Sunday, August 28, 2016

KYA OONT KE DHOOD AUR PESHAB SE BIMARI KA ILAJ KIYA JA SAKTA HAI ?



کیا اونٹ کے دودھ اور پیشاب سے بیماری کا علاج کیا جاسکتا ہے؟


بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
کیا اونٹ کے دودھ اور پیشاب سے بیماری کا علاج کیا جاسکتا ہے؟
موضوع بحث مسئلہ کی وضاحت سے قبل صحیح بخاری میں وارد تین مسلسل احادیث کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں شہد پلاؤ۔ پھر دوسری مرتبہ وہی صاحب حاضر ہوئے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لئے کہا۔ وہ پھر تیسری مرتبہ حاضر ہوئے (اور عرض کیا کہ شہد پلایا لیکن شفا نہیں ہوئی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ انہیں شہد پلاؤ، وہ پھر آئے اور کہا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفا نہیں ہوئی)، حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلاؤ، چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے صحت یاب ہوگئے۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بالعسل وقول اللہ تعالیٰ فیہ شفاء للناس)
حضرت ثابت ؒ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو بیماری تھی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں قیام کی جگہ عنایت فرمائیے اور ہمارے کھانے کا انتظام فرمائیے۔ پھر جب وہ لوگ صحت مند ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ کی آب وہوا خراب ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا انتظام کردیا اور فرمایا کہ ان کا دودھ پیو۔ جب وہ صحت یاب ہوگئے تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک کرلے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے اور (جیسا انہوں نے چرواہے کے ساتھ سلوک کیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے ہاتھ پاؤں کٹوادئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھروادی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ زبان سے زمین چاٹتا تھا اور اسی حالت میں مرگیا۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بالبان الابل)
حضرت قتادہؒ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (عرینہ کے) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے یہاں چلے جائیں، یعنی اونٹوں کے پاس اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ صحت یاب ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تلاش کرنے کے لئے بھیجا۔ جب انہیں لایا گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی۔ (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بابوال الابل)
مذکورہ واقعہ کی قدر
تفصیل:
قبیلہ عرینہ اور قبیلہ عکل کے تقریباً
۸ حضرات مدینہ منورہ تشریف لائے اور انہوں نے یہ دعوی کیا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں۔ وہ مرض الجواء میں مبتلا ہوگئے، مرض الجواء پیٹ کی ایک بیماری ہے جس میں پیٹ پھول جاتا ہے اور پیاس بہت لگتی ہے۔ اس مرض کو استسقاء بھی کہتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شہر مدینہ سے تھوڑا باہر اپنے صدقہ کے اونٹوں کے پاس بھیج دیا تاکہ کھلی فضاء میں تازہ آب وہوا میں رہیں اور صحیح بخاری میں وارد حدیث کے مطابق انہیں اونٹ کے دودھ پینے کو کہا، جبکہ صحیح بخاری کی دوسری حدیث کے مطابق انہیں اونٹ کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ شفایاب ہوگئے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس احسان وکرم کا بدلہ خیانت اورخباثت کی شکل میں اس طرح دیا کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو ظلماً قتل کردیا اور اس کی آنکھوں میں سلائی پھیردی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ حضرات بھیجے تاکہ ان کو گرفتار کرکے لایا جائے، جب انہیں گرفتار کرکے لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح سے ان کا قتل کروایا جس طرح انہوں نے چرواہے کو قتل کیا تھا چنانچہ ان کے ہاتھ پاؤں کٹواکر اُن کی آنکھوں میں سلائی پھروادی۔ یہ واقعہ مثلہ کی ممانعت کے نزول سے قبل کا ہے، جیساکہ صحیح بخاری میں حدیث کے آخر میں اس کی وضاحت مذکور ہے، حضرت قتادہؒ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین ؒ نے حدیث بیان کی کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، (بعد میں اس طرح کی سزا کی ممانعت نازل ہوگئی)۔ کسی شخص کے بعض اعضاء کاٹ کر یا ان کو مسخ کرکے بے دردی سے قتل کرنے کو مثلہ کہتے ہیں۔
حلال جانوروں کا بھی پیشاب ناپاک ہے:
موضوع بحث مسئلہ کو سمجھنے سے قبل ایک دوسرے مسئلہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے یعنی حلال جانور مثلاً بکرا، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ، آیا ان کا پیشاب پاک ہے یا ناپاک؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ ، حضرت امام شافعی ؒ اور دیگر فقہاء کرام مثلاً امام سفیان ثوریؒ کی رائے ہے کہ انسان کے پیشاب کی طرح ہر جانور کا پیشاب ناپاک ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ البتہ حضرت امام مالک ؒ اور بعض دیگر علماء کرام کی رائے ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے اور جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا اُن کا پیشاب ناپاک ہے۔ حضرت امام مالکؒ نے اس کے لئے بنیادی طور پر دو دلیلیں پیش کی ہیں۔ پہلی دلیل حضرت قتادہ ؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ مذکورہ بالا حدیث جس میں پیشاب پینے کا ذکر آیا ہے، وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر پیشاب پاک نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پینے کا حکم کیوں دیتے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہو۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر ان کا پیشاب ناپاک ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت کیوں دیتے۔ حالانکہ ان دونوں احادیث سے حلال جانوروں کے پیشاب کے پاک ہونے کی دلیل بنانا قابل اعتراض ہے کیونکہ پہلی حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیماری کے لئے پیشاب کا استعمال کیا جاسکتا ہے، نیز اکثر علماء نے اس واقعہ کو خصوصی واسثنائی واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ دوسری حدیث کے مکمل الفاظ: صَلُّوا فِیْ مَرَابضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِی اعْطَانِ الْاِبِل (یعنی بکریوں کے باڑہ میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے باڑہ میں نماز ادا نہ کرو) 
سے واضح طور ہمارے ہی موقف کی تایید ہوتی ہے کہ حلال جانور کا پیشاب بھی ناپاک ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے باڑے میں نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔ دونوں دلیلوں کا تفصیلی جواب آگے آرہا ہے۔
جن فقہاء وعلماء (مثلاً امام ابوحنیفہ ؒ ، امام شافعی ؒ اور امام سفیان ثوریؒ ) نے تمام جانوروں کے پیشاب کو ناپاک قرار دیا ہے وہ دلیل کے طور پر اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیشاب سے بچو کیونکہ عمومی طور پر قبر کا عذاب پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (مستدرک حاکم، ابن ماجہ، دار قطنی، صحیح ابن خزیمہ) شیخ حاکم ؒ نے اس حدیث کو صحیح علی شرط البخاری قرار دیا ہے۔ اس حدیث کو علامہ ہیثمی ؒ نے بھی "مجمع الزوائد" میں ذکر کیا ہے۔ غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر پیشاب سے بچنے کا حکم دیا ہے اور کسی انسان یا جانور کے پیشاب کی کوئی تخصیص نہیں کی۔ دوسری دلیل مسند امام احمد میں وارد وہ حدیث ہے جس میں مذکور ہے کہ دفن کے بعد میت کو قبر نے زور سے بھینچا اور دبایا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب ان کا پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے تھا۔ غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پیشاب سے بچنے کی ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی حلال وحرام جانوروں کے پیشاب میں کوئی فرق بیان نہیں فرمایا۔
نیز شرعی وطبی دونوں اعتبار سے دوردور تک پیشاب کا گوشت سے کوئی تعلق سمجھنے میں نہیں آتا کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا تو پیشاب پاک ہو اور جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہو، اسی طرح گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پائخانہ کو ناپاک اور ان کے پیشاب کو پاک قرار دینے ، نیز انسان کے پیشاب کو ناپاک اور گوشت کھائے جانے والے جانور کے پیشاب کو پاک قرار دینے کی کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی، حالانکہ قرآن وحدیث میں ایسی کوئی واضح دلیل نہیں ہے جس میں صرف گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پیشاب کو پاک قرار دیا جائے۔ اگر یہ بات ما ن بھی لی جائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے علاج کے لئے اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت دی تھی، مگر یہ بھی تو بہت ممکن ہے کہ اس زمانہ میں اس بیماری کا علاج اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہو مگر اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ صرف گوشت کھائے جانے والے جانوروں کا پیشاب پاک ہے۔ اور جہاں تک اُس حدیث کا تعلق ہے کہ جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو اس حدیث کے مکمل الفاظ یہ ہیں: صَلُّوا فِیْ مَرَابضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِی اعْطَانِ الْاِبِل بکریوں کے باڑہ میں نماز ادا کرلو لیکن اونٹوں کے باڑہ میں نماز ادا نہ کرو۔اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بکریوں کا پیشاب عموماً دور دور نہیں جاتا ہے لہذا بکریوں کے باڑے میں تو کسی پاک وصاف جگہ نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اونٹ کا پیشاب دور دور تک بہتا ہے لہذا اونٹ کے باڑے میں پاک وصاف جگہ کا موجود ہونا دشوار ہے لہذا اونٹ کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے موقف کی ہی تایید ہوتی ہے کہ بکری واونٹ کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔
اونٹ کے دودھ یا دودھ اور پیشاب سے بعض بیماری کا علاج:
اس نوعیت کا صرف ایک واقعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں پیش آیاتھا، اس کے بعد صحابۂ کرام کے زمانہ میں بھی کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، جہاں تک صحیح بخاری کے باب الدواء بابوال الابل میں مذکور حدیث کا تعلق ہے تو علماء احناف وشوافع نے اس کے متعدد جوابات دئے ہیں جن میں سے تین جوابات حسب ذیل ہیں:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ اونٹ کا پیشاب پئے بغیر ان کی شفا اور زندگی ممکن نہیں، اس طرح یہ لوگ مضطر کے حکم میں آگئے اور مضطر کے لئے نجس چیز کا استعمال جائز ہے۔ یعنی اگر کسی انسان کی جان خطرہ میں ہو تو اس کی جان بچانے کے لئے حرام چیز سے علاج کیا جاسکتا ہے ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پینے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اس کے خارجی استعمال کا حکم دیا تھااور اصل عبارت یوں تھیں: اشربوا من البانہا واضمدوا من ابوالہا۔ اضمدوا کے معنی ہیں لیپ چڑھانا۔
متعدد شواہد دلالت کررہے ہیں کہ یہ واقعہ سن
۶ ہجری سے قبل کا ہے، خود حدیث کے راوی حضرت قتادہؒ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین ؒ نے حدیث بیان کی کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، (بعد میں اس طرح کی سزا کی ممانعت نازل ہوگئی)، یعنی یہ واقعہ مثلہ کی حرمت سے قبل کا ہے، جبکہ پیشاب سے نہ بچنے پر عذاب قبر کی حدیث اس واقعہ سے بعد کی ہے کیونکہ وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ ہجری میں اسلام لائے تھے۔ لہذا حضرت قتادہؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ والی حدیث منسوخ ہے۔ نیز اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مثلہ فرمایا اور مثلہ بالاتفاق منسوخ ہے۔ لہذا ظاہر یہی ہے کہ یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا ہو اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اس نوعیت کا علاج نہیں بتایا اور نہ کسی صحابی سے اس نوعیت کا علاج کرنا منقول ہے۔
صحیح بخاری میں ہی اس حدیث سے قبل حضرت ثابت ؒ سے مروی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث بھی مذکور ہے جس میں انہیں حضرات کا علاج صرف دودھ سے مذکور ہے، اس حدیث میں پیشاب کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اس لئے اس نوعیت کی بیماری کا علاج صرف اونٹ کے دودھ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ان دونوں احادیث سے قبل پیٹ کی بیماری کا علاج شہد سے بھی مذکور ہے۔ لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اگر دنیا میں بیماری کا علاج موجود ہو تو پیشاب پی کر علاج نہ کیا جائے، بلکہ صحیح بخاری میں وارد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی روشنی میں پہلے شہد، صرف اونٹ کے دودھ یا دیگر ادویہ سے کیا جائے اور اگر کوئی دوا اثر نہیں کررہی ہے اور جان کا خطرہ ہے تو پھر اونٹ کے پیشاب سے علاج کیا جاسکتا ہے ۔
سعودی عرب کے مشہور مصنف جناب محمد بن عبداللطیف آل الشیخ نے اس موضوع پر ایک مضمون (التداوی ببول الابل) تحریر کیا ہے جو مشہور ومعروف ویب سائٹ العربیہ پر پڑھا جاسکتا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر اس کا خلاصۂ کلام پیش کردوں تاکہ مسئلہ مزید واضح ہوجائے۔ انہوں نے ابتداء میں تحریر کیا کہ باوجودیکہ میں قرآن وحدیث پر مکمل طور پر ایمان لایا ہوں اور اس بات پر بھی میرا مکمل یقین ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری وصحیح مسلم دو اہم ومستند صحیح کتابیں ہیں، مگر صحیح بخاری میں وارد اُس حدیث کے الفاظ سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوں جس میں اونٹ کے پیشاب سے علاج کا ذکر وارد ہوا ہے۔ زیادہ بہتر معلوم ہوتا کہ ہم اس حدیث کے تعلق سے جلیل القدر فقیہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ والا موقف اختیار کریں کہ یہ ایک خصوصی واقعہ ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ اونٹ کا پیشاب پئے بغیر ان حضرات کی شفا اور زندگی ممکن نہیں ہے، یعنی اس حدیث میں عمومی حکم نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص اونٹ کے پیشاب سے علاج کرے جیساکہ بعض علماء کرام نے سمجھا ہے۔ غرضیکہ یہ ایک خصوصی واقعہ ہے، جس طرح جمہور علماء نے صحیح مسلم میں وارد حدیث کو خصوصی واقعہ قراردیا ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم کو دودھ پلادیں جس سے دونوں کے درمیان حرمت ثابت ہوجائے ، حالانکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی یعنی ماں بیٹے کا رشتہ نہیں بن سکتا۔ تو جس طرح سے جمہور علماء نے صحیح مسلم میں وارد اس واقعہ کو خصوصی واستثنائی قراردیا ہے اسی طرح اونٹ کے پیشاب سے علاج والے واقعہ کو بھی خاص قرار دیا جائے، کیونکہ طبی اعتبار سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پیشاب جس میں مختلف قسم کے زہر ہوتے ہیں اس کو پی کر کسی طرح کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ نیز یہ حضرات اللہ کے علم میں کافر تھے اور بہت ممکن ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ بتلادیا گیا ہو کہ یہ لوگ مرتد ہوکر مرجائیں گے، لہذا اللہ تعالیٰ نے کافر کی شفاء ایک ناپاک چیز میں رکھ دی تھی ۔ موصوف نے مزید تحریر کیا کہ حدیث کی سند صحیح ہونے کے باوجود حدیث میں وارد پیشاب کے لفظ پر بھی تو کلام کیا جاسکتا ہے، جس طرح شیخ محمد عثیمین ؒ نے صیح مسلم میں وارد مشہور ومعروف جساسہ والی حدیث کے الفاظ ومفہوم پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
غرضیکہ انسان اور حرام جانوروں کی طرح حلال جانوروں کا پیشاب بھی ناپاک ہے اور صحیح بخاری میں وارد اونٹ کے پیشاب سے علاج والا واقعہ خصوصی واستثنائی ہے نیز اس حدیث میں کچھ شک وشبہات بھی ہیں کیونکہ اس سے قبل والی حدیث میں اسی واقعہ پر صرف اونٹ کے دودھ سے علاج مذکور ہے اور اس میں دور دور تک کہیں بھی اونٹ کے پیشاب کا ذکر نہیں ہے، نیز اس حدیث میں مثلہ کا بھی ذکر ہے جو بعد میں ناجائز ہوگیا۔ لہذا ہم اونٹ کے پیشاب سے علاج اسی صورت میں کرائیں جب بیماری کا دنیا میں کوئی علاج نہ ہو اور زندگی خطرہ میں ہو۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی



Saturday, August 27, 2016

KYA HADIS TEESRI SADI ME GHADI GAYI? ( URDU )




مستشرقین و مخالفین اسلام دو سو سال سے حدیث کے متعلق یہ الزام دوہراتے آرہے ہیں کہ حدیث کی کتابت پہلی صدی ہجری میں بالکل نہیں ہوئی بلکہ یہ احادیث تیسری صدی ہجری میں گھڑی گئی ہیں ، انکے اس الزام کو ہندوستانی منکرین حدیث نے بھی اپنے انداز میں پیش کیا اور اس بنیاد پر ایران و عجم کے افسانے گھڑے گئے۔ انکا علمائے اسلام نے مختلف حوالوں سے معقول جواب دیا لیکن انہوں نے اس اعتراض کو دوہرانا بند نا کیا ۔ اس اعتراض کے جواب یعنی پہلی ہجری میں کتابت حدیث کے ثبوت میں حجت اتمام صحیفہ ابن ہمام کے ذریعے ہوئی ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کے ایک شاگرد ہمام بن منبہ تھے ۔ وہ بھی آپ کی طرح یمن کے رہنے والے تھے۔ ہمام بن منبہ رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے کچھ احادیث سن کے انہیں ایک صحیفہ میں جمع کیا تھا ۔ یہ اصلا حضرت ابوہریرہ کی تالیف تھی ، مگر کتابت کیوجہ سے کاتب کیطرف منسوب ہوئی اور صحیفہ ہمام ابن منبہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت ابو ہریرہ کی وفات 58ھ ہوئی ، ظاہر ہے کہ یہ صحیفہ اس سے بھی پہلے لکھا گیا ۔
مشہور محقق ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ نے سن 1933 عیسوی میں اس صحیفے کاایک قلمی نسخہ برلن کی ایک لائیبریری سے اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا ۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔
اس صحیفے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں بھی بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح ان قلمی نسخوں میں ہے ،امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ) کا سن 240 ھجری ہے اس طر ح صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے ۔ لیکن ان دونوں میں کوئی واضح فرق موجود نہیں ۔ ان دونوں میں کمال یکسانیت کا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا ، اسی طرح اس کی احادیث بخاری میں بھی موجود ہیں اور انکے باہم بھی کوئی فرق نہیں۔
