Monday, December 26, 2016

waswasa : chand ayaat se istedlaal ke sirf QURAN hi ki payervi ka hukm hai




اعتراض : جب قرآن میں حکم ہے کہ " اتبعوا ما انزل اللہ الیکم من ربکم ولا تتبعو ا من دونہ اولیاء ( ۳ : ۷ ) صرف اس چیز کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ اور اس کے علاوہ کسی ولی کا اتباع مت کرو۔پھر کسی اور کی پیرو کیوں ؟
جواب :
 
یہ بات درست ہے کہ قرآن مجید میں جہاں "نازل کرنے" کے ساتھ "کتاب" یا "ذکر" یا "فرقان" وغیرہ کی تصریح کی گئی ہے۔ صرف اسی جگہ ما انزل اللہ سے مراد قرآن ہے۔ لیکن کیا صرف اللہ نے کتاب ہی نازل فرمائی ؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ:
و انزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ و علّمک ما لم تکن تعلم (آیت: ۱۱۳۳)"اور اللہ نے تیرے اوپر نازل کی کتاب اور حکمت اور تجھے سکھایا وہ کچھ جو تو نہ جانتا تھا"
واذکروا نعمۃ اللہ علیکم و ما انزل علیکم من الکتاب والحکمۃ یعظکم بہ (آیت:۲۳۱۱) " اور یاد رکھو اپنے اوپر اللہ کے احسان کو اور اس کتاب اور حکمت کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے۔ اللہ تمہیں اس کا پاس رکھنے کی نصیحت فرماتا ہے"
 
اسی بات کو سورۂ احزاب میں دہرایا گیا ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر کی خواتین کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ:واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من ایٰت اللہ والحکمۃ (آیت:۳۴) 
 
اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر کتاب کے علاوہ ایک چیز "حکمت" بھی نازل کی گئی تھی جس کی تعلیم آپ لوگوں کو دیتے تھے۔ اس کا مطلب آخر اس کے سوا کیا ہے کہ جس دانائی کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم قرآن مجید کی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کرتے اور قیادت و رہنمائی کے فرائض انجام دیتے تھے، وہ محض آپ کی آزادانہ ذاتی قوتِ فیصلہ (Private Judgment) نہ تھی بلکہ یہ چیز بھی اللہ نے آپ پر نازل کی تھی۔ نیز یہ کوئی ایسی چیز تھی جسے آپ خود ہی استعمال نہ کرتے تھے بلکہ لوگوں کو سکھاتے بھی تھے (یعلمکم الکتاب و الحکمۃ)۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سکھانے کا عمل یا تو قول کی صورت میں ہو سکتا تھا یا فعل کی صورت میں۔ اس لیے امت کو آنحضرتؐ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وہ دو چیزیں ملی تھیں۔ ایک کتاب۔ دوسری حکمت، حضورؐ کے اقوال میں بھی اور افعال کی صورت میں بھی۔
 
ان تصریحات کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن جب ہمیں دوسری سب چیزوں کو چھوڑ کر صرف ما انزل اللہ کی پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے مراد محض قرآن ہی کی پیروی نہیں ہوتی بلکہ اس حکمت اور نور اور اس میزان کی پیروی بھی ہوتی ہے جو قرآن کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کی گئی تھی اور جس کا ظہور لا محالہ حضورؐ کی سیرت و کردار اور حضورؐ کے اقوال و افعال ہی میں ہو سکتا تھا۔ اسی لیے قرآن کہیں یہ کہتا ہے کہ ما انزل اللہ کی پیروی کرو (مثلاً آیت ۳۰۷ میں) اور کہیں یہ ہدایت کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرو (مثلاً آیات ۳۱:۳۔ ۳۳، ۲۱ اور ۱۵۶:۷ میں)۔ اگر یہ دو مختلف چیزیں ہوتیں تو ظاہر ہے کہ قرآن کی ہدایات متضاد ہو جاتیں۔

اعتراض:"
ان تمام اعمال میں جو حضورﷺ نے ۲۳ سالہ پیغمبرانہ میں کیے وہ اسی ما انزل اللہ کا جو کتاب اللہ میں موجود ہے ، اتباع کرتے تھے اور امت کو بھی یہی حکم ملا کہ اسی کا اتباع کرے۔ جہاں اتبعوا ما انزل اللہ الیک من ربکم ( ۳ : ۷ ) وہاں یہ بھی اعلان ہوا کہ حضورﷺ بھی اسی کا اتباع کرتے ہیں۔ قل ان اتبع ما یو حٰی الی من ربی ( ۷ : ۲۳) ۔ نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بنا پر کتاب اللہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں"۔

تبصرہ:
 
آپ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صرف وہی وحی آتی تھی جو قرآن میں موجود ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف اسی کی پیروی کا حکم تھا۔ حالانکہ خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے احکام نازل ہوتے تھے ۔تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری تحریر" کیا حضور ﷺ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟ پھر 'قل ان اتبع ما یوحی الی 'بذات خود حدیث کے الہامی ہونے کی دلیل ہے ، یہ واضح کرتی ہے کہ حضور ﷺ کی ہر بات وحی کے تابع ہوتی تھی ۔ 
 
دوسری بات آپ یہ فرماتے ہیں کہ امت کو صرف قرآن کی پیروی کا حکم ہے حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ امت کو رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کا حکم بھی ہے:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران:311)"اے نبی کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا (آل عمران:31)"۔
 
ورحمتی وسعت کل شئ فساکتبھاللذین یتقون ویؤتون الزکوٰۃ والذین ہم باٰیتنا یؤمنون الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجودنہ مکتوباً عندھم فی التوراۃ االانجیل (الاعراف : 156-157) "میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اس رحمت کو میں ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو تقویٰ کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو پیروی کرتے ہیں اس رسولِ نبیِ اُمی کی جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (الاعراف:156-157)"۔
 
ان آیات میں رسول کی پیروی کرنے کے حکم کو تاویل کے خراد پر چڑھا کر یہ معنی نہیں پہنائے جا سکتے کہ اس سے مراد دراصل قرآن کی پیروی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، اگر واقعی مقصود یہی ہوتا کہ لوگ رسول کی نہیں بلکہ قرآن کی پیروی کریں تو آخر کیا وجہ ہے کہ آیت نمبر 1 میں اللہ تعالیٰ نے فاتبعوا کتاب اللہ کہنے کے بجائے فاتبعونی کے الفاظ استعمال فرمائے؟ کیا آپ کی رائے میں یہاں اللہ میاں سے چوک ہو گئی ہے؟پھر آیت نمبر2میں تو اس تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس میں آیات خداوندی پر ایمان لانے کا ذکر الگ ہے اور نبی امی صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع کا ذکر الگ۔
 
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے فرائض رسالت کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ اللہ کی کتاب پہچانے والے ہیں۔ اس کتاب کی تشریح و توضیع کرنے والے ہیں، اس کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھانے والے ہیں، افراد اور جماعت کا تزکیہ کرنے والے ہیں، مسلمانوں کے لیے نمونۂ تقلید ہیں، وہ رہنما ہیں جس کی پیروی خدا کے حکم سے واجب ہے، امر و نہی اور تحلیل و تحریم کے اختیارات رکھنے والے شارع (Law Giver) ہیں، قاضی ہیں اور حاکم مطاع ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تمام مناصب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول ہونے کی حیثیت سے حاصل تھے اور منصب رسالت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مامور ہونے کا مطلب ہی یہ تھا کہ آپ ان مناصب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے۔ اس باب میں قرآن کے واضح ارشادات میں پہلے نقل کر چکا ہوں جنہیں دہرانے کی حاجت نہیں۔
کیا کتاب اللہ کا قانون نامکمل تھا؟
 
یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰ جس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر یا ایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طے کر کے اپنے ماتحت کسی شخص یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے اختیارات تفویض کر دے تو اس کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط قانون سے الگ کوئی جز نہیں ہوتے بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتا ہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد بنا کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ مقرر کر دیا جاۓ، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کی مطابق مفصل قوانین بنائے جائیں اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میں واضح کر دیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص یا اشخاص یا اداروں کو قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانون کے ساتھ مل کر اس کی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانون ساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا اور کسی دوسرے نے آ کر اس کا نقص دور کیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اور تفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوۓ ایک شخص یا ادارے کے ذریعے سے مرتب کرا دیا۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی کام کی نوعیت:
 
اللہ تعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجمل احکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کر کے، یا اپنی پسندو ناپسند کا اظہار کر کے یہ کام اپنے رسول ﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کی تفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملاً اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھا دیں۔ یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجود ہے۔
 "
اور (اے نبی) ہم نے یہ ذکر تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔(النمل:44)
 
اس صریح فرمانِ تفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قولی اور عملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کے قانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂ تفویض جو چیلنج کرنے کے ہیں۔یہ اگرچہ آپ کے نکتے کا پورا جواب ہے، لیکن میں مزید تفہیم کی خاطر چند مثالیں دیتا ہوں جن سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و بیان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہے۔
11.
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ واللہ یحب المطھرین (التوبہ:10) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وثیابک فطھر (المدثر:4) حضور ﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم و لباس کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور ان پر خود عمل کر کے بتایا۔
22.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر تم کو جنابت لاحق ہو گئی تو پاک ہوۓ بغیر نماز نہ پڑھو (النساء:43، المائدہ:6)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مراد ہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔
33.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولو، سر پر مسح کرو اور پاؤں دھوؤ، یا ان پر مسح کرو (المائدہ:6) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ ان پر بھی مسح کرنا چاہئیے۔ پاؤں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو ان کو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔ 
44.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالا تاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس سے مراد تاریکیِ شب کے مقابلہ میں سپید ۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔
55.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیاء کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کی تصریح کرنے کے بعد باقی اشیاء کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں (المائدہ:4) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنہیں ہم کھاسکتے ہیں اور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔
66.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو اور ایک لڑکی ہو تو وہ نصف ترکہ پائے گی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کا دو تہائی حصہ ملے گا (النساء:11)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دو لڑکیاں ہوں تو وہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔
7.
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء:233)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔
8.
قرآن مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لیں (النساء:33) یہ الفاظ اس معاملہ میں قطعاً واضح نہیں ہیں کہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشاء کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زائد بیویاں تھیں ان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔
99.
قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران:97)۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کر کے آدمی فریضۂ حج سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔
10.
قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت 344 کے الفاظ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں جنہوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کر دے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔
 
ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کر کے قرآن کے احکام و ہدایات اور اشارات و مضمرات کی کس طرح شرح و تفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چونکہ خود قرآن میں دئیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

payervi kis ki ? kitab allah ki ya rasul s.a.w ki ?




قرآن نے جگہ جگہ اطاعت ِ رسول كا حكم ديا ہے لیکن منكرين حديث رسول كى حيثيت ايك ڈاكیے سے زيادہ نہيں سمجهتے، حیثیت ِرسالت كو صرف 'پيغام پہنچا دينے' كى حد تك محدود جانتے ہيں ، حالانكہ تبليغ رسالت ايك الگ فريضہ ہے اور اطاعت رسول ايك الگ چيز ہے۔اطاعت رسول، منكرين حديث كے لئے بہت بڑى وجہ پريشانى ہےچنانچہ وہ اس كى تاويل يہ كرتے ہيں كہ اطاعت ِرسول كا معنى، اطاعت ِخداوندى ہى ہے جس كى عملى شكل كتاب اللہ كى پيروى ہے- ليكن يہ بات پهر ان كے لئے دردِ سر بن جاتى ہے كہ قرآنِ كريم ميں اتباعِ قرآن كا الگ ذكر ہے اور اطاعت ِرسول كا الگ حكم ہے اور اس پر مستزاد يہ كہ قرآنِ مجيد كو كہيں بهى اُسوئہ حسنہ نہيں كہا گيا، جبكہ رسول اللہ (كى زندگى) ميں اہل مسلمان كے لئے بہترين اُسوہ كا ذكر كيا گيا ہے ليكن منكرين حديث يہاں دليل كى بجائے، ضد اورہٹ دهرمى سے كام ليتے ہوئے باصرار يہ كهے چلے جاتے ہيں كہ رسول كى اطاعت، اصلاً اللہ ہى كى اطاعت ہے اور اللہ كى اطاعت كى عملى صورت صرف يہ ہے كہ كتاب اللہ كى پيروى كى جائے- يوں يہ لوگ اللہ كى اطاعت كى عملى صورت ميں ، اطاعت ِرسول كى اس كڑى كو خارج كرديتے ہيں جس كى وساطت سے كتاب اللہ ، اہل ايمان كوملى ہے-
 واقعاتى صورتِ حال يہ ہے كہ محمد رسول اللہﷺہمارے پاس پہلے آئے، ہم ان كى رسالت پر ايمان لائے، تب ان ہى كے كہنے پر (حديث رسول كى بنياد پر) ہم نے قرآن كو قرآن تسليم كيا ہے- اب يہ كس قدر عجيب بات ہے كہ محمد رسول اللہﷺ كى جس زبان پر اعتماد كرتے ہوئے ہم نے قرآن كو قرآن مانا ہے، اُسى زبان كوايمان بالقرآن كے فوراً بعد ہم نظر انداز كرديں اور خداے كائنات كى طرف سے مامور من اللہ نمائندہ ہونے كى حيثيت سے جو سركارى تشريح، زبان ترجمان وحى نے فرمائى ہے وہ يكسر مہمل اور بے معنى ہوكر رہ جائے۔
پرويز صاحب فرماتے ہيں :
 "اطاعت اور حكومت صرف خدا كى ہوسكتى ہے، كسى انسان كى نہيں - ليكن خدا تو ہمارے سامنے (محسوس شكل ميں ) نہيں ہوتا، ہم اس كے احكام كو براہ راست سن نہيں سكتے، اس لئے اس كى اطاعت كس طرح كى جائے؟ اس كے لئے اس نے خود ہى بتا ديا كہ يہ اطاعت اس كى كتاب كى مدد سے كى جائے، جسے اس نے نازل كيا ہے۔( طلوع اسلام ، اکتوبر 1956ء ،ص51)
 يہى منكرين حديث كى وہ اصل گمراہى ہے جس پر وہ ضد اور ہٹ دهرمى سے ڈٹے ہوئے ہيں - سوال يہ ہے كہ اللہ تعالىٰ نے قرآن ميں يہ بات كہاں فرمائى ہے كہ : "اس كى اطاعت، اس كتاب كى مدد سے كى جائے جسے اس نے نازل كيا ہے-" كيا قرآن نے كہيں بهى يہ كہا ہے كہ من يتبع القرآن فقد أطاع الله "جس نے كتاب اللہ كى پيروى كى ، اس نے اللہ كى اطاعت كى-"
آخر خود سوچئے كہ يہ خداوند قدوس اور اس كى كتاب پربہتان تراشى ہے يا مزاج شناسى اُلوہيت؟
رسول - مامور من اللہ شارحِ قرآن:
كتاب كے ساتھ الله تعالىٰ نے اپنے نبى كو بهيجا ہے تو اس كا مقصد كيا ہے؟ قرآن يہ بيان كرتا ہے كہ:
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ...﴿٤٤٤﴾...سورۃ النحل)"اور ہم نے (اے رسول!) تيرى طرف يہ ذكر نازل كيا، تاكہ تُو لوگوں كے لئے اُس چيز كى وضاحت كر دے جو ان كى طرف اُتارى گئى-"
 يہ آيت جس طرح ان منكرين نبوت كى حجت كے لئے قاطع تهى جوخدا كا 'ذكر' بشر كے ذريعہ سے آنے كو نہيں مانتے تهے، اسى طرح آج يہ ان منكرين حديث كى حجت كے لئے بهى قاطع ہے جو نبى كى توضيح و تشريح كے بغير صرف 'ذكر' كولے لينا چاہتے ہيں - وہ خواہ اس بات كے قائل ہوں كہ (1) نبى نے تشريح و توضيح كچھ بهى نہيں كى، صرف 'ذِكر' پيش كرديا تها (2)يا اس كے قائل ہوں كہ ماننے كے لائق صرف 'ذكر' ہے نہ كہ نبى كى تشريح (3) يا اس كے قائل ہوں كہ اب ہمارے لئے صرف 'ذِكر' كافى ہے، نبى كى تشريح كى كوئى ضرورت نہيں ۔(4)يا اس بات كے قائل ہوں كہ اب صرف 'ذِكر' ہى قابل اعتماد حالت ميں باقى رہ گيا ہے، نبى كى تشريح يا تو باقى ہى نہيں رہى يا باقى ہے بهى تو بهروسے كے لائق نہيں ہے- 
 غرض ان چاروں باتوں ميں سے وہ جس بات كے بهى قائل ہوں ، ان كا مسلك بہرحال قرآن كى اس آيت سے ٹكراتا ہے-
 اگر وہ پہلى بات كے قائل ہيں تو اس كے معنى يہ ہيں كہ نبى نے اس منشا ہى كو فوت كرديا جس كى خاطر ذكر كو فرشتوں كے ہاتھ بهيجنے يا براہ راست لوگوں تك پہنچا دينے كى بجائے اسے واسطہ تبليغ بتايا گيا تها-اگر وه دوسرى اور تيسرى بات كے قائل ہيں تو اس كا مطلب يہ ہے كہ اللہ مياں نے (معاذ الله) يہ فضول حركت كى كہ اپنا 'ذكر' ايك نبى كے ذريعہ بهيجا كيونكہ نبى كى آمد كا حاصل بهى وہى ہے جو نبى كے بغير صرف ذكر كے مطبوعہ شكل ميں نازل ہوجانے كا ہوسكتا تها۔اگر وہ چوتهى بات كے قائل ہيں تودراصل يہ قرآن اور نبوتِ محمدى دونوں كے نسخ كا اعلان ہے جس كے بعد اگر كوئى مسلك معقول باقى رہ جاتا ہے تو وہ ان لوگوں كا مسلك ہے جو ايك نئى نبوت اور نئى وحى كے قائل ہيں - اس لئے كہ اس آيت ميں اللہ تعالىٰ خود قرآنِ مجيد كے مقصد ِنزول كى تكميل كے لئے نبى كى تشريح كو ناگزير ٹھہرا رہا 
ہے اور نبى كى ضرورت ہى اس طرح ثابت كررہا ہے كہ وہ ذكر كے منشا كى توضيح كرے-

