرت کو قلت پر ترجیح ہوتی ہے

دوسری وجہ: اکثر اہل علم نے عبد الرحمن بن ابی الزناد کی تضعیف کی ہے۔ ان کے بارے میں ائمہ فن کے اقوال دیکھئے
قول الإمام أحمد فيه : مضطرب الحديث . وقول ابن معين : ليس ممن يحتج به أصحاب الحديث . وقول علي بن المديني : ما حدث بالمدينة فهو صحيح ، وما حدث ببغداد أفسده البغداديون ، ورأيت عبد الرحمن – يعنى ابن مهدى – خطط على أحاديث عبد الرحمن بن أبى الزناد ، وكان يقول فى حديثه عن مشيختهم ، ولقنه البغداديون عن فقهائهم ، عدهم ، فلان وفلان وفلان . وقال أبو حاتم : يكتب حديثه ولا يحتج به . وقال النسائي : لا يحتج بحديثه . وقال أبو أحمد بن عدى : وبعض ما يرويه ، لا يتابع عليه
تهذيب التهذيب ” (6/172)
لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ امام ترمذیؒ نے سنن ترمذی میں عبد الرحمن بن ابی الزناد کی توثیق کی ہے تو تنہا حضرت امام ترمذیؒ کی یہ توثیق اِس مفصل جرح اور تضعیف کے خلاف ہے جو ائمہ فن کے حوالے سے ابھی اوپر مذکور ہوئی۔ ائمہ فن کی یہ تضعیف امام ترمذی کی توثیق پر مقدم ہوگی خاص طور سے اس وقت تو ضرور مقدم ہوگی جب عبد الرحمن بن ابی الزناد تن تنہا ایک ایسی بات بیان کریں (دس سال کا فرق ) جو احادیث اور تاریخی کتابوں میں مذکور بات کے یکسر خلاف ہو

تیسری وجہ: عبد الرحمن بن ابی الزناد کی سند سے آنے والی صحیح ترین روایت کے الفاظ دیکھئے: و کانت اکبر من عائشة بعشر سنین او نحوھا
ترجمہ: اسماءؓ عائشہؓ سے دس سال بڑی تھیں یا اس کے قریب قریب
یہ ‌” او نحوھا” کے الفاظ بذات خود دلالت کررہے ہیں کہ راوی کو عمر ٹھیک ٹھیک یاد نہیں ہے۔ اس سے بھی روایت میں ضعف آتا ہے۔
(
خلاصہ کلام): مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں اہل انصاف علماء، دانشوران اور اسکالرز کیلئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ عبد الرحمن بن ابی الزناد کی مشکوک روایت کی وجہ سے صحیح روایات اور مضبوط دلائل کو رد کردیں، پس پشت ڈال دیں۔۔

: نوٹ: واضح رہے مذکورہ بالا تاریخی روایتیں جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں اِن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا اعتماد اور استدلال کی بنیاد ان تاریخی روایتوں پر ہے۔ نہیں! حاشا و کلا! ہمارے استدلال کی بنیاد تو سند صحیح سے منقول روایات ہیں، مگر چونکہ یہ تاریخی روایات سند صحیح سے منقول روایات سے میل کھا رہی تھیں اس لئے ہم نے صرف تائیدی طور سے نقل کیا ہے۔
 بینجامن  مہر