یہ احادیث امام احمد اور بخاری تک کیسے پہنچیں اسکی مختصر تفصیل یوں ہے ۔ہمام بن منبہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد سے حدیثوں کا جو مجموعہ حاصل کیا تھا اسے اپنے شاگردوں تک پہنچایا۔ انکا درس بہتوں نے لیا لیکن انکے شاگردوں میں معمر بن راشد یمنی مشہور ہیں ، جنہوں نے بغیر حذف و اضافہ اس رسالے کو اپنے شاگردوں تک پہنچایا،معمر رحمہ اللہ کو بھی ایک ممتاز اہل علم بطور شاگرد ملے، یہ عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری ہیں یہ بھی یمن سے تھے ، یہ بہت بڑے مؤلف گزرے ہیں انہوں نے المصنف نامی ایک ضخیم تالیف علم حدیث پر چھوڑی ۔ عہد نبوی ﷺ و عہد صحابہ کی تاریخ سمجھنے میں اس کتاب سے بڑی مدد ملتی ہے۔ مصنف عبدالرزاق کے مخطوطے استنبول اور یمن میں کامل اور حیدرآباد دکن، ٹونک اور حیدرآباد سند وغیرہ میں ناقص موجود تھے ، جو اب "مصنف عبدالرزاق "کے نام سے کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں ۔
امام عبد الرزاق کو دو بڑے ہی اچھے شاگرد ملے، ایک امام احمد حنبل بغداد 164ھ اور دوسرے ابوالحسن احمد بن یوسف السلمی رحمۃ اللہ علیہ۔ ان دونوں نے ہمارے صحیفے کی خاص خدمت کی حضرت امام احمد بن حنبل نے عبدالرزاق کی تمام احادیث بھی لیں اور باقی اساتذہ کی بھی جمع کرلیں..اور صحیفہ ہمام کی ان تمام روایات کو اپنی کتاب "مسندِ احمد "میں " باب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک خاص فصل میں بلا حذف و اضافہ ضم کردیا۔..(دیکھئے مسند ابن حنبل طبع اول جلد دوم ص 312 تا ص 319) ۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ( 194ھ تا 256ھ ) اور امام مسلم (204ھ تا 261ھ) امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ یوں اس صحیفہ کی احادیث ان تک بھی پہنچ گئیں۔ امام بخاری نے چونکہ موضوع وار حدیثیں مرتب کیں اس لیے صحیفہ ہمام کی احادیث انکی کتابوں کے مختلف ابواب میں منتشر ملتی ہیں ۔
امام عبدالرزاق کے دوسرے شاگرد ابوالحسن احمد بن یوسف السلمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس صحیفے کی مستقل روایت کا سلسلہ جاری رکھا اور ان کو اور ان کے شاگردوں کو نسلاً بعد نسل ایسے شاگرد رشید ملتے گئے۔ جنہوں نے اس قابل قدر یادگار کو آلائش سے پاک اور حفاظت سے رکھا۔ چند نسلوں بعد عبدالوہاب ابن مندہ اصفہانی کا زمانہ آیا تو ان کے دو شاگردوں نے اس رسالے کی حفاظت کا اپنی اپنی جگہ سامان کیا۔ ایک تو ابو الفرج مسعود بن الحسن الثقفی جن کے سلسلے میں محمد بن حنبل اور اسماعیل بن جماعۃ جیسے ممتاز مشاہیر کےنام ملتے ہیں اور کم از کم 852ھ تک باقاعدہ درس اور روایت کی اجازت دینے کا سلسلہ جاری رہا، دوسے ان عبدالوہاب ابن مندہ کے دوسرے شاگرد محمد بن احمد اصفہانی ہیں، جن کے شاگرد ایک خراسانی عالم محمد بن عبدالرحمن بن محمد بن مسعود المسعودی البند ہی نے صلیبی جنگوں کے زمانے میں 577ھ میں مدرسہ ناصریہ صلاحیہ میں (جو سلطان صلاح الدین نے دمیاط یعنی مصر میں قائم کیا تھا ) اس کا درس دیا۔) (ان کے حالات کیلئے دیکھیں ارشاد یاقوت 7/20 بغیہ سیوطی ص 66 برکلمان کی جرمن ( تاریخ ادبیات عربی ) ضمیمہ جلد اول ص 604 نیز ضمیمہ، جلد اول ص 437 وفیات ابن خلکان نمبر (631))) ۔ اتفاق سے یہی اصل نسخہ محفوظ ہے اور 670ھ یعنی تقریباً پوری ایک صدی تک اسی نسخے پر نسلاً بعد نسل علماء نے اپنے درس کا مدار رکھا اور اس میں اپنی درس دہی اور حاضر الوقت طلبہ کے نام وغیرہ درج کرکے دستخط کئے اس سماع سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ بن ہی جو المک الافضل بن سلطان صلاح الدین کے استاد تھے، ان کے درس میں دمیاط کا فوجی گورنر تینیس اور دمیاط کے متعدد اساتذہ و فضلاء بھی حاضر تھے ۔
زیر اشاعت صحیفے کے مخطوطہ دمشق کی سند یہ ہے: محمد بن عبدالرحمن پنچد ہی ، از محمد بن احمد اصفہانی، از عبدالوہاب بن محمد ابن مندہ، از والد خود محمد بن اسحاق ابن مندہ، از محمد بن الحسین القطان، از حمد بن یوسف السلمی، از عبدالرزاق بن ہمام بن نافع، از معمر ، از ہمام بن منبہ، از ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ از رسول اللہ ﷺ ۔ یہ سب پونے چھ سو سال کی سرگذشت ہے۔
اس ساری تفصیل سےواضح ہے کہ بعد کی صدیوں کے محدثین نے صحیفہ ہمام کے دیانت دارانہ تحفظ میں کوئی کوتاہی نہ کی۔ اس سے جہاں صحیفہ ہمام کے نو دستیاب شدہ مخطوطے کی صحت کی توثیق ہوئی ہے وہیں خود اس مخطوطے سے مسند بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے قابل اعتماد ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کی وفات کے بعد ساڑھے گیارہ سو سال بعد ان کی علمی دیانت داری کی جانچ ہوگی۔ اگر انہوں نے صحیفہ ہمام کی حد تک جعل سازی نہیں کی تو اپنی مسند کے باقی اجزاء میں بھی عمداً کوئی ایسی بددیانتی نہیں کی ہوگی۔