اب اگر منكرين حديث كا يہ قول صحيح ہے كہ نبى كى توضيح و تشريح دنيا ميں باقى نہيں رہى ہے تو اس كے دو نتيجے كهلے ہوئے ہيں :
پہلا يہ كہ نمونہٴ اتباع كى حيثيت سے، نبوتِ محمدى ختم ہوگئى اور ہمارا تعلق محمدﷺكے ساتھ صرف اس طرح كا رہ گيا جيسا ہود، صالح اور شعيب علیہم السلام كے ساتھ ہے كہ ہم ان كى تصديق كرتے ہيں ، ان پر ايمان لاتے ہيں ، مگر ان كا كوئى اسوہ ہمارے پاس نہيں ہے جس كا ہم اتباع كريں - يہ چيز ايك نئى نبوت كى ضرورت ، آپ سے آپ ثابت كرديتى ہے- صرف ايك بے وقوف آدمى ہى اس كے بعد ختم نبوت پراصرار كرسكتا ہے- 
 دوسرا نتيجہ يہ ہے كہ اكيلا قرآن نبى كى تشريح و تبیین كے بغير خود اپنے بهيجنے والے كے قول كے مطابق ہدايت كے لئے ناكافى ہے، اسلئے قرآن كے ماننے والے خواہ كتنے ہى زور سے چيخ چيخ كر اسے بجائے خود كافى قرار ديں ، مدعى سست كى حمايت ميں گواہانِ چست كى بات ہرگز نہيں چل سكتى اور ايك نئى كتاب كے نزول كى ضرورت آپ سے آپ، خود قرآن كى رُو سے ثابت ہوجاتى ہے- قاتلهم الله اس طرح يہ لوگ حقيقت ميں انكارِ حديث كے ذريعے دين كى جڑ كهود رہے ہيں ۔"( تفہیم القرآن، ج2، ص543 تا 545)

اس بحث كو مختصر كرتے ہوئے، آخر ميں ، جناب پرويز صاحب ہى كا ايك اقتباس نذرِ قارئين كررہا ہوں :
 "اس ميں شبہ نہيں كہ دنيا ميں كتب ِسماوى اور حضرات انبيا كرام كى تشريف آورى كا سلسلہ اس غرض و غايت كے لئے ہے كہ دنيا ميں انسان خدا كا فرماں بردار بن كر جئے- گويا انسانى زندگى كا مقصود بالذات' اطاعت ِخداوندى 'ہى ہے، ليكن چونكہ خدا ہر ايك كے سامنے نہيں آتا، نہ ہرايك سے كلام كرتا ہے- اس لئے انسانوں كو پتہ كيسے چلے كہ كس كام ميں اس كى اطاعت ہے اور كس ميں معصيت- اس كے لئے اس نے اپنے پيغامات علىٰ التواتر دنيا ميں بهيجے اور ان پر كاربند ہونے كا حكم فرمايا، تو گويا كتابوں پرعمل پيرا ہونا درحقيقت اطاعت ِخدا ہى تها ليكن جيسا كہ اوپر ذكر آچكا ہے، كتاب بلاتعميل يہ واضح نہيں كرسكتى كہ اس كے احكام پر كس شكل اور كس نوعيت سے عمل پيرا ہونا چاہئے- اس لئے انسانوں ميں رسول منتخب كئے گئے تاكہ وہ ان احكام پر خود عمل پيرا ہوكر دوسروں كے لئے ايك اُسوہ قائم كريں ، لہٰذا حكم ديا گيا كہ رسول كى اطاعت كرو- مقصودِ آخرى يا منتہىٰ اگرچہ اطاعت ِخدا ہى تها، ليكن بجائے اس كے كہ اس اطاعت كى شكل ہر ايك كى اپنى مرضى يا زيادہ سے زيادہ فہم و ادراك پر چهوڑا جاتا، حكم دے ديا كہ اپنى رائے كو دخل نہ دو، بلكہ جس طرح سے يہ رسول كركے دكهاتا ہے يا كرنے كا حكم ديتا ہے اس كے مطابق كرتے جاوٴ، يہى اطاعت خدا ہوجائے گى : ﴿مَّن يُطِعِ الرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّ
ـهَ...﴿٨٠﴾...سورۃ النساء﴾ "جس نے رسول كا حكم مانا اس نے گويا خدا كى اطاعت كى-"
 چنانچہ انبياءِ سابقہ كے حالات سے پتہ چلتا ہے كہ انہوں نے بهى اپنى اپنى قوم كو خدا كى اطاعت كا جو سبق ديا تو انہى الفاظ ميں كہ ہمارى يعنى رسولوں كى اطاعت كرو- سورة الشعراء ميں سب سے پہلے حضرت نوح
سے يہ الفاظ مذكور ہيں : ﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُونِ﴾ "اللہ سے ڈرو اور ميرى تابعدارى كرو-"
بعينہ
يہى الفاظ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعيب  كى زبان سے، اسى جگہ مذكور ہيں ، چنانچہ اسى حقيقت ِعظمىٰ كو قرآن نے اجتماعى طور پر بطورِ حصر، ان الفاظ ميں بيان فرمايا ہے:﴿وَماَ أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ﴾ "ہم نے ہر رسول كو اس لئے بهيجا كہ خدا كے حكم سے اس كى اطاعت كى جائے-"
 گويا رسول كى اطاعت ، خدا كے حكم سے ہے، ليكن اطاعت اس كى ضرور ہے، يہى وجہ ہے كہ اللہ تعالىٰ نے كہيں يہ حكم ديا ہے كہ﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُمْ...﴿٣﴾...سورۃ الاعراف﴾ "اُس كى پيروى كرو جو تمہارے رب كى طرف سے اتارا گيا ہے-"
اور كہيں نجات و سعادت كو اتباع رسول عربى كے ساتھ مشروط كيا گياہے، چنانچہ حضرت موسىٰ 
كى دعا كے جواب ميں فرمايا كہ تمہارى قوم ميں سے ہمارى رحمت ان كے ساتھ ہوگى: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّ‌سُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَ‌اةِ وَالْإِنجِيلِ...﴿١٥٧﴾...سورۃ الاعراف﴾ "جو اتباع كريں گے اس رسول و نبى اُمى كا جس كا ذكر يہ لوگ اپنے ہاں تورات اور انجيل ميں لكها ہوا پاتے ہيں -"
 تو اس كا مطلب يہ نہيں كہ (نعوذ باللہ) ان احكام ميں تضاد ہے كہ كہيں قرآن كے حكم كا اتباع ہے اور كہيں رسول كے اتباع كا- بلكہ اصل يہ ہے كہ رسول كا اتباع ہى قرآن كا اتباع ہے كيونكہ رسول كو خود حكم ديا گيا ہے كہ﴿وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ...﴿٢﴾...سورۃ الاحزاب﴾ "اور جو تمہارے ربّ كى طرف سے تم پروحى كى جاتى ہے، اس كا اتباع كرو-"
 لہٰذا ان احكام كى موجودگى ميں اب يہ كسى كى اپنى مرضى و منشا كے ماتحت نہ رہا كہ جس طرح جى چاہے قرآن كا اتباع كرلے بلكہ قرآن كا اتباع ہو ہى اس شكل ميں سكتا ہے جس شكل ميں رسول نے كيا يا كرنے كا حكم ديا۔( معارف، اپریل 1935ء ، ص280 تا 282)
 قدرے اور آگے چل كر پرويز صاحب لكهتے ہيں - اور نبى اكرمﷺكے مجسمہ تعميل قرآن اور اُسوہٴ حسنہ كى حيثيت سے يوں استدلال كرتے ہيں :
 "چونكہ اس تعميل اور نمونہ كے بغير خدا كى اطاعت ممكن نہ تهى، اس لئے جہاں قرآنِ كريم ميں ﴿أَطِيعُوا اللَّ
ـهَ﴾ آيا ہے، اس كے ساتھ ہى ﴿وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ﴾ بهى آيا ہے- كہيں ايك جگہ بهى اكيلا ﴿أَطِيعُوا اللَّـهَ﴾ نہيں آيا اور چونكہ ﴿وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ﴾ ميں اطاعت خداوندى خود بخود آجاتى ہے، اس لئے خالى ﴿أَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ﴾ قرآن ميں بعض جگہ آيا ہے، مثلاً ﴿وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْ‌حَمُونَ ﴿٥٦﴾...سورۃ النور﴾ "رسول كى اطاعت كرو تاكہ تم پر رحم كيا جائے-" اور جہاں جہاں ﴿أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ﴾ آيا ہے ، وہاں درحقيقت ﴿أَطِيعُوا اللَّـهَ﴾ سے مراد اطاعت ِرسول ہى ہے۔( معارف ، اپریل 1935ء ، ص 282 تا 283)
يہ اقتباسات، منكرين حديث كے خلاف لكهے جانے والے اس مقالے سے مقتبس ہيں جو اس دور ميں پرويز صاحب نے لكها، جب وہ ذہنا ً اور قلبا ً حديث ِنبوى اور سنت ِرسول سے منحرف ہوچكے تهے ليكن مسلم عوام اور علماے كرام ميں مقبوليت(Popularity) پالينے كے لئے وہ اپنے قلم سے ان ہى خيالات كو پيش كرنے پر مجبور تهے جو عامة الناس ميں اور علماء كرام ميں سلفا ً و خلفا ً مقبول تهے- ان خيالات كے اظہار كى غرض و غايت خواہ كچھ بهى ہو ليكن يہ خيالات بہرحال درست، صحيح، مطابق قرآن اور موافق اسلام تهے، ليكن جب بعد ميں اس بنيادى مسئلہ ميں پرويز صاحب نے قلا بازى لگائى تو پهر ان كا تكيہ كلام ہى يہ بن گياكہ__ "رسول كى اطاعت بهى كتاب كى پيروى كے ذريعہ ہوگى" اور مغربى معاشرت كے جملہ عادات و اطوار اور اشتراكيت كا پورا نظام اور فرنگى تہذيب كا ہر فكر اور فلسفہ جو من پسند ٹھہرا، اسے يہ كہہ كر قبول كرليا كہ "يہ مطابق قرآن ہے-" اور يوں اللہ تعالىٰ كے دين كى تكميل ہوئى۔
خلاصہ:
 كتاب اللہ كے ساتھ، حضرت محمدﷺكا تعلق دو طرح كا ہى ممكن ہے:اوّلاً _ يہ كہ كتاب آپ پر اللہ كى طرف سے نازل ہوئى ہو اور آپ بحیثیت ِرسول اس كتاب كى تبیین كے ذمہ دار ہوں - ہمارے نزديك كتاب اللہ كے ساتھ رسول اللهﷺكے تعلق كى يہى نوعيت ہے۔
 ثانياً_ يہ كہ كتاب آپ كى تصنيف ہو اور آپ خود اس كتاب كے مصنف ہوں - كتاب اللہ كے ساتھ آپ كے اس تعلق كے قائل كفارِ عرب تهے- تاہم اگر كتاب اللہ كے ساتھ حضور اكرم ﷺ كا تعلق، تصنیف اور مصنف كا تعلق ہى مانا جائے تب بهى اس تبیین و تفسیر كو قبول كئے بغير چارہ نہيں جو خود مصنف نے پيش كى ہے- خود مصنف كى اپنى تشريح كو چهوڑ كر كسى كا اپنى توضيح كرنا يا كسى تيسرے فرد كى تبیین كو تبیین مصنف كے مقابلے ميں قبول كرنا انتہائى نامعقول طرزِعمل ہے-
 قرآن كريم كى رو سے حضورِ اكرمﷺ اُسوئہ حسنہ بهى ہيں ، مگر ہرطرح كے تمام انسانوں كے لئے نہيں بلكہ صرف ان افراد كے لئے ،"جو اللہ اور يومِ آخرت كى اميد ركهتے ہيں اور يادِخداوندى كو بكثرت مستحضر ركهتے ہيں -" ﴿لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُو اللَّ
ـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ اللَّـهَ كَثِيرً‌ا ﴿٢١﴾...سورۃ الاحزاب﴾ اس آيت كى وضاحت ميں کسی زمانے میں خود پرويز صاحب نے لکھا تھا :
 "يہ آيت آپ اپنى تفسير ہے يعنى ايك شخص جو خدا سے بہت ڈرتا ہے اور اسے يقين ہے كہ جو كچھ اس دنيا ميں كيا جاتا ہے، ايك دن خدا كے حضور پہنچ كر اس كى جوابدہى ضرور ہوگى- اب جس شخص كا يہ ايمان و يقين ہو لامحالہ وہ يہى چاہتا ہے كہ اسے معلوم ہوجائے كہ وہ كون سى شاہراہ حقيقت ہے جس پرگامزن ہوكر وہ اس منزل مقصود كو پالے گا اور ادہر ادهر ضال ومغضوب (ذليل و خوار) نہيں ہوتا پهرے گا- اس لئے فرمايا كہ تردّد كى كيا ضرورت ہے، رسول كى زندگى كا نمونہ سامنے ہے، اس ہادئ صراط مستقیم كے نقوش قدم موجود ہيں - بلا خوف و خطر ان نشانوں پر چلتے جاوٴ، كسى قسم كا بهى خوف وخطر نہ ہوگا۔( معارف ، اپریل 1935ء ، ص279 تا 280)