ہمام بن منبہ کی وفات 101ھ میں ہوئی۔ انہوں نے یہ 58 ہجری (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا ) سے پہلے ہی حاصل کیا ہوگا۔اس پر اب تک اس مجموعے کی عبارت نہیں بدلی بلکہ بجنسہ باقی رہی تو رسول اکرم ﷺ سے سننے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اس کو لکھ لینے کی مختصر مدت میں اس میں تبدیل و تحریف کا امکان کیا ہوگا۔خاص کر اس لیئے کہ یہی حدیثیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم سے بھی مروی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا سلسلہ اسناد مختلف رہا ہے۔ بعض حدیثوں کی تو کئی کئی صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے روایت کی ہے، وہ باہم ایک دوسرے کی توثیق کرتی ہیں۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب کسی خفیف سے خفیف جعل سازی کا علمی بددیانتی کا گمان تک نہیں رہتا اور یہ بھی کھل کے سامنے آجاتا ہے کہ یہ حدیثیں بخاری ،مسلم اور صحاح ستہ کے دیر مؤلفوں نے تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں اپنے دل سے نہیں گھڑیں بلکہ عصر اول سے بحفاظت چلی آنے والی چیزوں ہی کو اپنی تالیفوں میں داخل کیا۔ یہ صورت حال کتب حدیث پر ہمارا اعتماد مستحکم کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
مخطوطوں کی کیفیت:
مخطوطہ برلن:
مخطوطہ برلین کا نمبر وہاں کی فہرست مخطوطات عربی میں (1797, 1384 we) ہے۔ یہ ذخیرہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک برلین کے سرکاری کتب خانے میں تھا۔ دوران جنگ میں حفاظت کے لیئے یہ شہر تیوبنگن بھیجا گیا اور آج تک (1954، 1373ھ) وہ وہیں ہے وہاں صحیفہ ہمام ایک مجموعہ رسائل میں ہے جن میں وہ ورق نمبر (54) سے شروع ہوکر نمبر (61) تک یعنی آٹھ ورقوں میں ہے۔ بیچ میں دوجگہ ایک ایک ورق گم ہوگیا ہے۔ اس کا حجم (17.5x12.5) سنٹی میٹر ہے، اور ہر صفحے میں (19) سطریں آئی ہیں۔ اور اس میں ہر حدیث " وقال" ( اور انہنوں نے کہا ) کے الفاظ سرخ روشنائی سے لکھے گئے ہیں ۔یہ نسخہ 12 صدی ہجری کے ابتدائی زمانے کا ہے۔
مخطوطہ دمشق:
دمشق کا مخطوطہ اپنے ہمشیر مخطوطے پر ایسی ہی فوقیت رکھتا ہے جیسے کہ سورج کا نور چاند کی مستعار روشنی پر، اور وہ وہاں کتب خانہ ظاہر یہ میں محفوظ ہے۔دمشق کا یہ مخطوطہ بھی کئی رسالوں کے مجموعہ کے ضمن میں ہے لیکن یہ امتیاز رکھتا ہے کہ مکمل ہے اور کتابت کی تاریخ کے لحاظ سے بھی برلین کےمخطوطے سے بھی زیادہ قدیم ہے چنانچہ چھٹی صدی ہجری کا لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح یہی وہ اصل نسخہ بھی ہے جو درس اور سماعت میں استعمال ہوتا رہا اور متعدد مرتبہ اس پر اجازت ثبت ہوئی ہے۔ ابن عساکر مصنف " تاریخ دمشق " ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے اسی مخطوطے پر درس دیا ، وہ خوش خط ہے البتہ لکھنے والے نے اکثر جگہ حرفوں پر نقطے نہیں دیئے ہیں۔ ہر صفحہ میں 21 یا 22 یا 23 سطریں ہیں۔ میرے پیش نظر فوٹو کا حجم جرمنی کی کتاب کے حجم کے برابر ہی ہے۔ یہ نسخہ صلیبی جنگوں کے زمانہ میں دمیاط ( مصر ) کے ایک نسخے سے نقل کیا گیا ہے۔ ان لڑائیوں اور فتنوں کے زمانہ میں محدثین کے پاس اسلامی درس کے جو عادات اور آداب تھے ، ہم ان کو اس کی سماعتوں میں دیکھتے ہیں یہاں ان کی تفصیل کی حاجت نہیں۔
صحیفہ ابن ہمام ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کے تحقیقی کام کے ساتھ حیدرآباد دکن سے سنہ ۱۹۵۵ھ میں شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کی تمہید میں ڈاکٹر صاحب نے حدیث نبوی کی تدوین وحفاظت پر ایک مقالہ پیش کیا ہے جو اس موضوع پر انتہائی جامع ، معقول اور مدلل دلائل پر مشتمل تحقیق ہے ۔ ہمارے کچھ وولنٹیرز اسکو ٹائپ کررہے ہیں اسے جلد سائیٹ پر یونیکوڈ اردو میں بھی پوسٹ کیا جائے گا۔ انشاء اللہ
ڈاؤنلوڈ لنک :



KYA HADIS SADIYO BAAD LIKHI GAYI?





ایک بات جس کو مغربی مستشرقین بار ہا بیان کرتے رہتے ہیں اور ہمارے ہاں بہت سے لوگ اس فضول اور غیر علمی بات کو بغیر سوچے سمجھے دہراتے رہتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ احادیث چوتھی صدی ہجری میں مرتب ہوئیں۔ مغربی مصنفین میں سے بعض کا کہنا ہے کہ جس طرح ہر قوم میں کچھ افسانے اور داستانیں مشہور ہوتی ہیں مسلمانوں میں بھی مشہور تھیں۔ محدثین نے ان مشہور قصوں اور کہانیوں کو سنا اور علم حدیث کے نام سے جمع کر دیا۔ یہ محدثین کی کاوشوں کے بارے میں بہت سے مغربی مستشرقین نے لکھا ہے۔ کچھ لوگ دنیائے اسلام میں بھی اس بات کو دہراتے ہیں۔
اس پر پچھلے سو سالوں کے دوران اتنی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ غور ہوا ہے کہ تدوین حدیث کے ایک ایک پہلو پر لوگوں نے درجنوں کتابیں تیار کی ہیں۔ اس خدمت میں بھی ایک بار پھر برصغیر کے ایل علم نے سب سے پہلے یہ ثابت کیا کہ علم حدیث کی سنداور ثقاہت کن بنیادوں پر قائم ہے۔ ہمارے برصغیر کے مشہور محقق اور عالم مولانا مناظر حسن گیلانی نے سب سے پہلے تدوین حدیث پر ایک ضحیم کتاب لکھی تھی۔ اس میں انہوں نے وہ بنیادیں وضع کیں جن پر آئندہ پچاس سالوں میں کم و پیش ایک درجن محققین نے وقیع کام کیا اور اس بے بنیاد اور جاہلانہ دعوٰی کے تاروپود بکھیر دئیے۔ ان حضرات نے علم حدیث کی تاریخ پر غور کیا اور تحقیق کر کے یہ ثابت کیا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ہی حدیث کی تدوین کا کام خاصا آگے بڑھ چکا تھا۔