kya dusre nabiyo per bhi kitab ilahi ke ilawa wahi nazil hui ?





جواب:
انبیاءسابقین پر کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی نازل ہوتی تھی۔ چند مثالیں پیش ہیں :

آدم علیہ السلام:

اللہ تعالی فرماتا ہے:
قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَن
ْۢبِئْھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ (بقرہ:۳۳)اے آدم فرشتوں کو ان کے نام بتادو۔
پھر ارشاد فرمایا:
وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ (بقرۃ:
۳۵۵)اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور خوب کھاؤ جہاں سے جی چاہے مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔
لیکن شیطان کے بہکانے سے انہوں نے اس درخت میں سے کھا لیا۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰى(طہ:
۱۲۱)آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گئے۔
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّ‌بِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ
ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّ‌حِيمُ ﴿٣٧٧﴾ قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾ (بقرۃ)۔
 آدم علیہ السلام کو ان کے رب کی طرف سے چند کلمات سکھائے گئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی۔ بیشک اللہ تواب اور رحیم ہے۔ ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اترو، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو وہ بے خوف و بےغم ہو گا۔
 آدم علیہ السلام جنت سے اتارے جاتے ہیں۔ اس وقت کتاب ہدایت بھیجنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ گویا ابھی تک کتاب نہیں آئی تھی لیکن اللہ تعالی آدم علیہ السلام سے باتیں کرتا تھا۔ حتی کہ اس کتاب سے پہلے اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو چند کلمات بھی سکھائے تھے جن کے ذریعہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ ثابت ہوا کہ کتاب اللہ کے علاوہ بھی آدم علیہ السلام پر وحی آتی تھی۔

موسی علیہ السلام :
اللہ تعالی فرماتا ہے:
فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَىٰ ﴿١١﴾ إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ
ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢٢﴾ جب موسی علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو ان کو پکارا گیا: اے موسیٰ! میں تمہارا رب ہوں، اپنی جوتیاں اتار دے۔
فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ ﴿١٣﴾ سن جو کچھ وحی کی جا رہی ہے۔
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِ‌ي ﴿١٤﴾ میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔
پھر اللہ تعالی نے پوچھا:
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ ﴿١٧﴾ اے موسیٰ: تیرے ہاتھ میں یہ کیا ہے؟
پھر عصا اور ید بیضاء کے معجزات عطا ہوئے۔ پھر ارشاد ہوا:
اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْ‌عَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ﴿٢٤﴾ فرعون کے پاس جا۔ وہ بہت سرکش ہو گیا ہے۔
 الغرض موسیٰ علیہ السلام فرعون کو تبلیغ کرتے ہیں۔ جادوگروں سے مقابلہ ہوتا ہے اس موقع پر پھر اللہ تعالی نے فرمایا:
لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَىٰ ﴿٦٨﴾(طہ:
۶۸) ڈرو مت تم ہی غالب رہو گے۔
 پھر موسیٰ علیہ السلام وہاں سے ہجرت کرتے ہیں۔ فرعون غرق ہو جاتا ہے موسی علیہ السلام وادی سینا میں تشریف لے آتے ہیں۔ پھر اس موقع پر ان کو کتاب دی جاتی ہے۔ :
 وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ‌ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا
ۚ ۔۔۔۔﴿١٤٥﴾ (سورۃ الاعراف)
 اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہر قسم کے نصائح اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی اور حکم دیا کہ اس کو قوت کے ساتھ پکڑو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان اچھی باتوں پر عمل کرے۔
 اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام قوم کے پاس واپس آئے اور بچھڑا پوجنے کی وجہ سے ان پر اتنا غصہ آیا کہ وہ تختیاں زمین پر پٹخ دیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَاَلْقَى الْاَلْوَاحَ (الاعراف:
۱۵۰) اور تختیاں پٹخ دیں
وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ (الاعراف:
۱۵۴)
اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو تختیاں اٹھا لیں۔
 کتاب تو اب ملی ہے لیکن اس سے پہلے اللہ تعالی موسیٰ علیہ السلام پر بےشمار مرتبہ وحی کر چکا تھا۔ کتاب دینے کے بعد فرمایا: اسے مضبوطی سے پکڑو اور تو اور کتاب جب نازل ہوئی تو ایسی کہ اس میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر طرح کی تفصیل تھی لیکن اس کے بعد بھی وحی جاری رہی۔ موسیٰ علیہ السلام ستر آدمیوں کو کوہِ طور پر لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالی کو دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک بجلی آتی ہے اور سب مر جاتے ہیں۔ موسی علیہ السلام دعا کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے:
۔۔۔۔عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ
ۖ وَرَ‌حْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۔۔۔﴿١٥٦﴾(سورۃ الاعراف:۱۵۶۶) میں اپنا عذاب پہنچاتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔
الغرض کتاب الٰہی سے پہلے بھی وحی جاری ہے، اور کتاب الٰہی کے بعد بھی وحی جاری ہے۔
 خلاصہ: اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے مختلف مواقع پر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے، اے موسیٰ یہ مقدس وادی ہے جوتے اتار دو، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ اسے زمین پر ڈال دو، ڈرو نہیں، میرے پاس رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ا کو اٹھا لو، یہ پھر لاٹھی بن جائے گا۔ ہاتھ کو جیب میں ڈالو۔ فرعون کے پاس جاؤ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا۔ انہوں نے جواب دیا ڈر لگتا ہے۔ کہیں وہ قتل نہ کر دے۔ دعا کی مجھے ایک وزیر چاہیے۔ میری زبان صاف نہیں۔ اس کی اصلاح فرمایئے۔ جواب ملا: اچھا یہ باتیں قبول۔ وغیرہ وغیرہ۔ حکم ملا گائے کو ذبح کرو۔ قوم نے طرح طرح کے بےہودہ سوالات کئے اللہ تعالی جواب دیتا رہا۔ غرض یہ کہ اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو کہ قرآن میں مذکور ہیں۔ برق صاحب انصاف سے بتائیے کیا یہ سب باتیں اس کتاب الٰہی میں موجود تھیں۔ جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی۔

یوسف علیہ السلام:
ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ
ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِ‌هِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ ﴿١٥٥﴾ (سورۃ یوسف)
 جب وہ یوسف علیہ السلام کو لے کر چلے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کو کنویں میں ڈال دیا جائے تو ہم نے یوسف کو وحی بھیجی کہ تم ان کو اس کام کی خبر دو گے اور وہ نہ سمجھتے ہوں گے۔
 یوسف علیہ السلام ابھی بچے ہیں لیکن وحی آرہی ہے ۔
دیگر انبیاء کرام سے اللہ تعالیٰ کی گفتگو: 
 اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف عذاب الٰہی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ
۷۴ۭ (سورۃ ھود) ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: اے ابراہیم اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (سورۃ ھود:۷۶) اس بات کو جانے دو۔ کیا ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے مجادلہ، اور سوال و جواب صحف ابراہیم میں موجود تھا۔؟
زکریا علیہ السلام دعا کرتے ہیں۔ اے اللہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں، مجھے فرزند عنایت فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اچھا تمہارے ہاں لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ ہو گا اور یہ نام پہلے کسی کا نہیں ہوا۔ پوچھا اے اللہ! کیسے ہو گا؟ میں بوڑھا ہوں۔ میری بیوی بانجھ ہے۔ جواب ملا: یہ میرے لئے آسان ہے، عرض کیا: اے اللہ! اس کی نشانی مقرر فرما دے۔ جواب دیا اس کی نشانی یہ ہے کہ تین رات تک بات نہ کر سکو گے (مریم:۳۰)۔ کیا یہ باتیں حضرت زکریا علیہ السلام کی کتاب میں موجود تھیں۔؟
نتیجہ: قرآن مجید کے محولہ بالا واقعات سے ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے پاس کتاب الٰہی کے علاوہ بھی وحی آیاکرتی تھی۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سید المرسلین کے پاس سوا قرآن کے دوسری وحی نہ آئے۔ ضرور آئی تھی اور ان سے زیادہ آتی تھی۔ ورنہ لازم آئے گا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں آپ اس نعمت سے محروم تھے۔ آپ ﷺ کی قدم قدم پر رہنمائی کی گئی۔ اس رہنمائی کی روشنی میں آپ نے اپنی زندگی میں جو کچھ کیا اور جو کچھ فرمایا وہ حدیث کی شکل میں محفوظ ہے۔

munkareen hadees ki hadees dushmani main badtareen ilmi khayaniyate




منکرین حدیث اور ابن قتیبہؒ کے حوالے سے بدترین علمی خیانت:
ابن قتیبہؒ پہلے خود معتزلہ سے متاثر اور ان کے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ پھر جب انھیں معتزلہ کی جسارت اور احادیث صحیحہ کو بھی رد کرنے کا علم ہوا اور دیکھا کہ وہ قرآن کی تفسیر دوسری قرآنی آیات کو توڑ مروڑ کر اپنے عقائد باطلہ کے ہم آہنگ بنا لینے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ان سے الگ ہوگئے۔ ”مختلف الحدیث“ میں ابن قتیبہ نے معتزلہ کے پوشیدہ عیوب و نقائص کو طشت از بام کیا ہے۔ سب سے پہلے نظام معتزلی کا ذکر کیا ہے جس نے حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سب کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ پھر ان اعتراضات کا ازالہ کیا ہے اس کے بعد مشہور معتزلین ابو ہذیل علاف، عبیداللہ بن حسن اور ہشام بن حکم کا ذکر کر کے ان کی یا وہ گوئی اور تناقضات پر تبصرہ کیا ہے۔ بعد ازاں معتزلین کے خطیب جاحظ کا ذکر کیا ہے کہ جھوٹا آدمی تھا۔ خود حدیثیں وضع کرتا تھا اور صحیح حدیثوں کا مذاق اڑاتا تھا۔ پھر اس کے بعد معتزلہ کے دیگر مزعومات باطلہ اور عجیب و غریب اقوال درج کیے ہیں اور متعارض حدیثوں کی توجیہہ پیش کی ہے۔
 
امام ابن قتیبہ کی یہ کتاب منکرین حدیث کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوئی وہ اس کتاب سے حدیث پر اعتراضات و مطاعن تو بعینہ نقل کر دیتے ہیں مگر ان کے جو جوابات ابن قتیبہ نے دیئے ہیں یا ان پر جو جرح یا تبصرہ کیا ہے اسے مطلقاً نظر انداز کر جاتے ہیں اور اعتراضات بھی اس انداز سے پیش کرتے ہیں گویا یہ صحابہ و اہل حدیث کے بارے میں ابن قتیبہ کے ذاتی افکار و آراءہیں ۔ منکرین حدیث کو جامع بیان العلم کے
۳۸۱ ابواب میں سے مندرجہ ذیل چار باب بہت پسند ہیں: 