صحابہ کرام کے دست مبارک سے تحریر کردہ احادیث کے کم از کم اڑتالیس مجموعوں کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ تابعین نے جو مجموعے مرتب کئے ان میں سے جن مجموعوں کی قدیم ماخذ میں نشاندہی ہوتی ہے، کتب حدیث اور سیرت میں ، ان کی تعداد ڈھائی سو ہے ۔ ڈاکٹر محمد حمیداللہ مرحوم نے تابعین کے مرتب کئے ہوئے سات مجموعوں کو ایک کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے، ان کو ایڈٹ کیا ہے، ان کا انگریزی ترجمہ کیا، انگریزی میں مقدمہ لکھا ہے اور وہ کتاب "کتاب السردوالفرد" کے نام سے اسلام آباد میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے صحابی رسول حضرت ابو ہریرہؓ کا مرتب کیا ہوا ایک مجموعہ ان کے شاگرد ہمام بن منبہ نے مرتب کیا تھا۔ وہ نسخہ دریافت ہوا۔ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اس کو ایڈٹ کیا۔ انگریزی، اردو، فرانسیسی، جرمن اور دیگر کئی زبانوں میں ترجمے ہوئے۔ وہ نسخہ بھی آج مطبوعہ موجود ہے۔
ترکی کے ایک انتہائی بالغ نظر اور دور جدید کے صف اول کے محققین میں سے ایک محقق ڈاکٹر فواد سیزگن ہیں، جو جرمنی میں رہتے ہیں، اور جرمن زبان میں انہوں نے اسلامی موضوعات پر انتہائی عالمانہ کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے صحیح بخاری کے مصادر وماخذ پر ایک کتاب لکھی تھی اور صحیح بخاری کے ماخذ کے بارے میں انہوں نے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا تھا اور جس کا کوئی جواب کسی مغربی مستشرق کے پاس نہیں تھا کہ صحیح بخاری میں جو کچھ مواد شامل ہے وہ نہ صرف سارے کا سارا مستند ترین زبانی روایت کے ساتھ امام بخاری تک پہنچا بلکہ اس میں ہر روایت کے پیچھے مسلسل تحریری ذخائر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق صنعانی امام بخاری کے روات میں شامل تھے۔ وہ امام بخاری کے اساتذہ کے استادتھے۔ امام بخاری نے بہت سی روایت عبدالرزاق سے لیں۔ عبدالرزاق کی اپنی کتاب موجود تھی جو اس وقت تک نہیں چھپی تھی اور اب چھپ گئی ہے۔ وہ ساری احادیث جو امام بخاری نے عبدالرزاق کے توسط سے لی ہیں وہ جوں کی توں مصنف عبدالرزاق میں موجود ہیں۔ عبدالرزاق کے استاد تھےمعمربن راشدازدی' ان کی کتاب جامع اُس وقت نہیں چھپی تھی اب چھپ گئی ہے۔ اس میں وہ تمام احادیث جو عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے لی ہیں وہ سب جوں کی توں موجود ہیں۔ معمر کے سامنے جو ذخائر موجود تھے ان میں سے بعض چھپ گئے ہیں جن میں وہ احادیث موجود ہیں۔ گویا ایک ایک مرحلے پر زبانی روایتیں درجنوں اساتذہ، تابعین اور تبع تابعین کی موجود تھیں۔ اور ان میں سے ہرروایت کے پیچھے ہر محدث کے پاس تحریری ذخائر اور تحریری سند بھی موجود تھی۔
خود رسول ﷺ کی حیات مبارکہ میں کئی صحابہ کرام تھے جو حضور کی اجازت سے احادیث لکھنے کا کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمرہ بن العاص ہیں۔ ان کا مزار مبارک مصر میں ہے۔ وہ فاتح مصر حضرت عمروبن العاص کے بیٹے ہیں۔ یہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے اور والد محترم سے پہلے اسلام قبول کر چکے تھے۔ حضور کی زبان مبارک سے نکلنے والا ہر لفظ لکھا کرتے تھے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو، حضور کبھی مزاح کی کیفیت میں ہوں گے، کبھی غصے میں ہو گے، اس لئے ہر چیز لکھنا شاید درست نہ ہو۔ انہوں نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ بعض لوگ ایسا کہتے ہیں۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ جو سنو وہ لکھ لو، کیونکہ میری اس زبان سے حق کے علافہ کوئی چیز نہیں نکلتی۔ چنانچہ وہ حضور علیہ السلام کے ارشادات کو آپ ہی مجلس میں سن سن کر لکھا کرتے تھے۔ ان کا مرتب کیا ہوا مجموعہ محفوظ ہےاور علم حدیث کے طلبہ اس سے خوب مانوس ہیں۔ طلبہ حدیث نے بعض احادیث کی سند پڑھی ہوگی' عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عن النبیﷺ' یہ وہی مجموعہ ہے جو حضرت عبداللہ بن عمرہ کا مرتب کیا ہوا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ کی احادیث عمرو بن شعیب اپنے والدسے اور اپنے پردادا سے روایت کرتے ہیں۔ ان کے پردادا سے مراد عبداللہ بن عمرہ بن العاصؓ ہیں۔ یہ پورے کا پورا مجموعہ امام احمد کی مسند میں موجود ہے ااور اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ مجموعہ، یعنی "الصحیفہ الصادقہ" یوں تو احادیث کے بہت سے موضوعات پر مشتمل ہے۔لیکن اس میں خالص سیرت نبوی سے متعلق بھی اہم مواد موجود ہے۔ چنانچہ دستورمدنیہ، غزوات نبوی، فتح مکہ اور حجتہ الودع جیسے اہم وقائع سیر ت کے بارہ میں اس مجموعہ میں معلومات ملتی ہیں۔
جب رسول اللہﷺدنیا سے تشریف لے گئے اور صحابہ کرام کا زمانہ آیا تو قرآن پاک تو مدون ہو گیا۔ احادیث کی تدوین کا کام بھی شروع ہو گیا۔ صحابہ کرام میں سے سینکڑوں حضرات نے اپنی زندگیاں اس کا م کے لئے وقف کر دیں کہ حضور سے جو رہنمائی ملی ہے اس کو عوام والناس تک پہنچایا جائے۔ صحابہ کرام میں سے ہر ایک کے حلقے میں سینکڑوں اور ہزاروں تابعین کا اجتماع ہوا کرتا تھا۔ وہ ان سے ہدایات اور رہنمائی لیا کرتے تھے۔ اس طرح سے علم حدیث کے سارے ذخائر تابعین تک منتقل ہونا شروع ہو گئے۔ جو صحابہ کرام علم حدیث کے ذخائر تابعین تک پہنچا رہے تھے وہ خود بھی درس و تدریس کا مشغلہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ ان میں سے کئی صحابہ کرام ایسے تھے جنہوں نے عام مضامین حدیث کی بجائے خاص اہتمام اور دلچسپی کے ساتھ سیرت کے موضوعات پر توجہ دی اور سیرت ک موضوعات کے درس و تدریس کا مشغلہ اپنایا۔
حضرت براء بن عازب مشہور انصاری صحابی ہیں۔ ان کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ صرف مغازی اور سیرت کے بارے میں املا کرایا کرتے تھے۔ ان کے شاگرد ابواسحاق السبیعی ہیں۔ انہوں نے ان سے روایات لیں اور ان کے سارے مجموعے کو مرتب کیا۔ حضرت براء بن عازب اپنا ذخیرہ معلومات املا کرایا کرتے تھے۔ ان کے بہت سے طلبہ ان کے مجموعہ احادیث وسیرت کے واقعات کو لکھتے تھے۔ ان شاگردوں میں اسحاق بھی شامل تھے۔ اس طرح سے حضرت براء بن عازب کے پاس علم سیرت کے جو کچھ ذخائر تھے وہ ان کے شاگردابواسحاق کے پاس آگئے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری میں مغازی اور سیرت کے بارے میں درجنوں روایات ایسی ہیں جو براء بن عازب اور اسحاق کی روایت سے منقول ہیں۔ گویا براء بن عازب نے جو روایات بیان کی تھیں اور جو ابو اسحاق تک پہنچی تھیں وہ درجہ بدرجہ امام بخاری تک پہنچ گئیں ۔ اور امام بخاری نے ان کو اپنی کتاب میں محفوظ کر لیا۔
جو مستشرقین اور انکے مشرقی عقیدت مند کہتے ہیں کہ علم حدیث کا سارا ذخیرہ چوتھی صدی ہجری میں لکھا گیا ان کی غلط فہمیوں کی ایک وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ احادیث کے جو بڑے بڑے مجموعے امت میں مقبول ہوئے وہ زیادہ تر تیسری اور کچھ چوتھی صدی ہجری کے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں یا شاید بھلا دیتے ہیں کہ زیادہ مکمل اور زیادہ بہتر کام جلدی مقبول ہو جاتا ہے اور کم درجہ کے یا ابتدائی مرحلہ کے کام سے لوگوں کو مستغنی کر دیتا ہے۔
تیسری اور چوتھی صدی ہجری تک وہ سارا مواد ایک ایک کر کے سامنے آگیا تھا جو پہلی اور دوسری صدی میں مدوّن ہوا تھا۔ حضرت براء بن عازب کا مجموعہ تو ظاہر ہے کہ دو چار سو روایات پر مشتمل ہو گا۔ ان واقعات پر مبنی ہوگا جو انہوں نے خود دیکھے۔ لیکن بعد میں آنے والے تابعین نے حضرت براء کی معلومات بھی لیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ سے آنے والی معلومات بھی لیں۔ بقیہ صحابہ سے بھی معلومات لیں اور ان کو یکجا کر دیا۔ تو ایک تابعی کے پاس ایک صحابی کی بجائے دس صحابہ کے مجموعے آ گئے۔ تبع تابعی کے پاس بیس صحابہ کے مجموعے آ گئے۔ تبع تابعین کے بعد جو لوگ آئے ان کے پاس اور زیادہ معلومات جمع ہو گئیں۔ یوں جب امام بخاری اور ان کے معاصرین کا زمانہ آیا تو یہ استیعاب اور استقصاء کا زمانہ تھا۔ استیعاب اور استقصاء کی وجہ سے حدیث کے زیادہ بہتر زیادہ جامع اور زیادہ مکمل مجموعے سامنے آ گئے۔ ان مجموعوں نے لوگوں کو بقیہ مجموعوں سے مستغنی کر دیا۔ یوں بقیہ مجموعوں کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ یعنی اگ کسی کے پاس صحیح بخاری موجود ہو تو اس کو یہ بیس بیس تیس تیس احادیث کے چھوٹے چھوٹے مجموعے رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
چھوٹے مجموعوں کی تاریخ اہمیت تو اپنی جگہ برقرار رہی۔ لیکن عام درسی اور تصنیفی ضروریات کے لئے بڑے مجموعوں نے لوگوں کو چھوٹے مجموعوں سے مستغنی کر دیا۔ جس طرح آج ہر جگہ حدیث کی بڑی بڑی کتابیں موجود ہیں۔ لیکن سو بچاس سال بعد شاید ان کی ضرورت نہیں ہو گی۔ کیونکہ ایک سی ڈی پر کئی کئی کتابیں دستیاب ہوں گی۔ ا ب آگے چل کر اگر کوئی کہے کہ جناب سی ڈی پر احادیث کی کتابیں تو بیسویں صدی میں مرتب ہوئی ہیں لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ یہ بات غلط ہو گی کیونکہ اکیسیویں صدی کی سی ڈیوں پر جو کچھ فراہم ہوگا پچھلی صدیوں میں ہونے والے کام کی بنیاد پر ہی ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ امام بخاری، امام ترمذی اور امام مسلم یہ حضرات جو مجموعے مرتب کر رہے تھے یہ انہی تحریری اور زبانی ذخائر کی بنیاد پر مرتب کر رہے تھے جو ان تک پہنچے تھے۔
(محاضرات قرآنی ، ڈاکٹر محمود احمد غازی)