۱۔  کراہیة کتابة العلم و تخلیدہ فی الصحف یعنی علم کو لکھنے کی اور اسے ہمیشہ لکھا رکھنے کی ناپسندیدگی۔ ”کیونکہ بعض صحابہ حدیث حفظ ہو جانے کے بعد اسے مٹا دیتے تھے۔ 
۲۔  ”اختلاف العلماءفی بعض الفروع“ یہ باب ان فروعی اختلاف کو اچھال کر احادیث سے برگشتہ کرنے کے لیے بہترین مواد کا کام دیتا ہے۔ 
۳۔  من ذم الاکثار من الحدیث بغیر تفہیم و تفقہ یعنی ان لوگوں کے اقوال جنھوں نے حدیث میں فہم و تفقہ پیدا کیے بغیر تکثیر روایت کی مذمت کی ہے۔ 
۴۔  ”لایقبل قول بعض العلماءفی بعض الاببینة“ یعنی ایک عالم کی دوسرے عالم کے حق میں جرح بغیر دلیل کے ناقابل قبول ہے۔ اس باب کے عنوان سے صرف نظر کر کے منکرین حدیث صرف وہ اقوال درج کر دیتے ہیں جو کسی عالم نے دوسرے کے خلاف کہے اور اس طرح جرح اور تعدیل کے فن کو بے کار ثابت کرتے ہیں اس کتاب کے باقی ۹۷۱ ابواب منکرین حدیث کے خیال میں بے کار اور ناقابل التفات ہیں۔ 
اسی طرح توجیہہ النظر میں تیسری فصل [ص
۱۱، تا ۹۱] منکرین حدیث کے لیے بڑے کام کی چیز ہے اس کا عنوان ہے ”الفصل الثلث فی تثبت السلف فی امر الحدیث خشیة ان یدخل فیہ مالیس منہ یعنی حدیث کے معاملہ میں سلف کی تحقیق اس خدشہ کے پیش نظر کہ مبادا حدیث میں وہ شامل نہ ہوجائے جو حقیقتاً اس میں شامل نہیں۔ 
یہی صورت تذکرة الحفاظ للذہبی کی ہے۔ ان تمام کتابوں سے مصنف کی منشاءکے علی الرغم عبارتیں نقل کر کے اس کا غلط سلط مطلب عوام کے سامنے پیش کر کے انھیں حدیث سے بدظن اور برگشتہ کرنے کا فریضہ منکرین حدیث مدتوں سے سر انجام دے رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک فیس بکی منکر حدیث نے احادیث پر اعتراض کے لیے ایک روایت کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں:
 "یہ کہتے ھیں کہ خیبر سے رسول اللہ ﷺ کو ایک گدھا مال غنیمت میں ملا جس نے رسول اللہ ﷺ سے انسانی زبان میں کلام کیا اور بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے دادا کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تھا اور کہا تھا کہ اس کی پشت سے ایک ایسا گدھا شریف پیدا ھو گا جس پر آخری نبی سواری کرے گا- اس گدھے نے مزید کہا کہ میری نسل میں ساٹھ گدھے ایسے پیدا ھوئے ھیں کہ جن پر سوائے رسولوں کے کسی نے سواری نہیں کی اور میرے ماں باپ آپ پر فدا آج مجھے آپ کی سواری کا شرف حاصل ھو رھا ھے- میرا نام یزید بن شھاب ھے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا نام "یعفور" ھے، اس کے بعد آپ نے اس کو آواز دی یا یعفور،، لبیک یا رسول اللہ، گدھے نے جواب دیا،، آپ ﷺ نے اس سے سوال کیا کہ تمہیں عورت دیکھ کر ھوشیاری آتی ھے؟ اس نے کہا کہ نہیں ((میں اولی الاربۃ من الرجال میں سے ھوں لہذا مجھ سے پردہ واجب نہیں ھے))
اس حدیث میں اور بھی بہت کچھ ھے، مگر میرا مقصد اس روایت کا یہی حصہ ھے، گدھے کے رسول اللہ ﷺ سے کلام پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اللہ کے رسول در اصل اللہ کے نمائندے اور نائب ھوتے ھیں وہ ھر چیز سے کلام کر سکتے ھیں اگر اللہ پاک چاھے تو- جیسے حضرت سلیمان کا حیوانات سے گفتگو کرنا، مگر رسول اللہ ﷺ کی گفتگو میں سے جو کردار برآمد کیا ھے راوی نے وہ قابلِ اعتراض ھے، ان راویوں کے نزدیک نبئ کریم ﷺ جنس زدہ تھے، آپ کا ذھن ھر وقت جنسی سوچ میں ھی مصروف رھتا تھا، معاذ اللہ ثم معاذ اللہ، نقلِ کفر کفر نباشد،،، ایک گدھا رسول اللہ ﷺ سے معجزانہ گفتگو کر رھا ھے، جس کے دوران وہ اپنے ماضی کے کئ قصے سناتا ھے مگرجب رسول اللہ ﷺ اس سے مخاطب ھوتے ھیں تو بس ایک ھی جملہ بولتے ھیں اور وہ جملہ جنس سے متعلق ھے کہ " کیا تجھے عورتیں دیکھ کر ھوشیاری آتی ھے؟ اگر ان اناث کو گدھے کی مؤنث یعنی گدھیاں بھی لے لیا جائے تو کیا گدھے سے بھی پاک دامنی مطلوب ھے؟ یا گدھے کو گدھی دیکھ کر ھوشیاری آ جائے تو کیا یہ کبیرہ گناہ اور بدنظری ھے؟ ایک صاحب شریعت نبی گدھے سے یہ سوال کر کے کیا حاصل کرنا چاھتا ھے؟ کیا اگر گدھا کہہ دیتا کہ جی ھاں مجھے عورتیں دیکھ کر کھلبلی سی ھوتی ھے تو رسول اللہ عورتوں کا اس گدھے سے پردہ کرا دیتے؟ روایت اور اس کے حوالہ جات موجود ھیں اور یہ روایت اھلسنت کے یہاں ھی نہیں بلکہ شیعہ لٹریچر میں کلینی کی روایت میں موجود ھے!"

تبصرہ:
موصوف
  نے اس روایت کے حوالے تو بہت بیان کیے ہیں لیکن علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب "الموضوعات" کا حوالہ دینا بھول گئے ہیں شاید۔۔۔!
علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منگھڑت ہے اور جس نے بھی گھڑی ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔ اور جس نے بھی اسے گھڑا ہے، اس کا مقصد اسلام کا مذاق اڑانا تھا۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی "اصل" نہیں ہے اور اس کی سند کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ امام سیوطی، امام شوکانی، علامہ البانی نے اس حدیث کو "موضوع" [
fabricated]، امام ابن کثیر، امام ابن اثیر نے "منکر" اور امام ذہبی رحمہم اللہ نے "باطل" کہا ہے۔ دعا کریں ان صاحب کے ہاتھ کتاب "الموضوعات" کا ترجمہ نہ لگ جائے، یقین مانیے، اگر انہوں نے وہاں سے حدیثیں نقل کرنا شروع کر دیں، تو آپ سب کے لیے حدیث کا دفاع بہت مشکل ہو جائے گا۔
موصوف نے ابن اثیر کا جو حوالہ دیا ، اس حوالے کو پورا پیش کرنا گوارہ نہیں کیا
  ۔امام ابن اثیر رحمہ اللہ اس واقعے کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ قصہ سند اور متن کے اعتبار سے باطل ہے اور کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس قصے کو میرے ریفرنس سے کسی کو بیان کرے سوائے اس کے کہ جو حکم میں نے بیان کیا ہے، وہ بھی ساتھ ہی نقل کرے۔۔۔ هذا حديثٌ منكرٌ جداً إسناداً ومتناً ، لا أحلُ لأحدٍ أن يرويهِ عني إلا مع كلامي عليهِ۔۔ تو انہوں نے تو یہ بتلانے کے لیے نقل کیا ہے کہ یہ باطل اور منکر روایت ہے۔
 اس قصے کے بارے ابن کثیر کا حوالہ نقل کیا حالانکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قصے کے نقل کرنے سے پہلے ہی کہا ہے: وقد أنكرهُ غيرُ واحدٍ من الحفاظِ الكبارِ .. کہ کبار محدثین اس قصے کی صحت کا انکار کرتے ہیں۔۔
سیوطی کا حوالہ دیا حالانکہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے اللآلی المصنوعہ میں اس کو موضوع کہا ہے۔۔
منکرین حدیث کی تہی دامنی ملاحظہ فرمائیے
  موضوع روایات کی دیوار پر کھڑے ہو کر انکار حدیث کا مقدمہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
استفادہ تحریر: انکارحدیث، ماہنامہ ساحل اگست20077، یعفورگدھے کا قصہ، حافظ زبیر

 فوزیہ جوگن نواز 

Wednesday, November 23, 2016

HAZRAT AYESHA R.A KI 9 UMER ME SHADI ??



اسلام لٹ گیا برباد ہوگیا توبہ توبہ نبی ﷺ کی ذات اقدس پے اتنا بڑا بہتان انہونے 9 سال کی بچی سے شادی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بڑی سنسنی خیز بات ہے اکثر لوگ سن کر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور اپنی عقل شریف پے پردہ ڈال کر واویلا مچا دیتے ہیں یہ گھڑی ہوئی احادیث ہیں یہ ایرانی سازش ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی عرض یہ ہے کے اسلام نے کہیں بھی اس چیز کو فرضیت کے کھاتے میں نہیں ڈالا ۔۔۔۔ نکاح کے لئے جو اہم شرط رکھی ہے وہ بلوغت ہے ۔۔۔ اس کے بعد دونوں فریقین کی رضامندی ۔۔۔ باقی کے اختیارات والدین کو دئے ہیں وہ کوئی اچھا رشتہ ملنے پر اپنی بچی کا نکاح کروادیں یا اسے نا معلوم مدت تک محلے کی رونق بناکے رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر لڑکا لڑکی راضی تھے انکے اہل وعیال والے راضی تھے تو آج 1400 سال بعد آپ کو مروڑ اٹھنے چے معنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
جب کے ان کے بڑے بھائی ملحد حضرات کا منہ تو صرف اسی بات پے گودا ہوجاتا ہے 9 سال کی بچی سے نکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ارے بھائی اس میں اتنی حیرانگی و پریشانی کی کیا بات ہے بھلا ۔۔۔؟؟ یہ کوئی دنیا کا پہلا کیس تو نہیں ہے ۔۔۔؟؟ 
یہاں تو فریقین کی رضامندی سے ایک جائز معاہدہ " نکاح " انجام پایا تھا ۔۔۔ 
آپ کے ان مغربی بابوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں نا جائز تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں ۔۔۔۔ 
چند نمونے پیش خدمت ہیں امید ہے افاقہ ہوگا ۔۔۔ اور اگر غیرت کی تھوڑی بھی مقدار آپ لوگوں میں باقی ہوگی تو ان کے بارے میں بھی ضرور شور و گل کریں گے ۔۔۔۔
اس کے بعد اب یہاں ہمارے منکر حدیث پروزی بھائیوں کی طرف سے اگلا سوال داغ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں صرف جسمانی بلوغت شرط نہیں ہے ذھنی بلوغت ( میچوئرٹی ) بھی لازم ہے ۔۔۔
چلیں مان لیا ۔۔۔۔ 
ہمارا سوال یہ ہے کے آپ نے یہاں بھیٹھ کر کونسی دوربین ایجاد کرلی ہے جس سے 1400 پیچھے دیکھ کر بتا رہے ہیں کے امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ذھنی طور پر بالغ نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ذہنی بلوغت ہے کیا ۔۔۔؟؟ کیا اس کا کوئی وقت معین ہے ۔۔؟؟ اگر کوئی لڑکی اپنا شوہر ، گھر گرستی اچھے طریقے سے سنبھال لیتی ہے تو وہ آپ کے نذدیک ذہنی بالغ ہوگی یا نہیں ۔۔۔؟؟ اگر آپ کو بغض صرف سیدہ عائشہ سے ہے تو وہ بات الگ ہے ۔۔۔ باقی اسی معاشرے میں ھزاروں کسیز ایسے بھی مل جاتے ہیں جن میں ایک 30 سال کی عورت سے بھی گھر نہیں سمھالا جاتا تو کیا اس کو بھی اس نا بالغوں کی لسٹ میں ڈالا جائگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
اگر ہم ذخیرہ احادیث سے یہاں وہ احادیث و اقوال پیش کردیں جن سے انکی ذہنی بلوغت اس حد تک واضع ہوجائے صحابہ کرام اکثر آپ سے دقیق مسائل کے لئے رجوع ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو قابل قبول ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پہر پرویزی حضرات ایک "جذباتی اعتراض" یہ کرتے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی 9 سال کی بیٹی یا بہن کو 50 سال کے شیخ کے نکاح میں دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ "جدید ذہن" کو یہ اعتراض "واقعی اپیل" کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسی جدید ذہن رکھنے والوں سے سوال یہ ہے کہ اگر آج کوئی 50 سال کا شیخ انکی 19 سال کی بیٹی یا بہن کے لئے رشتہ بھیجے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو ہنسی خوشی رخصتی کے لئے تیار ہوجائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اگر وہ اسے معیوب سمجھیں گے تو پھر 9 کو 19 بنانے سے کیا ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کم از کم 29 یا 39 تو بناؤ بھائی تاکہ بات پوری بن سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے بڑے بھائی ملحد اسی اعتراض کو کچھ مرچ مصالہ کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔۔۔ کہتے ہیں 50 سال کے بڈھے کو کون اپنی 9 سال کی لڑکی کون دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آپ اس وقت موجود تھے آپ کو کیسے پتا چلا کے نبی ﷺ بڈھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ صرف عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے عکاسی کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ کی اطلاع کے لئے عرض کردوں کے بالوڈ اسٹار شاھ رخ خان 45 کراس کر چکے ہیں اور سلمان خان صاحب 42 میں چل رہے ہیں اور آپ کے پی کے صاحب بھی 44 کے ہوچکے ہیں ۔۔۔ جن کی فوٹوز کو چما چاٹی کر کے آپ کی 9 سال کی بچیاں رات کو تکئے کے نیچے رکھ کر سوتی ہیں ۔۔۔۔۔ اگر کسی ملحد میں ذرا بھی غیرت ہوگی تو ان اسٹارز کی فینز اپنی ان ساری بہنوں، بیٹیوں کو کل سے ہی طعنے دینا شروع کردیں گے شرم نہیں آرہی بڈھوں پے مر مٹی ہو ۔۔۔۔۔ دنیا میں جوان مر گئے ہیں ۔۔۔۔ یہ بات الگ ہے آگے سے جواب ملے گا پپا لگتا ہے آپ سھٹیا گئے ہو اپنی عمر 60 سال ہوتے ہوئے بھی مما کو روز کہتے ہو ابھی تو میں جوان ہوں اور ان کو بڈھا کہ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہی عرض ہے کہ 1400 پہلے ہونے والے واقعہ کو آج کے تناظر میں دیکھیں گے تو عجیب لگے گا لیکن اس دور میں یہ کوئی عجیب اور انہونی چیز نہیں تھی ورنہ معترضین کے پاس اس سے زیادہ سنہری موقعہ کیا ہوتا کہ اسے لے کر خوب پروپگنڈا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری بات یہ کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی ماضی بعید تو چھوڑیں ماضی قریب میں بھی ہوئی ہیں۔بلکہ اگر آپ کو آج بھی امریکہ کی تین ریاستوں میں لڑکی کے لیے مقرر کی گئی شادی کی عمروں کا بتایا جائے تو آپ ضرور حیران ہوں گے۔ نیچے ان تینوں ریاستوں کے نام اور لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر درج کی جاتی ہے:
۱۔ ریاست Massachusetts لڑکی کی کم سے کم عمر بارہ سال
۲۔ ریاست New Hampshire کم از کم عمر تیرہ سال
۳۔ ریاست New York کم سے کم عمر چودہ سال
یہ پرانی بات نہیں بلکہ آج بھی ان تینوں ریاستوں میں لڑکیوں کے لیے یہی عمر مقرر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھردیکھیں کہ جو لوگ ہمارے ملک میں لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں پر ٹیسوے بہاتے ہیں ان کے اپنے ملک کا یہ حال ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ان کے ہاں لڑکیاں اس سے بھی کم عمری میں تعلق قائم کرلیتی ہیں جس کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ ]سنہ 2014 میں برطانیہ میں ساتویں گریڈ میں پڑھنے والی ایک لڑکی نے بارہ سال کی عمر میں ایک ناجائز بچے کی ماں بن ملک کی تاریخ میں رکارڈ قائم کیا اور اس کا نام گنیز بک میں درج کیا گیا ہے، خبر بی بی سی سمیت پورے عالمی میڈیا پر چلی تھی، آج بھی گوگل پر موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ اگرہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ:
۱۔ سینٹ آگسٹن ]350AD[نے دس سال کی لڑکی سے شادی کی ۔۔۔۔۔
۲۔ کنگ رچرڈ دوئم ]1400AD[نے سات سالہ لڑکی سے شادی کی ۔۔۔
۳۔ ھینری ہشتم ]1500AD[نے چھ سالہ لڑکی سے شادی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ برطانیہ میں سنہ 1929 تک چرچ کے وزراء قانونی طور پر 12 سالہ لڑکی سے شادی کرسکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ قانون میں اس کی اجازت تھی۔ 1983 سے قبل تک مشہور کینن لا کے مطابق پادری بارہ سالہ لڑکیوں سے شادی کرسکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ سنہ 1880 تک امریکی ریاست ڈیلویئر میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 7 سال مقرر تھی، جبکہ کیلیفورنیا میں یہی عمر دس سال مقرر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بینجامن مہر